Chitral Times

Nov 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور ہائی کورٹ نے چترال اپر اور لوئر کے ملازمین کی بائیفرکیشن کا معاملہ نمٹا دیا

شیئر کریں:

پشاور ہائی کورٹ نے چترال اپر اور لوئر کے ملازمین کی بائیفرکیشن کا معاملہ نمٹا دیا

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ نے جسٹس محمد اشتیاق ابراھیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو کنی بنچ نے چترال اپر اور لوئر کے سرکاری ملازمیں کی تقسیم کا تنازعہ چیف سکریٹری خیبر پختونخوا کو ارسال کر دیا۔

منگل کے روز درخواست گزار امیر الملک صدر تنظیم اساتذہ چترال اور دیگر فریقین کی جانب سے شیر حیدر خان ایڈوکیٹ ھای کورٹ نے موقف اپنایا کہ 2018 میں ڈسٹرکٹ چترال دو ضلعوں یعنی اپر چترال اور لویر چترال میں تقسیم ہوا تھا جس کے نتیجے میں چترال اپر سے تعلق رکھنے والے ڈسٹرکٹ کیڈر سرکاری ملازمین اپنے اپنے ضلعون میں واپس جانے کے پابند تھے۔ جس کی رو سے چترال لویر سے تعلق رکھنے والے سارے ملازمین جو کے اپر چترال میں کام کر رہے تھے واپس بیھج دیے گیے تھے جبکہ اپر چترال کے سرکاری ملازمین واپس اپنے ڈسٹرکٹ جانے پر رضا مند نہیں تھے۔

مزید یہ کہ وکیل درخواست کے مطابق اعلامیے کے باوجود اپرچترال کے سرکاری ملازمین اپنے ضلع جانے میں رضا مند نہیں تھے اور محکمہ ایجوکیشن و ہیلتھ اور دیگر محکمہ جات ٹی-او-ار پرعمل درآمد نہیں کر رہے ہیں اور انکے اپنی آبائی ضلع واپسی کو یقینی کو یقینی بنایا جائے۔

اپر چترال کے سرکاری ملازمین حکم امتناعی کے لے عدالت میں درخواست جمع کیے تھے کہ ان کو واپس ان کے ابای و ڈومیسائل ڈسڑکٹ مین نا تبدیل کیا جائے جو کہ لویر چترال میں اباد ہیں گھر خریدے ہیں۔۔۔

عدالت عالیہ کے دو رکنی بنج نے دلائیل سننے کے بعد اپر چترال کی سرکاری ملازمیں کی درخواست رد ہوئے مقدمہ چیف سکریٹری خیبرپختونخوا کو ارسال کر کے ہدایت دی کہ ملازمیں کے تبدیلی کا عمل جلد از جلد مکمل بنایا جائے۔۔۔


شیئر کریں: