Chitral Times

Sep 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حضرت زینبؑ خواتین کے لیئے ایک رول ماڈل ۔ محمدآمین

شیئر کریں:

حضرت زینبؑ خواتین کے لیئے ایک رول ماڈل ۔ محمدآمین

ڈاکٹر علی شریعتی فرماتا ہے حسینؑ اور زینب ؑ ایسے مثالی بہن بھائی ہیں جو تاریخ میں ایک مثالی انقلاب کی علامت ہیں اور ایک ایسا انقلاب جس نے ظلم واستبداداورمکرو فریب کورسوا اور ذلیل کرکے انسانیت کی حرمت اور آزادی کا پرچم سر بلند کیا،،۔حضرت زینب ع نبی اقدس ﷺ کی پیاری نواسی اور امام حسن اور امام حسین کی سگی بہن ہے آپ جناب علی کرم اللہ وجہہ کریم اور خاتون جنت جناب فاطمہ سلام علیہ کی صاحبزادی ہے۔آپ کی پیدائیش مدینہ منورہ میں 626ء میں ہوئی ا اور آپ کی قبر مبارک شام کے مقام ذینبیہ میں واقع ہے۔آپ کا تعلق خاندان اہلبیت اطہار سے ہے جس کی طہارت کی ضمانت اور گواہی اللہ پاک نے خود قرآن مجید میں دی ہے۔


حضرت زینب کا نام اپ کے ناناجان جناب محمد ﷺ نے خود ذ ینب ر کھا جس کا مطلب اپنے باپ کا جمال یا زینت ہے،اپ کی شکل و صورت اپنے ناناجان اور پدر گرامی سے ملتی تھی۔آپ گوشہ بتول تھی اور وہ تمام خصوصیات اپنی مدر گرامی سے حاصل کی تھی جس کے بارے میں نبی اخرلزمان کا ارشاد ہے کہ فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اس سے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور فاطمہ جنت کی خواتین کی سردار (Lady of Heavens)ہے۔چونکہ اپ کی تربیت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جو فضلیتوں اور برکتوں سے بھرا ہوا تھا،شجاعت و بلاغت اپ کو وراثت میں ملی تھی۔آپ کی والدہ محترمہ کی وفات 632؁ء میں ہوئی اور اس وقت اپ کی عمر چھ برس کی تھی،اپنی والدہ محترمہ کی خواہش اور نصیحت پر اپ اپنے دونوں بھائیوں کے لیئے مان کا کردار اپنایا اور یہی وجہ تھی کہ بہن بھائیوں کے درمیان ایک مثالی قربت قائم تھی۔


جب یزیدی افواج میدان کربلا میں خانوادہ رسالت ماب ص پر اپنے مظالم کا انتہا کرہے تھے کیونکہ یزید بدبخت یہ چاہتا تھا کہ امام اعلی مقام اس کے ناپاک ہاتھوں پے بیعت کرلے،جو کہ نواسہ رسول ص کے لیئے ناممکن تھا کیونکہ مواریخین اس بات پر متفق ہیں کہ یزید اسلام کے اصولوں سے منحرف ہوا تھا۔اپ اپنی انکھوں سے سارے مظالم دیکھ رہی تھی کہ کس طرح اپ کے بیٹے جناب عون اور محمد شہید کر دیئے گئے اور یک بعد دیگر اہلبیت اور اسکے رفقاء بے دردی سے جان قربان کر رہے تھے پھر اپ نے وہ سمان بھی دیکھا کہ کس طرح جنت کے جوانوں کے سردار کا سر مبارک کاٹ دیا گیا اور بد بختوں نے اپکے جسم مبارک پر گھوڑا دوڑائے۔اپنے کربلا میں پیاسے کے شدت بھی محسو س کیئے۔جب کربلا میں 72 آہل بیت کے گھرانے اور ان کے اصحاب شہید ہوئے اور روایت میں اتا ہے کہ اس وقت مردوں میں امام ذین العابدین جو بری طرح بیمار تھی فاسق فوج میں سے کسی نے اس سے قتل کرنے کے لیئے اپہنچا لیکن بی بی زینب سلام علیہ ڈھال بنی اور یہ فرمائی کہ پہلے مجھے قتل کرو پھر اس بیمار کو،اس طرح منشاء الہی سے اپنے بیمار امام کو پچائی کیونکہ آل محمد کا سلسلہ دنیا میں قائم ہونا تھا۔


واقعہ کربلاکے بعد جب خاندان رسالت کے عورتوں،بچون اور بچیوں کو قیدی بناکر اور زنجیروں میں جھکڑ کر دمشق روانہ کردیے تویہ منظر قیامت صغرا سے کم نہ تھا،اس بابرکت خاندان جہان قرآن پاک نازل ہوا تھا اور جس گھر سے اسلام پھیلا تھا،کے خواتیں بغیر چادر اور دوپٹے کے بازاروں اور مارکیٹوں سے گزر رہے تھے،جب یہ قافلہ دمشق پہنچے۔دمشق میں قید کی حالت میں جناب زینب نے یزید کی محل میں اپنے پیارے بھائی کی شہادت میں پہلامجلس یا ماتم کا اغازکیا،جب قیدیوں کو یزید کی دربار میں لائے گئے تو اپنے یزید کی دربار میں بہادری اور شجاعت کا وہ مظاہرہ کیا جس سے تاریخ رہتی دنیا تک ذندہ رکھے گی،کیونکہ انسانی فطرت ہوتی ہے کہ جب قیدی کو بادشاہ کے دربار میں پیش کی جاتی ہے تو بولنا کجا وہ تو بادشاہ کے قدموں میں گر کر جان کی سلامتی چاہتی ہے اور جس کے سارے خاندان لٹ جاتے ہیں ان کی حال کیا ہوتے ہیں وہ تو صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے،لیکن اس بار ظالم کے دربار میں بی بی زینب ہے۔آپ نے اللہ پاک کی حمد و ثنا کی اور اپنی خاندان کی تعارف کی کہ میں پیغمبر اسلام جناب محمد ص کی نواسی اور فاطمہ زہرہ کی بیٹی ہوں یہ سن کر دربار میں موجود لوگ حیرت سے اپ کی متوجہ ہوئے اپ نے یزید کو للکار کے بولی کہ تو اپنی عورتوں کو بغیر پردے کے باہر جانے نہیں دیتے ہیں لیکن خاندان نبوت کے خواتین کو بغیر دوپٹے کے اپنے دربار میں کھڑے کیئے ہیں او ر یہ تمہارا نصاف ہے۔جب یزید بد بخت نے غرور سے یہ کہا کہ تمہارے بھائی نا فرمانی کر رہا تھا جس کی وجہ اس کی موت ہوئی اور اللہ نے ہمیں سروخرو کیا یعنی ہم نے انہیں شکست دی اور اللہ جسے چاہئے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت دیتا ہے، تو اپنے فرمایا،اے یزید تمہیں کیا معلوم کہ قرآن کے اس ایت کا مفہوم کیا ہے یہ تو وقت بتائے کہ اللہ کسے عزت دیتا ہے اور کسے ذلت دیتا ہے اور ہمارے لئے یہ ایک خوبصورت شہادت ہے۔اج تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جناب زینب نے کیا خوب فرمائی تھی اور کوئی انسان چاہتے بھی اپنے عزیز کا نام یزید نہیں رکھ سکتا ہے۔


جب یزید کے دربار میں ایک شامی فوجی نے قیدی خواتیں میں سے ایک لڑکی کو اس کے حوالے کرنے کا بولا تو دختر بتول نے اس سے یہ کہتے ہوئے منع کی تو اس کے قابل نہیں اور تیرا اس پر اختیار نہیں ہے اس پر یزید نے کہا کہ دو نوں صورتوں میں میرا اختیار چلے گا اس پر بی بی نے فرمائی کہ یہ فیصلہ نا انصافی اور ظلم پر مبنی ہوگی اس طرح اپنے دختر خاندان رسالت کو ایک جابر غیر محرم کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہونے سے بچائی۔


جناب زینب ص کا انسانیت پر ایک احسان یہ ہے کہ اپنے واقعہ کربلاکے بعد تمام حالات و واقعات کو مدینہ پہنچنے کے بعد لوگوں کو بتائی ورنہ یزید اور اس کے درباری تاریخ دان اور مفاسریں ان حقائق کے بالکل غلط پیش کرسکتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا یزیدیت اور حسنیت میں فرق کرسکتا ہے کیونکہ حق حسنیت کا نعرہ اور یزیدیت طاغوت اور ظلم کا نشان بن چکی ہے اور رہتے دنیا تک رہے گی۔مذید یہ اپنے امام سجاد کی دیکھ بھال میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ہمیشہ اس سے ہمت دی۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو جناب زینب کی دربار یزید میں حاضری اور خطبہ (women empowerment)کے سلسلے میں ایک سنگ میل کی حثیت رکھتی ہے کہ ایک عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیئے ظالم سے ظالم تر حکمران اور بااثر لوگوں کا سامنے کر سکتی ہے بشرطیکہ اس میں جرات و بہادری کا عنصر ہو۔دراصل میں حسینیت حق گوئی،سچ گوئی اور ظلم کے خلاف ڈٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے اور تا قیامت یہ دو نوں افکار یعنی حسنیت اور یزیدیت دو الگ نہروں کی طرف روان دوان رہیں گے اور حسینی افکار مذاہب، رنگ ونسل اور جعرافیائی حدود سے بالاتر ہوکر تما م بنی نوع انسان کے لئے حق کا راستہ تعین کرے گی۔اور شاعر نے کیا خوب کہا ہے
انسان کو بیدار تو ہونے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین


شیئر کریں: