Chitral Times

Sep 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سماجی تجربہ ۔ تحریر: صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

    Social experience

میریم ڈیکشنری:- علم کی بنیاد پر واقعات کا براہ راست مشاہدہ کو تجربہ کہتے ہیں ۔

ایکسفورڈ ڈیکشنری: -حقائق یا واقعات کے ساتھ عملی رابطہ اور مشاہدہ کو تجربہ کہتے ہیں ۔

کیمبرچ ڈیکشنری:-وہ علم یا مہارت جو کرنے ، دیکھنے یا محسوس کرنے سے حاصل ہو کو تجربہ کہتے ہیں۔

تجربہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنے ارد گرد کی دنیا کو سمجھتے ہیں، زندگی میں پیش آ نے والے واقعات کو خود کرچکے ہیں یا اس کے سامنے ہوچکے ہیں ایسے واقعات کو مشاہدہ کرکے علم اور احساسات سے جو نتیجہ اخذ کی جاتی ہے اسے تجربہ کہتے ہیں۔ لفظ تجربہ کا مطلب ہے ادراک ،احساس یا مشاہدہ ۔ تجربے سے حاصل کردہ علم کو تجرباتی علم کہا جاتا ہے۔ تجربے کے مختلف اقسام ہوتے ہیں جیسے تصوراتی تجربہ، فیزیکل تجربہ، ذہنی تجربے مگر ہم اج سوشل تجربے پر بحث کرتے ہیں۔ 

اگر آپ نے مجھے  دیکھا کہ  میں کسی پارک میں بیٹھا ہو اور چپس کھا کر شاپر وغیرہ  سامنے کوڑا دان میں ڈالنے کے بجائے وہی چھوڑ کر جاتا ہوں یا میں نسوار یا پان کھاکرآپ کے ساتھ والی زمین یا دیوار پر تھوکتا ہوں  تو تمہیں کیسا محسوس ہو گا؟ اگر اپکو  برا لگا تو سمجھے کہ اپ کسی ایسے معاشرے  سے تعلق رکھتے ہیں جہان ایسے حرکات کو معیوب سمجھے جاتے ہیں۔  اگر جواب غیر حیران کن ہے  تو اپ ایسے  معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں یہ ایک عام عادت اور ثقافتی طور پر غیر حیران کن تصور کی جاتی  ہے۔ اپنے  ثقافت اور معاشرے کو اس طرح  تشکیل دے سکتے ہیں جس طرح ہم واقعات کا تجربہ کرتے ہیں۔ اپنے  اور اپنے ماحول  کے بارے میں کبھی بھی صحیح معنوں میں نہیں جانتے کہ جب تک ہم اس کا تجربہ نہیں کرتے  ہیں۔ زندگی کا تجربہ کرکے ہم دریافت کرتے ہیں کہ ہم کون ہیں اس تجربہ کو ہم سماجی تجربہ کہتے ہیں۔معاشرے کی مغیار معاشرے کے لوگوں کی سوچوں پر منحصر ہے کہ لوگوں کی سوچتے   ہیں کسی معاملے میں انکے تاثرات کیا ہیں ۔لوگوں کی سوچوں کی مغیار کا اندازہ مروجہ قوانین و اصولوں اور نظریاتی و ثقافتی اقدار دیکھ کر لگایا جاسکتا  ہے ۔

 پاکستانی معاشرہ ایک اسلامی نظریاتی معاشرہ ہے جہاں اسلام کو ماننے اور اسلامی معاشرتی نظام  کی نفاذ کی ٪80 لوگ حمایتی  ہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی اصولوں اور اسلامی تعلیمات میں کافی تضاد ہے۔ ہمیں معاشرتی نظام کی درستگی کیلئے سب سے پہلےاسلامی معاشرتی پیمانے کو سامنے رکھتے ہوئے  یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں برائیاں کیا ہیں تاکہ معاشرے کو ان برائیوں سے پاک کیا  جا سکے ۔ پھر لوگوں میں برائیوں کو چھوڑنے اور اچھائیوں کو اپنانے کی خواہش اجاگر کرنا ہوگا جس کیلئے مصمم ارادہ ، جدوجہد اور سوچوں میں ہم اہنگی  درکار ہوتی ہے ۔

اج ہم اسلامی معاشرتی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے چند معاشرتی برائیوں پر محث کرتے ہیں۔ چھوٹ ، دھوکہ بازی، بدعنوانی، منشیات اور آلودگی  وغیرہ ایسے برائیاں ہیں جس کی روتھام انتہائی ضروری ہے۔ ایسے برائیوں کی وجہ سے ہمارے ذہن معاشرتی پسماندگی کی طرف بڑھتی جارہی  ہے ۔

جھوٹ  ایک معاشرتی برائی ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق جھوٹ بولانا  منافقت ہے۔ یہ سارے برائیوں کو سہارا دیتی ہے۔  اس کے  سہارے معاشرے میں بہت سارے برائیاں جنم لیتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا  ہم  جھوٹ بولنے کی عادی ہیں؟ کیا ہمیں یہ احساس بھی ہے کہ جھوٹ کتنا بڑا برائی ہے اور معاشرے پر  اسکا اثر کیا  ہے ؟۔ جب معلوم ہو کہ ہم سے یہ گناہ سرزد ہورہی ہے تو اسے چھوڑنے کی کوشش کرنا آسان ہوجاتی ہے ۔ اقدامات سے معاشرتی درستگی ہوتی  ہے ایسے برائیوں کو نظرانداز کرنے سے  معاشرتی نظام میں بگاڑ پیدا ہوتی ہے۔ایک ڈاکٹر کہتا ہے کہ میں کسی یورپین ملک میں ایک خاندان کے ساتھ رہتا تھا ۔ ایک دن مالک مکان مجھے اپنےگھر سے یہ کہہ کر نکال دیا کہ آپ میرے بچے کو جھوٹ بولنا سیکھایا، آج پہلی مرتبہ آپ کی وجہ سے وہ جھوٹ بولا۔ معذرت کے ساتھ مجھے گھر سے بے دخل کر دیا ۔ اسے کہتے اصولوں کی پابندی ایک معزز مہمان کو ایک جھوٹ پر بے دخل کردی جائے۔

دھوکہ دہی بھی معاشرتی  برائیوں میں سے ایک برائی ہے  جو  سرکش قوم جنم دیتی ہے ۔ جس معاشرے میں دھوکہ دہی سے پرہیز نہ ہو وہاں کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے قوم کو کوئی تہذیب یافتہ نہیں کہتا جہاں دھوکہ دہی عام ہو ۔ اسلام میں دھوکہ دہی کی کوئی جگہ نہیں۔ ہمارے بزرگ ایک جانور کے ساتھ دھوکہ کو برداشت نہیں کیا اور اس شخص سے حدیث تک کو بھی قبول نہیں کیا۔ سوچنا یہ ہے کہ کیا ہمارے مزاج میں دھوکہ دہی کے عنصر موجود ہے ؟ ۔ اگر ہے تو دل و دماغ سے ایسے ناسور کو ختم کرنا ہوگا ۔ اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس سے باز رہنے کی کوشش کرنا ہوگا ۔

بدعنوانی یہ معاشی اور معاشرتی برائ ہے۔ یہ برائی جب کسی معاشرے میں پروان چڑھتی تو وہ معاشرہ کھنگال ہوجاتی ہے ۔ لوگوں میں نفسانفسی کی کیفیت ہوتی ہے۔ غربت، بیروزگاری بڑجاتی اور لوگوں میں تفریق آجاتی ہے۔ لوٹ مار جیسے معاشرتی جرائم  جنم لیتے ہیں۔ حرام خوری کی لت جب کسی قوم کو لگ جاتی ہے تو ان کے اندر سے غیرت مندی سمٹ لی جاتی  ہے۔ محنت اور مشقت وجود سے بے دخل ہو جاتی ہیں ۔ بدعنوانی ایک نظریہ  ایک سوچ ہے جو ہے جو ایک روپے سے بڑے  رقم تک سب شامل ہیں ۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہمارے سوچ میں ایسے محرکا شامل ہیں  ہمیں فوراً  اس کی روک تھام  کیلئے عملی اقدامات اٹھانا   اور  اپنے معاشرے کو کنگال ہونے سے بچانا ہوگا ۔

منشیات  یہ جسمانی،ذہنی، روحانی، معاشی اور معاشرتی برائی ہے جو معاشرےکیلئے  آلہ قتل کی طور پر کام کرتی ہے، جو انسان کے سارے صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ  کر وجود کو کھولا کردیتا ہے ۔ یہ برائی مستی سے شروع ہوکر بے بسی پر ختم ہوجاتی ہے۔ منشیات ایسی دشمن ہے جو معاشرے کےسب سے کارآمد حصے پر وار کرتی ہے ۔یہ ہمیشہ خوبصورت پھولوں کو نشانہ بناتی ہے ۔یہ پھول وہ جوان ہیں جو معاشرے کےسب سے مضبوط حصہ ہے جو قوم کے ترقی کی ضامن ہوتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے ہم اس برائی کی روک تھام کیلئے کیا کرسکتے ہیں ۔ اسکے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا ۔ پولیس اور عوام ملکر لڑنا ہوگا ۔ جب ہم مصمم ارادہ کرکے ملکر لڑیں گےتو اسے مٹناہی پڑے گا۔

آلودگی  ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق جسمانی، ذہنی اور ماحولیاتی صفائی نصف ایمان ہے۔ بغیر صفائی اور پاکیزگی کے ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ ہم اس کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ کیا ہم اپنے جسم ، ذہن اور ماحول کو پاک و صاف رکھنے کی خود کوشش کرتے ہیں، کوئ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو کیا ہمیں برا محسوس ہوتا ہے ؟ کہی  ہم کسی سرکاری یا نجی عمارت یا جائیداد  کے خوبصورتی کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے ہیں اور جب کوئی اور اس کی خوبصورتی کو کوئ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں کیا ہمیں عصہ آتا ہے  اور نقصان کی ممانعت کرنے کیلئے کیا کرتے ہیں؟  یہ قومی فریضہ ہے کہ ہم اس کی روتھام  کیلئے عملی اقدامات کرنا ہے ،ردعمل نہ آنے کی صورت میں ہم  بھی قصور وار ہیں۔

جب معاشرتی اصلاح کی بات اتی ہے تو ہم ایک دوسروں کو دوش دیتے ہیں ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر خاموشی اختیار کرتے ہیں    جیسے حکومت کی زمہ دار قرار دیتے ہیں جو کسی صورت درست نہیں۔ ایسے بہانہ بنا کر ہم خود کو ہی دھوکہ دے سکتے ہیں۔ حکومت ہم سے بنتی اور ہم بناتے ہیں۔ ایسے بہانہ کرکے دوسروں کو دوش دیکر معاشرے   کی اصلاح ممکن نہیں۔ ہمیں ملکر ان برائیوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ہم نہیں کرتے تو کوں آئے گا، ہمیں اپنے سوسائٹی کو  خود سنبھالنا ہوگا۔ معاشرتی دوڑ دھوپ میں سب ملکر حصہ لینا ہوگا ۔ تب جا کہ ہم اس مملکت خداداد کو عظیم ممالک اور خود کو تہذیب یافتہ قوموں  کی فہرست میں شامل کرسکتے ہیں ۔

وماعلیناالاالبلاغ۔


شیئر کریں: