Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا کے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی، وزیراعظم شہباز شریف کے وعدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا، وفاقی وزیر اطلاعات، ۔امپورٹڈ حکومت نے آٹے پر سیاست شروع کردی ہے۔ محمد علی سیف

شیئر کریں:

خیبر پختونخوا کے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی، وزیراعظم شہباز شریف کے وعدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا، وفاقی وزیر اطلاعات ،

امپورٹڈ حکومت نے آٹے پر سیاست شروع کر دی ہے۔ محمد علی سیف

اسلام آباد(سی ایم لنکس)وزیراعظم شہباز شریف کے خیبر پختونخوا کے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے وعدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ”شہباز سپیڈ”سے سستے آٹے کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بدھ کو وزیراعظم کے سستے آٹے کی فراہمی کا وعدہ پورا ہونے کی تفصیلات جاری کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر خیبرپختونخوا میں 40 روپے فی کلو آٹے کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں 100 موبائل سٹورز نے کام شروع کر دیا ہے، عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے لئے صوبہ خیبر پختونخوا کو ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سستے آٹے کی فراہمی کا منظم سلسلہ بتدریج پورے خیبرپختونخوا میں پھیلایا جائے گا۔ ایبٹ آباد اور پشاور زون میں آٹے کے تھیلے 50 ہزار سے زائدفروخت کئے گئے، ایبٹ آباد اور پشاور زونز میں الگ الگ موبائل سٹورز کے ذریعے سستا آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں دو روز کے دوران سستے آٹے کے 22 ہزار 70 تھیلے فروخت کئے گئے جبکہ پشاور زون میں دو روز میں سستے آٹے کے 23 ہزار 400 سے زائدتھیلے فروخت کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو 40 روپے کلو آٹے کی فراہمی کے لئے 13 جون تک موبائل سٹورز کی تعداد بڑھا کر 200 کر دی جائے گی، 9 جون تک صوبہ خیبرپختونخوا میں آٹے کی فروخت کے عارضی سیل پوائنٹس بھی کام شروع کر دیں گے، 17 جون تک خیبر پختونخوا میں ان عارضی سیل پوائنٹس کی تعداد بڑھا کر 500 کر دی جائے گی،خیبرپختونخوا میں سستے آٹے کی فروخت کے 993 مقامات کو 2000 تک بڑھایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے غیور عوام سے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا ہے، خیبرپختونخوا کے بہادر عوام کی زندگیوں میں آسانی لانے اور 8 سال سے ان کے صوبے میں رکے ترقی کے عمل کو بھی انشاء اللہ آگے بڑھائیں گے

 

 

امپورٹڈ حکومت نے ہر چیز مہنگی کر کے آٹے پر سیاست شروع کر دی ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف

صوبے کی روزانہ کھپت 12 ہزار میٹرک ٹن ہے، امپورٹڈ حکومت 400 میٹرک ٹن آٹے کے 100 ٹرک بھیج کر ڈرامہ رچا رہی ہے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول و ڈیزل سمیت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کرکے اب آٹے پر سیاست شروع کر دی ہے۔ آٹے کے 100 ٹرک بھیج کر ڈرامہ رچایا جا رہا ہے جبکہ صوبے کی روزانہ کی ضرورت 12 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا حکومت 10 لاکھ غریب خاندانوں کے لیے فوڈ پروگرام شروع کر رہی ہے۔ اپنے دفتر سے جاری ایک وڈیو پیغام میں بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا کہ جب سے امپورٹڈ حکومت آئی ہے ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور کھانے کے تیل و گھی سمیت ہر چیز مہنگی کر دی گئی ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو پنجاب سے گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں جبکہ امپورٹڈ حکومت کے پاس ڈرامہ رچانے کے لیے 100 ٹرک ضرور موجود ہیں۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گندم اور آٹے کی قلت کی وجہ محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے مقررہ ہدف سے زیادہ اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری ہے۔ گزشتہ سال 2.8 ملین میٹرک ٹن گندم خریدی گئی تھی جبکہ رواں سیزن میں دُگنی 5 ملین میٹرک ٹن گندم خرید لی گئی ہے جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قلت پیدا ہوئی اور خیبرپختونخوا میں آٹے کی قیمتوں پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت نے خیبرپختونخوا کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 10 کلو آٹے کے 40 ہزار کے قریب تھیلے بھیجے ہیں جو کہ 400 میٹرک ٹن بنتا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی آٹے کی روزانہ کی کھپت 12 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت آٹے پر سیاست کر کے شوبازی نہ د کھائے کیونکہ خیبرپختونخوا کے عوام ان کے سب کرتوتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ انہیں چاہیے کہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف پہنچائیں نہ کہ ڈرامہ بازیوں سے کام لیں اور اس طرح کے پروپیگنڈا کرنے سے گریز کرے۔ معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت فوڈ کارڈ پروگرام کے تحت غریب شہریوں کو ریلیف فراہم کرے گی۔ اس پروگرام سے 10 لاکھ غریب خاندان اور 50 لاکھ شہری مستفید ہوں گے جن کی ماہانہ آمدن 26 ہزار سے کم ہے۔ منصوبے کے تحت مستحق شہریوں کو ماہانہ بنیادوں پر نقد رقم دی جائے گی جس سے وہ اشیاء خوردونوش کی خریداری کر سکیں گے۔ یہ منصوبہ اس ماہ شروع کیا جا رہا ہے۔


شیئر کریں: