Chitral Times

Aug 12, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پنجاب اسمبلی کا تاریخی کارنامہ – تحریر : محمد نفیس دانش

شیئر کریں:

پنجاب میں ختم نبوت کی گواہی کی حامل آیات اور احادیث دفاتر میں آویزاں کرنے کا حکم دینا اور عملدرآمد کروانا یقیناً یہ ایک تاریخی کام ہے، جس پر عملدرآمد کرنے کا اجر تو اللہ تعالیٰ ہی دے گا. ختم نبوت کے عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کے علامات پیش کروں اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ جو شخص اس سے نبوت کی کوئی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماچکے ہیں کہ ”لاَنَبِیَّ بَعْدِیْ“

ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اسلام کی ساری خصوصیات اورامتیازات اسی پر موقوف ہیں۔ ختم نبوت ہی کے عقیدہ میں اسلام کا کمال اور دوام باقی ہے۔ 

چنانچہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں ختم نبوت کے متعلق سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 40 سنہری حروف میں جو مزین کی گئی ہے اس آیت میں ترجمہ کے ساتھ اس کی پوری وضاحت اور ہرطرح کی صراحت موجود ہے کہ” نہیں ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے” اس قرآنی اعلان اور پیغام کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ نبوت دنیا میں رہ جانے والی نہیں ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا بدل کارِ نبوت کی شکل میں ہمیشہ تاقیامت باقی ہے۔ یعنی ختم نبوت کے معنی قطعِ نبوت کے نہیں ہیں کہ نبوت منقطع ہوگئی ختم نبوت کے حقیقی معنی تکمیل نبوت کے ہیں کہ نبوت اپنی انتہا کو پہنچ کر حدکمال کو پہنچ گئی ہے اب کوئی درجہ نبوت کا ایسا باقی نہیں رہا کہ بعد میں کوئی نبی لایا جائے اوراس درجہ کو پورا کرایا جائے۔ ایک ہی ذاتِ اقدس نے ساری نبوت کو حد کمال پر پہنچادیا کہ نبوت کامل ہوگئی تو ختم نبوت کے معنی تکمیل نبوت کے ہیں۔ قطع نبوت کے نہیں ہیں گویا کہ ایک ہی نبوت قیامت تک کام دے گی، کسی اور نبی کے آنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ نبوت کے جتنے کمالات تھے وہ سب ایک ذاتِ بابرکات میں جمع کردئیے گئے۔گویاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرہست مکمل کردی کہ اب نہ کوئی نبی زائد ہوسکتا ہے اور نہ کم ہوسکتا ہے.آنحضرت نے فرمایا مجھے چھ باتوں میں دیگر انبیا پر فضیلت دی گئی ہے: 

(1) مجھے جامع و مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی.

 (2) مجھے رعب کے ذریعے نصرت بخشی گئی.

(3) میرے لئے اموالِ غنیمت حلال کئے گئے.

(4) میرے لئے زمین کو مسجد بھی بنادیاگیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی یعنی میری شریعت میں نماز مخصوص عبادت گاہوں میں ہی نہیں بلکہ روئے زمین میں ہرجگہ پڑھی جاسکتی ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرکے وضو کی حاجت بھی پوری کی جاسکتی ہے.

(5) مجھے تمام دنیاکیلئے رسول بنایا گیا ہے.

(6) اور میرے اوپر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیاگیا۔

ختم نبوت مسلمانوں کے لئے ایک ایسا مضبوط عقیدہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دور سے لے کر آج تک مسلمان کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنا گوارا نہیں کرتے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں سب سے پہلے جو کام ہوا وہ یہ تھا کہ حضرت ابوبکر نے مسیلمہ کذاب جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اسکی سرکوبی کیلئے حضرت خالد بن ولید کو صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ فرمایا تو حضرت خالد بن ولید نے مسیلمہ بن کذاب سمیت اٹھائیس ہزار جوانوں کو ٹھکانے لگاکر فاتح کی حیثیت سے مدینہ واپس ہوئے۔ صدیقی دور میں ایک اور شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا جس کا نام طلیحہ بن خویلد بتایاجاتا ہے اس کے قتل 0کیلئے بھی حضرت خالد بن ولید روانہ کئے گئے تھے۔ ”اسی طرح خلیفہ عبدالملک کے دور میں جب حارث نامی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو خلیفہ وقت نے صحابہ و تابعین سے فتوے لیے اور متفقہ طور پر اسے قتل کیاگیا۔ خلیفہ ہارون رشید نے بھی اپنے دور میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کو علماء کے متفقہ فتویٰ پر قتل کی سزا دی ہے. 

الحمد للہ تمام مسلمانوں کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ نبوت کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ بالآخر سیدالمرسلین خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل و ختم فرمایا دیا ہے. اس لیے آج کل کا ادنیٰ مسلمان بھی عقیدہ ختم نبوت پر اپنی جان کی بازی لگا دے گا مگر نبی کی نبوت اور رسالت پر کبھی بھی آنچ نہیں آنے دے گا ان شاء اللہ…! 


شیئر کریں: