Chitral Times

Oct 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قرض اتارنے کی نئی تجویز ۔ محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

قرض اتارنے کی نئی تجویز ۔ محمد شریف شکیب

’قرض اتارو ملک سنوارو‘مہم سمیت ہم نے بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے بڑے جتن کئے مگر بات بنتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بے بس ہوکر دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے رجوع کرتے رہے۔ اور قرضہ دلوانے کے لئے امریکہ اور یورپ سے سفارش کروانے کے ساتھ مالیاتی اداروں کے سخت شرائط پر بھی سرتسلیم خم کرتے رہے۔اگر ہم مکان بنانے، گاڑی خریدنے، شادی کرنے،کاروبار شروع کرنے یا دیگر مقاصد کے لئے مقامی بینکوں سے چند لاکھ کا قرضہ لینے کے لئے رجوع کرتے ہیں تو شرائط کی ایک طویل فہرست تھمادی جاتی ہے۔

اربوں ڈالر کا قرضہ لینے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے لامحالہ شرائط رکھیں گے۔ ہر کوئی اپنے اثاثوں کی واپسی کی ضمانت چاہتا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک خاتون صحافی نے بیرونی قرضہ اتارنے کی ایک ترکیب شیئر کی ہے جو ہمارے دل کو لگی۔اور امر بالمعروف کے جذبے کے تحت ہم اسے بلاکم و کاست ارباب اختیار و اقتدار کے گوش گذار کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہماری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوگی بقول مرزا غالب ”قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں، میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں“موصوفہ کا موقف ہے کہ ہمارے ملک میں وفاقی و صوبائی اداروں، خود مختار اور نیم خود مختار اداروں میں گریڈ سترہ سے بائیس تک ایک کروڑ سے زیادہ افسران کام کر رہے ہیں جن میں انتظامی سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرلز، سپرنٹنڈنٹس، سکولوں کے پرنسپلز، کالجوں کے لیکچررز اور پروفیسرز، ڈاکٹرز، پرائیویٹ سکولوں کے مالکان، پراپرٹی ڈیلرز، تحصیل دار، پٹواری، گرد آور، بزنس مین، فیکٹری مالکان، مل اونرز، بڑے تاجر، درآمد و برآمد کنندگان، سرمایہ داراور چالیس ایکڑ سے زیادہ جائیدادوں کے مالکان شامل ہیں ان سے حکومت بیس بیس ہزار روپے قرضہ لے لے۔

اس کے علاوہ سینٹ، قومی اسمبلی، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے علاوہ کشمیراور گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔ یہ سارے لوگ ارب پتی ہیں حکومت ان سے پانچ پانچ کروڑ روپے قرضہ لے لے۔ گریڈ ایک سے سولہ تک کے سرکاری ملازمین کی تعداد بھی ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے ان سے دو دو ہزار روپے قرضہ لے لے۔ پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کی تعداد بھی چالیس پچاس لاکھ بنتی ہے ان سے پانچ پانچ سو روپے کا قرضہ لیاجائے۔ یہ تمام قرضے ملا کر پانچ کھرب روپے بنتے ہیں حکومت بجٹ میں سے ایک کھرب روپے اس میں شامل کرے تو 34ارب ڈالر سے زیادہ بنتے ہیں۔تین ماہ کے دوران حکومت تمام بیرونی قرضے چکا سکتی ہے۔اگلے تین مہینے تک ان مقامی قرضوں سے دفاع سمیت دیگر ضروریات پوری کی جائیں اور عوام کو بنیادی شہری سہولیات فراہم کی جائیں۔جب بیرونی قرضوں سے جان چھوٹ جائے تو اگلے دو تین سال تک حکومت مقامی لوگوں سے لئے گئے قرضے قسطوں میں ادا کرتا رہے۔

چار سال بعد نہ صرف تمام بیرونی اور اندرونی قرضے ادا ہوں گے بلکہ پاکستان دیگر ممالک کو قرضہ دینے کی پوزیشن میں آئے گا۔ تجویز تو انتہائی معقول ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ لوگوں کا بلیوں پر اعتبادنہیں رہا۔ انہیں جب بھی دودھ کی رکھوالی کی ذمہ داری سونپی گئی انہوں نے سارا دودھ خود پی لیا۔ اسی وجہ سے پوری قوم آج مقروض ہوگئی ہے۔ اپنے چند لاڈلوں کی عیاشیوں کا خمیازہ پوری قوم گذشتہ پچاس سالوں سے بھگت رہی ہے اور ناکردہ گناہ کی سزا سود سمیت ادا کرنی پڑرہی ہے۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس قوم پر ترس آئے اور کسی خدا ترس کو حاکم بناکر بھیجے جس پر لوگوں کو اعتماد ہو کہ وہ امانت میں خیانت نہیں کرے گا تب ہی لوگ اپنے حصے کا قرضہ دیں گے۔بہرحال ہم نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کے مصداق یہ تجویز قوم کے سامنے رکھ رہے ہیں تاکہ اپنے دل کو تسلی دے سکیں کہ ہم نے اپنے حصے کا کام تو کردیا ہے۔

 


شیئر کریں: