Chitral Times

Oct 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔ دنیا کا امن ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

دنیا کا امن فر عون، نمرود اور چنگیز خان کے زما نوں میں بھی خواب تھا آج خلا ئی ترقی اور انٹر نیٹ کے عجا ئبات کی چکا چوند میں بھی دنیا کا امن ایک خواب ہے یورپ کے دوسرے بڑے ملک یو کرین پر روس نے حملہ کیا، یو کرین کے ایک ہوا ئی اڈے پر کھڑا دنیا کا سب سے بڑا ہوا ئی جہاز تباہ ہوا کہتے ہیں کہ یہ جہا ز 5سالوں میں 3ارب ڈالر خر چ سے مر مت ہو سکیگا جو لو گ جنگ میں ما رے جا رہے ہیں ان کی تعداد ہزاروں میں ہے جو زخمی، معذور یا بے گھر ہو رہے ہیں وہ لا کھوں کی تعداد میں ہیں، غیر ملکی طا لب علموں کو نہ پنا ہ کی جگہ ملتی ہے نہ با ہر جا نے کا راستہ ملتا ہے ان المیوں کا کوئی حساب نہیں.

30سال پہلے یو کرین کے پا س ایٹمی طا قت تھی امریکہ اور یو رپ نے کہا ایٹمی پرو گرام ختم کرو، تمہارا دفاع ہم کرینگے تمہیں غم اور پروا کرنے کی ضرورت نہیں 25فروری کو روس نے پہلا حملہ کیا تو پتہ چلا کہ یو کرین کے دفاع کا کوئی سسٹم ہی نہیں ہے امریکہ اور یو رپ نے دو دن بعد سلا متی کونسل میں جنگ بندی کی قرار داد پیش کی، قرارداد کے حق میں 11ووٹ آئے روس نے قرارداد کو ویٹو کر دیا بات ختم ہو گئی امریکہ اور یورپ نے اپنا وعدہ پورا کیا، نیٹو نے اپنا زور دکھا یالیکن افسوس یہ ہے کہ جا رحیت کرنے والے ملک روس نے قرار داد کو ویٹو کردیا چنا نچہ جنگ بندی اگر کبھی ہوئی تو فریقین کی رضا مندی سے ہو گی سلا متی کونسل کی قرار داد جنگ بندی نہیں کر واسکے گی.

دنیا کو تین باتوں کا اندازہ پہلے سے تھا، پہلی بات یہ ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلما نو ں کے حق میں سلا متی کونسل میں آنے والی ہر قرار داد کو امریکہ ویٹو کرے گا، دنیا کو اس بات بھی اندازہ تھا کہ افغا نستان کے بعد امریکہ کسی اور ملک میں جنگ کا میدان سجا ئے گا وہ ملک امریکہ سے ہزاروں کلو میٹر دور ہو گا لو گ وہاں مرینگے امریکہ کو اسلحہ کی فروخت سے بڑا فائدہ ہو گا، تیسری بات یہ ہے کہ جو قوم خود اپنا دفاع نہیں کر سکتی اس کا دفاع کوئی دوسرا نہیں کر سکتا البتہ دنیا کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ امریکہ کی نئی جنگ کسی عیسائی ابادی کے خلاف ہو گی یو کرین کی جنگ خلا ف توقع ہے یو کرین میں عیسا ئی ابادی کے خلاف چھیڑ ی گئی ہے اور جنگ روس نے نہیں چھیڑی امریکہ نے چھیڑی ہے تفصیل اس اجمال کی بہت سادہ اور مختصر ہے امریکہ کے پا س 28یورپی ملکوں کا گروپ ہے جس کو نیٹو کا اتحا د کہتے ہیں.

عراق، لیبیا، شام، یمن اور افغا نستا ن میں تباہ کن جنگیں اس اتحاد کے سیاہ کر توت ہیں، لا کھوں انسا نوں کا قتل اس اتحاد کا نا قا بل معا فی جر م ہے 2004سے 2022تک امریکہ نے یو کرین کو غیر مسلح کرنے پر محنت کی اس ملک کو غیر مسلح کرنے کے بعد روس، چین اور دیگر مشرقی اقوام پر حملوں کے لئے نیٹو کا میزائیل اٹیک سسٹم یو کرین میں نصب کرنے کا پرو گرام بنا یا جب یو کرین نے امریکہ کو مداخلت کی اجا زت دی تو روس نے انتباہ جا ری کیا، جب انتباہ سے کا م نہیں چلا تو روس نے امریکی عزائم کو خا ک میں ملا نے کے لئے اپنی دفاعی طاقت کا استعمال کیا امریکہ نے اپنے مفا دات کو بچا نے کے لئے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تو امریکہ کے اپنے ہتھیار ویٹو (Veto) سے روس نے اس قرار داد کو جلا کر خا ک کر دیا فلسطین، عراق، لیبیا، شام، ایران، یمن اور افغا نستا ن میں مسلما نوں کے خلا ف امریکی جا ر حیت اور نیٹو کے حملوں کو رکوا نے کے لئے جو بھی قرار داد آتی تھی امریکہ اس کو ویٹو کرتا تھا اب یو کرین پر روسی حملے کو رکوا نے کی قرار داد آئی تو روس نے ویٹو کر دیا لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا کسی دانشور کا قول ہے کہ انسان نے پر ندے کی طرح ہواووں میں اڑ نا سیکھا، مچھلیوں کی طرح سمندر وں میں تیر نا سیکھا مگر انسا ن بن کر زمین پر امن سے رہنا نہیں سیکھا یو کرین کی لڑا ئی بھی یو کرین کے عوام کی جنگ نہیں امریکہ اور روس کی جنگ ہے افغا نستا ن کی طرح اس جنگ میں یو کرین کے عوام غیروں کی لڑا ئی میں مر رہے ہیں دنیا کو چنگیز خان کے دور میں واپس جا نے سے روکنے کے لئے ویٹو کے قا نون کو ختم کرنا ضروری ہے ور نہ دنیا میں امن کا خواب مخص خواب ہی رہے گا۔


شیئر کریں: