Chitral Times

Feb 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں زراعت کی ترقی ۔۔۔پروفیسر رحمت کریم بیگ

Posted on
شیئر کریں:

جس کھیت سے دھقان کو۔۔۔۔چترال میں زراعت کی ترقی ۔۔۔پروفیسر رحمت کریم بیگ
چترال ویسے ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں کاشت کے قابل زمین بہت کم ، غیر اباد زیادہ اور پہاڑ سب سے زیادہ ہیں تقریبا تین فیصد زیر کاشت زمین ہے۔ عام طور پر سب دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس زیر کاشت رقبہ بہت کم ، قابل کاشت بھی کچھ ہے مگر ہم اس تک پانی نہیں پہنچا سکتے کہ وسائل نہیں ہیں،زیادہ تر زمینیں کٹور خاندان والوں کے پاس ہیں اس سے کچھ کم ان کے برادری کے لوگوں کے پاس ہیں ، اس سے متعلق محبوب صوبیدار مرحوم کا لطیفہ مشہور ہے۔۔۔ کہ ایک دفعہ جغور والے خشک سالی کی وجہ سے جمع ہوئے اور صوبیدار مرحوم سے بھی کہا کہ ہمارے ساتھ نماز استسقا پڑھنے کے لئے تم بھی نکلو تو اس نے جواب دیا کہ آسمان خدا کی ہے، چترال میں زمینیں کٹور خاندان والوں کے قبضے میں ہیں ، ہمارے تمہارے پاس کیا ہے؟ ہمیں بارش کی کیا ضرورت ہے اگر دعاء مانگنی ہے تو کٹو رے مانگا کریں، ہم ویسے بھی بے زمین، محروم لوگ ہیں ہمیں بارش نہیں چاہئے ، جاؤ اپنے لئے مزدوری کرو۔۔
مڈل کلاس کے پاس بہت کم رقبہ ہے اور اکثر جگہوں میں زمین ہے مگر پانی نہیں ہے اس لئے زمین کا ہونا بھی فائدہ مند نہیں اس لئے لوگ چترال کو چھوڑ کو شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان کی بے آب زمینیں یہاں ویران پڑی ہیں کہ کوئی ان پر کاشت کرنے کے لئے تیار نہیں ، ہم چترالی کام سے جی چرانے میں بے مثال ہیں ۔ جس کے پاس پانی ہے وہ باغ لگا کر پھل فروخت کر سکتا ہے اس سلسلے میں محکمہء زراعت مدد فراہم کرتی ہے AKRSPوالے بھی فنی تربیت دیتے ہیں مگر امداد باہمی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے سب اپنے اپنے پیداوار اکھٹا کرکے بیچنے کی عادت عام نہیں ہوئی ہے صرف لوٹکوہ والے اپنا آلو اس طریقے سے بیچنے لگے ہیں
چترال میں باغبانی کو توسیع دیجاسکتی ہے اس کے وسیع امکانات ہے یہاں کی زمین بھی بہت زرخیز ہے لیکن زمین کی زرخیزی کے باوجود کسان کی کاہلی اس کے راستے میں رکاوٹ ہے وہ اپنے کھیتوں میں ڈٹ کر کام نہیں کرتا، اپنا قیمتی وقت بیکار باتوں میں ضائع کرتا ہے ، سیاست میں غیر ضروری دلچسپی لیتا ہے،مذہبی فرقہ بندی کا شکار ہے، شکار میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے، علماء لوگوں کی مثبت رہنمائی کی بجائے سیاست میں لگ کر اپنا وقت برباد کر رہے ہیں ،ملازم اپنی سرکاری فرایئض کی ادائیگی کی بجائے سیاسی پارٹی کے لئے غم کر تا پھرتا ہے، ان تمام ٖفضو لیات کی جگہ اگر لوگ اپنی زمینوں پر سبزی اور باغبانی میں وقت لگائیں تو وہ غیبت اور بہتان سے، سیاسی جھگڑوں سے، رنگ رنگ کی چالبازیوں سے، مکاریوں سے ، سازشوں سے بچ کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کرکے نیک نام ہوسکتے ہیں


شیئر کریں: