Chitral Times

Jul 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرمایہ داری نظام کے اجارہ دار مغربی بلاک کی صف بندی…….. پیامبر……. قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

کروڑوں مسلمانوں سمیت اربوں انسانوں کیخلاف پوری دنیا میں مالیاتی آمریت کی اجارہ داری کیلئے یوروپی یہودی اسرائیل نے مسلمانوں اور دیگر غریب ممالک کو اپنی غلامی اور محتاجی کے چنگل میں پھنسانے اور بین الاقوامی مذموم عزائم کو تقویت دینے کیلئے ایک مربوط اور منظم سازش کے تحت منصوبہ بندی کی ہوئی ہے جس پر متواتر عمل درآمد جاری ہے۔ “انٹرنیشنل کانفرنس برائے گولڈ دینار مالیات جوکوالالمپور کے پُڑا ٹریڈ سینٹر میں مورخہ24 اور25جولائی 2007ء کو منعقد ہوئی تھی ۔ کانفرنس میں ملائیشا کے سابق وزیر اعظم تُن ڈاکٹر مہاتیر محمد نے مالیات کے حوالے سے انتہائی پُر مغز تقریر کی تھی۔جس میں مرکزی خیال یہ تھا کہ” سونے کے دینار کے سکے واپس لائے جائیں اور اس کاغذی مالیاتی نظام کو تبدیل کردیا جائے جو امریکی ڈالر کے پُر فریب تانے بانے سے بندھا ہوا ہے تاکہ مسلمان اپنے آپ کو اس معاشی اور مالیاتی جال سے نکال سکیں”۔یہ نظام خصوصی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جو یہودی و نصاری گٹھ جوڑ کے آگے رکاؤٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، عنقریب یہ نظام اپنے ارتقائی منازل کو طے کرتے ہوئے اس مقام تک جا پہنچے گا جہاں موجودہ رائج کاغذی نوٹ کا نظام ہے۔برطانیہ اور اس کے حلیف اتحادی ممالک کی جانب سے سخت ردعمل کے جواب میں روس کی جانب سے بھی اپنے ملک سے سفارت کاروں کی بیدخلی کے اقدامات کو بھیعالمی سیاسی منظر نامے پر نظر رکھنے والے موجودہ صورتحال کو ایک نئے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ روس کے خلاف یہ اقدامات دراصل چین کے ساتھ بڑھتی قربت اور ان کے نئے عالمی معاشی کردار کے خلاف کسی متفقہ منصوبہ کا حصہ ہے۔ چین نے تقریباََ40کے قریب ممالک سے ’ کرنسی سواپ‘ نامی معاہدہ کیا ہوا ہے ، پاکستان نے بھی2012 میں اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کا اصل مقصد یہ تھا کہ ڈالر کے بجائے یو آن میں باہمی تجارت کی جائے گی۔اس وقت روس اور چین ’ یو آن ‘ تجارت کرتے ہیں ۔ آئی ایم ایف نے برطانوی پاؤنڈ ، جاپانی ین ، امریکی ڈالر اور یورو کے ساتھ ساتھ چینی کرنسی کو بھی انٹرنیشنل ریزرو کرنسی میں شامل کیا ہوا ہے۔ چین اور روس دونوں ممالک مل کر تیزی کے ساتھ عالمی تجارتی منڈی پر اپنا اثر رسوخ قائم کرنے کے لئے ڈالر کے مقابل اُسی ملک کی کرنسی کے تبادلے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں ۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ اس طرح ڈالر کی مانگ اور اہمیت میں کمی واقع ہوجائے گی ۔ اور یہی عمل اگر چینی معاہدے کے مطابق دیگر40کے قریب ممالک نے مکمل طور پر اختیار کرلیا تو مستقبل میں ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے کا یقینی امکان موجود ہے۔ لازمی امر ہے کہ جس طرح ڈالر تجارتی خسارے میں آئے گا اسی طرح پاؤنڈ اور یورو بھی زد میں آئیں گے اس طرح سرمایہ دارانہ نظام کے حامی مغربی بلاک کو معاشی جنگ میں روس اور چین کے عسکری و دفاعی بلاک بننے کے سبب شدید نوعیت کا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستانی اسٹیٹ بنک جنوری2018 میں باقاعدہ اجازت دے چکا ہے کہ سرکاری اور نجی طور پر برآمدات ، درآمدات ، سرمایہ کاری اور دو طرفہ تجارت کے لئے چینی کرنسی یو آن استعمال کی جاسکتی ہے۔روس اور چین کے درمیان 2014میں روبل اور یو آن میں تجارتی لین دین کا تبادلہ ہونے کا معاہدہ کیا گیا تھا اس و قت روس اور چین کے درمیان 80ارب ڈالر سے زیادہ تجارت ہوا کرتی تھی۔جو اَب کئی گنا بڑھ چکی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک کھرب ڈالرز سے زیادہ تجارت بڑھانے پر اتفاق ہواتھا ۔اسی طرح ترکی ، ایران ، ملایشیا ء اور کئی دیگر ممالک بھی مختلف اوقات میں اپنی کرنسی میں ڈالرز کے متبادل تجارتی پالیسی لانے کا کھلا اظہار کرچکے ہیں۔

اپریل1933ء کے ایک واقعے سے یہود ونصاری کے گٹھ جوڑ کی بین الاقوامی سازش سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ اس مالیاتی نظام کے تحت دولت کی قانونی چوری کس طرح کی جاتی ہے۔امریکی حکومت نے ایک قانون لاگو کیا تھاجس کے تحت امریکی شہریوں کیلئے سونے کے سکے ، ان کی خام شکل اور سونے کے سرٹیفیکٹ رکھنا جرم قرار دے دیا گیا ، سونے کے سکوں کو لین دین کیلئے استعمال سے روک دیا گیا اور ان کی قانونی حیثیت کو ختم کردیا گیا ، یوں یہ سکے روپے کی طرح خرید وفروخت میں استعمال نہیں ہوسکتے تھے، امریکی حکومت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ ایک خاص وقت تک یہ سکے کسی کے پاس نظرآئے تو اس کو دس ہزار ڈالر کا جرمانہ یا چھ مہینے کی قید کی سزا ہوگی ، ان سکوں اور سرٹیفیکیٹوں کے عوض امریکہ کے فیڈرل ریزرو بنک نے جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے ، کاغذی نوٹ (امریکی ڈالر)جاری کردئیے اور ہر ایک اونس کے عوض 20ڈالر کا نوٹ دیا جانے لگا ، گویا ایک اونس سونے کا نعم البدل کاغذی نوٹ میں تبدیل کردیا گیا ، نتیجہ کے طور پر عوم دوڑ پڑی ، قید اور جرمانہ سے بچنے کیلئے اپنے سونے کے سکوں کے عوض ڈالے کے نوٹ تبدیل کروانے لگی ، مگر جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے تھے انھوں نے سونے کو تبدیل کرنے کے بجائے مزید سونا خریدنا شروع کیا ور انہیں سوئس بنکوں میں بھیجتے چلے گئے اور پھر اسی سال برطانیہ نے بھی امریکہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے ملک میں یہی کاروائی کی اور سونے کو تجارتی مقاصد کے استعمال سے روک دیا انہوں نے صرف یہ کیا کہ اپنی کاغذی کرنسی پاؤنڈ اسڑلنگ کو سونے کی ضمانت سے الگ کردیا ، جب امریکہ میں تمام کا تما م سونا کاغذی کرنسی میں تبدیل ہوگیا تو جنوری1934ء میں امریکی حکومت نے اپنی مرضی سے اپنے کاغذی ڈالر کی قیمت میں 41 فیصد کی کمی کردی اور اس کے ساتھ ہی اپنے اس قانون کو جس کے ذریعے سونا رکھنا ممنوع کردیا گیا تھا ، ختم کردیا ، اب امریکی عوام پھر دوڑی کہ اپنے کاغذی نوٹوں کو واپس سونے میں تبدیل کرلے مگر اب ڈالر کی قیمت گرنے کی وجہ سے فی اونس سونے کی قیمت35 ڈالر ہوگئی تھی،اس عمل کے دوران عوام کی41 فیصد لوٹ لی گئی۔ستمبر1931ء میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 30فیصد گرائی گئی جو 1934ء تک 40فیصد پر پہنچ گئی ، اس کے بعد فرانس نے اپنی فرانک کی قیمت کو 30فیصد گرادیا ، اٹالین لیرا کو 41فیصد اور سوئس فرانک کو 30فیصد تک کم کردیا گیا ، اور تمام یورپی ممالک نے یہ عمل ہر جگہ دوہرایا ، یہاں تک کہ یونان نے اپنی کرنسی کو یک دم59فیصد تک کی کمی کردی ۔ اس پالیسی نے بے روزگاری کو جنم دیا ، پوری دنیا میں تجارت شدید خسارے میں مبتلا ہوگئی ، جس کو اس صدی کی دہائی کا”پستی اور اداسی کا دور” کہا گیا ۔

یہود و نصاری نے ان متفقہ چالوں سے کاغذی نوٹوں کی بنیاد پر ایک عالمی مالیاتی نظام”بریٹن ووڈزمعائدہ “کرلیا جس میں سونے اور ڈالر کے درمیان ایک رابطہ پیدا کرلیا ، جو بظاہر ٹھیک تھا کہ اب کاغذی نوٹ بغیر کسی زر ضمانت کے چھاپے جاسکتے تھے مگر اس کا کاروباری دنیا میں حقیقی طور پر کسی قیمت کا ہونے سے کوئی تعلق نہیں رہا ، لیکن اس معائدے نے1944ء میں آئی ایم ایف کے انعقاد کا راستہ ہموار کردیا ،جس کامقصد خصوصی طور پر اس بے ضمانت کاغذی کرنسی کے نظام کو عالمی مالیاتی نظام پر لاگو کئے رکھنا تھا لیکن1971ء میں یہ سازش بے نقاب ہوئی اور امریکہ اس عالمی معائدہ کی اس شق سے منحرف ہوگیا کہ امریکی ڈالر کو سونے کی ضمانت حاصل ہوگی ۔اس وقت بھی اسلامی دنیا کے معاشی ماہرین خواب غفلت میں ہیں کہ اسلام کے تجارتی نظام ، جس میں اجناس کے بدل میں اجناس اور سونے چاندی کے سکوں کی بنا ء پر کسی یہود و نصاری کی اجارہ داری نہیں تھی ،یکسر تبدیل کرکے اب اس نظام کو الیکڑونک روپیہ کے نظام میں تبدیل کرکے دنیا بھر کے سرمایہ کو یہودی اپنے تصرف میں رکھ کر مسلمانوں اور غریب ممالک پر سرمایہ دارانہ نظام کی ہولناک حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔سودی نظام کے شکار ، پاکستان جیسے غریب ممالک ، ان کے غلام بن کر ان کی منصوبہ سازیوں میں شریک ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔الیکڑونک روپیہ عام ہونے سے غریب انسان کی گردن میں سرمایہ داری کی غلامی کا طوق زندگی بھر کیلئے ڈال دیا جائے گا۔

برطانیہ و اتحادی ممالک کی جانب سے روس کے آڑ میں چین کو عالمی معاشی مارکیٹ میں داخلے سے روکنا امریکا اور حلیف ممالک کی اولّین ترجیح بن چکا ہے۔ امریکا واحد سپر پاور بننے کے زعم میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر پوری دنیا میں قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک میں خانہ جنگی کرا چکا ہے ۔ ان ممالک کے قدرتی وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے ۔ ان حالات میں چین و روس ہی ایسی دنیاوی طاقتیں ہیں جو امریکا اور اس کے حلیف ممالک کو لگام دے سکتے ہیں۔روس بھی جوابی وار میں اُن ممالک کو بیدخل کررہا ہے جن ممالک نے روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کیا ۔ لیکن مغربی بلاک کے اس عمل سے ایک مرتبہ پھر سرد جنگ شروع ہوچکی ہے۔جس کا اختتام اب کسی افغانستان کی جنگ پر نہیں بلکہ بہت بڑی تباہی کے بعد ہی منتج ہوسکے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ چین و روس اپنے بلاک میں شامل ہونے والے نئے اتحادیوں کے ساتھ ماضی کے مقابلے میں کتنا توازن رکھتا ہے۔ اگر روس و چین کا جھکاؤ صرف اپنے ملک کے مفادات تک محدود رہتا ہے تو روس کو ماضی کی طرح ایک بار پھر ہزہمیت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم روس کے معاشی حوالے سے کمزور معیشت کا تمام تر دارومدار چین کے عظیم معاشی منصوبے پر ہے ۔ 2014ء میں 160 ارب اور 2015ء میں 180 ارب ڈالر روس سے باہر منتقل کیے گئے تھے۔ بجٹ کاخسارہ 95 ارب ڈالر سے تجاوز اور روسی کرنسی روبل کی قیمت 2014ء کی نسبت 90 فیصد کرچکی تھی۔ روس کی وزارتِ لیبر کے مطابق 2014ء میں 1,58,000 ملازمتیں ختم کی گئیں جبکہ 2015ء کے صرف پہلے دو ماہ میں 1,27,000 ملازمتوں کو ختم کیا گیا۔ روس کی 83 میں سے 63 علاقائی حکومتیں دیوالیے کا شکار اور صوبائی اورمرکزی حکومتوں کا قرضہ 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔جب کہ چین کی معیشت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے ۔ چین کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت قرار دیا جارہا ہے ۔ چین نے 2016ء میں 6.7فیصد کے حساب سے ترقی کی ہے۔قومی ادارہ برائے اعدادوشمار کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چین کی سالانہ معاشی پیداوار 11ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو کہ جی ڈی پی میں ایک فیصد اضافے کے برابر ہے، چینی جی ڈی پی میں ترقی ایک عدد سے ڈبل ڈیجیٹ تک پہنچ چکی ہے، اس کے لئے ملک نے خاصی محنت کی ہے، سرمایہ کاری پرانحصار کم کیا ہے،برآمدات اور کھپت میں اضافہ کیا گیا ہے، سٹیٹ کونسل کے ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کے ایک ریسرچر زینگ لی کن کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار حقیقی جانچ پڑتال کے بعد حقیقی صورتحال واضح کردیتے ہیں اور چینی معاشی مبصرین کو بھی اس صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔قومی ادارہ اعدادوشمار کے سربراہننگ جز ہی کا کہنا ہے کہ چینی معیشت نئے نارمل سٹیج ذمہ دارانہ پیداوار اور بہتر معاشی ڈھانچے میں میں داخل ہو چکی ہے۔چین کو نئی اکنامک ورلڈ پاور کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ گزشتہ دنوں امریکا میں امریکی صدر ٹرمپ نے چین کی معاشی پالیسیوں کے خلاف لائحہ عمل پر مبنی ایک صدارتی یاد داشت پر دستخط کئے تھے ۔ اپنے صدارتی خطاب میں صدر ٹرمپ چین کی تجارتی پالیسیوں کو غیر منصفانہ تجارت قرار دیا ۔ صدر ٹرمپ نے امریکا کی صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں 60ہزار کارخانے بند اور کم ازکم 60لاکھ نوکریاں ختم ہوچکی ہیں ، امریکا کو 504ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔امریکی صدر اس خسارے کو قابو پانے میں بے بسی کا واضح اظہار کرتے ہیں۔امریکی صدر چین کے ساتھ ہزاروں ارب ڈالر پر میحط انٹلیکچوئل پراپرٹی چوری کے مسائل پر مذاکرات کررہے ہیں۔امریکا چین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ تجارتی خسارہ100ارب ڈالرز تک لیکر آئے۔ لیکن چین کے عدم تعاون پر امریکا نے 60ارب ڈالرز کی اشیا پر ٹیکس عائد کردیئے ہیں ۔امریکی صدر کی جانب سے ان اقدامات کو چین نے تجارتی جنگ قرار دیا ہے۔

سفیر لائٹزر نے سیکشن 301 کے قانون کے حوالے سے امریکی صدر کی صدارتی یاداشت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ” یہ قانون صدر کو مخصوص حالات میں ہمارے تجارتی شراکت داروں کے غیرمنصفانہ اقدامات، پالیسیوں یا افعال درست کرنے کے لیے ٹھوس طاقت اور اختیار دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں ٹیکنالوجی پر بات ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی غالباً ہماری معیشت کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ہمارے ہاں 44 ملین لوگ اعلیٰ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ کسی ملک کے پاس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایسی صنعت نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی واقعتاً امریکی معاشی مستقبل کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ان مسائل کے ہوتے ہوئے صدر نے‘یوایس ٹی آر’کو ایک جائزہ لینے کے لیے کہا۔ ہم نے ایک جامع جائزہ لیا۔ ہم نے بہت سے لوگوں کی بات سنی۔ ہم نے لاکھوں صفحات پر مشتمل دستاویزات کا تجزیہ کیا۔ ہم نے بہت سے کاروباری لوگوں سے بات کی۔ جیسا کہ میں نے کہا ہمارے پاس شہادت موجود تھی۔ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ درحقیقت چین نے ٹیکنالوجی کی بزور قوت منتقلی، معاشی قدر سے سے کمتر درجے پر لائسنس کے حصول، ریاستی سرمایہ داری، جس کے تحت وہ امریکہ میں غیرمعاشی انداز میں ٹیکنالوجی خریدتے ہیں اور پھر آن لائن چوری کی پالیسی بنا رکھی ہے۔نتیجتاً صدر نے اس کا تجزیہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں ضروری اشیا پر ٹیرف عائد کرنا ہو گا۔ یہ ہم بعد میں واضح کریں گے کہ ہم نے ان اشیا کا تعین کیسے کیا۔ اس حوالے سے ہمارے پاس 200 صفحات پر مشتمل جائزہ ہے جسے ہم شائع کریں گے۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اعلیٰ ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین کے ساتھ سرمایہ کارانہ پابندیاں عائد کریں گے اور ڈبلیو ٹی او میں اس حوالے سے کیس دائر کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حوالے سے ایک اقدام سے ڈبلیو ٹی او کی خلاف ورزی ہوتی ہے”۔

امریکی صدر کی جانب سے چین کی تجارتی پالیسیوں کے خلاف باقاعدہ مہم اور امریکا سمیت مغربی بلاک کی جانب سے چین کو اکنامک سپر پاور بننے سے روکنے کے لئے سب سے پہلے ضروری تھا کہ روس کو محدود رکھا جائے ۔ گو کہ چین اس وقت دنیا میں سب سے بڑی فوجی طاقت کا درجہ رکھتی ہے لیکن چین ، براہ راست جنگی پالیسی اختیار کرکے اپنے مقاصد سے دور نہیں ہونا چاہتا ۔ اس لئے چین اپنے عظیم معاشی منصوبے کے تحت عمل پیرا ہے ۔چین کے نزدیک اس کے مفادات جنگ سے زیادہ اہم ہیں ، روس چین کا اہم پارٹنر ہے ۔ روس اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی فوجی طاقت کا اظہار عملی شکل میں کررہا ہے ۔ جس سے مغربی بلاک ، خاص کر برطانیہ اور امریکا کو سخت تشویش ہے۔ روس جس طرح عالمی معاملات میں امریکی عزائم کے خلاف اپنا ویٹو پاور استعمال کرتا ہے ۔ اس سے امریکی و اتحادی پریشان نظر آتا ہے ۔امریکا اگر افغانستان میں روس و چین کے بڑھتے کردار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تو پھر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پوری دنیا کو اپنے احاطے میں لے سکتا ہے۔ چین کے پاس سستی افرادی قوت اور دنیا میں مہنگی مصنوعات کے مقابلے میں ارزاں اشیاء کی فراہمی سے امریکا ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگے گا ۔ جس طرح امریکی صدر نے صدارتی یاد داشت پر دستخط کرتے ہوئے امریکا میں بے روزگاری اور بند کارخانوں کے اعداد و شمار بیان کئے اور ان کی کابینہ کے رکن نے چین کے بڑھتے رسوخ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چین پر پابندیوں لگانے کا عندیہ دیا اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ سرد جنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ مزید بڑھے گا ۔ روس ، چین کے معاشی مفادات کا اسٹریجک اتحادی ہے اور چین کے عظیم معاشی منصوبے کا اہم سہرا پاکستان سے جڑا ہے اس لئے امریکا اپنی خارجہ پالیسیوں میں پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں الجھا کر چین کا راستہ افغانستان میں روکنا چاہتا ہے۔ روس ، کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چین مالی امداد میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے جبکہ اس کے سامنے ڈالر کی اجارہ داری بھی حائل نہ ہو اس صورتحال میں مغربی بلاک کی قبل از وقت پیش بندیاں عالمی امن کو خطرات سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی لگتی ہیں۔ عالمی تجارتی جنگ کا آغاز تشویش ناک ہے جس کے نتائج سے دنیا غیر روایتی جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔


شیئر کریں: