Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دھڑکنوں کی زبان – ”انور امان کا ارادہ ہمارا خواب“ -محمد جاوید حیات

شیئر کریں:

انور امان چترال کے کاروباری اور مخیر فرزند ہیں کئی سالوں سے امریکہ میں رہتے ہیں اور وہاں پر اپنی محنت سے دولت کمایا ہے اور اپنے آپ کو ایک دولت مند منوایا ہے۔اس لیے کہ سننے میں آرہا ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کرتا ہے ہم وطنوں کی فلاح کا سوچتا ہے۔ڈر لگتا ہے کہ ان کے ارد گرد ایسے خودغرضوں کا گروپ نہ منڈلائے کہ ان کو کچھ کرنے نہ دیں انشا اللہ ایسا نہیں ہوگا اس لیے کہ ان کی جنم بومی کی خوشبو اور ان کا خلوص ان کو واپس یہاں پر لایا ہے۔

حال ہی میں انہوں نے چترال میں پانچ ستاری (Five stars) ہوٹل کی بنیاد رکھی ہے۔ سننے میں آیا کہ اس کا افتتاح بھی دھوم دھام سے کرایا گیا انور امان صاحب کے قبلہ گاہ کی تقریر خاصے کی چیز تھی۔سننے والوں نے بتا یا کہ موصوف نے بڑے درد سے کہا کہ اگر میرے بیٹے کی دولت ثروت میں غریبوں کا حصہ نہ ہو تو یہ میرے لیے فضول ہے یہ ایک عظیم باپ کے قیمتی الفاظ ہیں۔انور امان صاحب چترال میں خدمت کر نے کی ٹھانی ہے حال ہی میں معروف کالمسٹ جاوید چودھری کے چترال کے دورے کے موقع پر چترال پر اس کے کالم پر نظر پڑی انور امان صاحب نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپر چترال کے ہیڈ کواٹر بونی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایک اعلیٰ پیمانے کی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ دیکھ کر ہمارے بچوں کا مستقبل روشنی بن کر آنکھوں کے سامنے آگیا۔

ہمیں یقین ہے کہ انور امان صاحب ارادہ کرتے ہیں تو کچھ کرکے دکھاتے ہیں۔چترال میں جو ٹیلنٹ ہے اس کے مطابق کوئی ایسا معیاری ادارہ نہیں جہان پر ہمارے بچے ایسے نام پیدا کریں جس سے ہمارا نام روشن ہو اور ان کا مستقبل تابناک ہو۔ہمارے بچوں کی ٹیلنٹ کا ثبوت یہ ہے کہ ہر سال ہمارے بچے CSS, PMS, اور فوج میں کمیشن لیتے ہیں یہ چترال کا پورے پاکستان سے مقابلہ ہے کیونکہ یہ ملکی سطح کے مقابلے ہیں اس کے علاوہ میڈیکل اور انجینئرنگ کی ٹسٹوں کو کئی بچے کوالیفائی کرتے ہیں۔

دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں سکالرشپ لیتے ہیں۔اس کے باوجود ہم معذرت سے کہتے ہیں کہ ملک میں آغاخان یونیورسٹی کراچی لمس لاہوروغیرہ کے علاوہ کسی اور مشہور تعلیمی ادارے کے فارغ التحصیل سکالرز میں بھی وہ معیار نظر نہیں آتا جو ایک ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالر کا ہوتا ہے۔ یہ علم کی پیاس ہے جو ہم محسوس کر رہے ہیں کیونکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں سسٹم ہی ایسا غیر معیاری ہے کہ اس میں معیار لانا آسان نہیں۔جس ادارے میں جزاء و سزا سخت نہ ہوں فرائض اور کام کو جانچا نہ جائے ادارے کے اندر کوئی میرٹ نہ ہو تو معیار لایا نہیں جا سکتا۔

چترال میں آغا خا ن ہائر سیکنڈری سسٹم اور چترال کے چند نامی گرامی پبلک سکولوں اور کالجوں جن میں گورنمنٹ گرلز کالج اور گورنمنٹ مردانہ کالج شامل ہیں میں میرٹ پرCompromise نہیں ہوتا اس لیے تعلیمی عمل بہتر ہے۔انور امان صاحب نے جس یونیورسٹی کی بات کی ہے یہ اگر بنی تو چترال کی آئندہ کی نسلیں ان کے اس احسان کے مقروض ہونگے۔۔اپر اور لویر چترال کی ٹیلنٹ کو اپنے گھر کی دہلیز پر ایسا معیاری اور دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ادارہ مل جائے گا جو ان کی ٹیلنٹ کو چمکائے گا۔

یہ وہ ادارہ ہوگا جس کی حیثیت انگلینڈ کی اکسفورڈ ہندوستان کی علی گڑھ امریکہ کی مچینگن جرمنی کی مونخ مصر کی الاظہر یونیورسٹی کی ہوگی۔یہاں پہ چترالی قوم کی تقدیر بدلے گی اور ایسا تعلیم یافتہ گروپ اُٹھے گا جو پاکستان کے لیے فخر ہوگا۔۔یہ ہمارے لیے خواب ہو مگر جس بندے نے ارادہ کیا ہے اس کے لیے خواب نہ ہو۔ہوٹل سے پہلے یہ تعلیمی ادارہ بنے کیونکہ ہمیں نونہالوں کی تقدیر بدلنی ہے۔


اولولا عظمان دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں
سمندر پھاڑتے ہیں کوہ سے دریا بہاتے ہیں۔۔

bejaan hotel earth breaking chitral anwar aman

شیئر کریں: