Chitral Times

Jul 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قوم بننے کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں…….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پولیس اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب میں واضح کیا ہے کہ اگر تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی پوری دیانت داری سے ادا کریں تو عدلیہ کو کسی بھی کام میں مداخلت کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی واقعہ ہوجائے تو پورے ملک میں شور اٹھتا ہے کہ چیف جسٹس کو واقعے کا ازخود نوٹس لینا چاہئے۔ حالانکہ سپریم کورٹ انصاف کی فراہمی کا آخری ادارہ ہے۔ اگر چیف جسٹس ہر بات کا سوموٹو ایکشن لینا شروع کردے تو معاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھ سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے اشارہ دیا کہ اداروں کے اعلیٰ حکام کو بار بار عدالت طلب کرنا اچھا نہیں لگتا۔ بہتر ہے کہ وہ اپنا کام درست انداز میں کریں۔چیف جسٹس نے پولیس کو تلقین کی کہ وہ عوامی شکایات کا فوری ازالہ کریں اور عدالت میں پیش ہونے والوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی یہ واضح کیا تھا کہ وہ کسی معاملے کا ازخود نوٹس نہیں لیں گے۔ وہ اداروں کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ قومی خزانے پر پلنے والے سرکاری اداروں کو حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے گھر کی لونڈی بنائے رکھا۔قومی ادارے ریاستی مفادات کے بجائے اہل اقتدار کے شخصی مفادات کو تحفظ فراہم کرتے رہے۔ہمارے ہاں کسی کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں، دوسروں کے کاموں میں ٹانگیں اڑانے کو سب اپنے فرائض کا حصہ سمجھتے ہیں۔اپنی خدمت گذاری پر حکمران قومی اداروں کے حکام کو نوازتے رہے جس کی وجہ سے اداروں میں کرپشن کے دروازے کھل گئے۔ میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں پر اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہیں گذشتہ پچاس سالوں سے قومی اداروں پر سفارشیوں کا قبضہ ہے۔ہر ادارے میں گنجائش سے دو سو گنا زیادہ بھرتیاں کی گئیں۔قومی وسائل ان سفارشیوں کی تنخواہوں، مراعات اور اللے تللوں پر لٹائے جاتے رہے۔پاکستان سٹیل مل، پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنزاور پاکستان ریلویز سے لے کر محکمہ تعلیم، مواصلات و تعمیرات،محکمہ مال، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، واپڈا، محکمہ سوئی گیس اور محکمہ معدنیات سمیت تمام قومی اداروں میں کرپشن کا دور و دورہ ہے۔ہر بجٹ میں قومی وسائل پر پلنے والوں کی تنخواہوں، گریڈ اور مراعات میں اضافہ کرنا حکومت کی مجبوری ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قومی اداروں میں چند خدا ترس، محب وطن اور پاکستان کا درد رکھنے والے اہلکار بھی موجود ہیں جو رشوت کو حرام اور سفارش کو ملک کے ساتھ غداری سمجھتے ہیں لیکن ان دیانت دار لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور ان کی اپنے محکمے کے اندر بھی دال نہیں گلتی۔ اور بے قاعدگیوں کے خلاف آوازاٹھائیں تو انہیں کھڈے لائن لگادیا جاتا ہے۔دوران ملازمت تنخواہوں اور مراعات میں روزافزوں اضافے کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مرتے دم تک انہیں اور ان کے خاندان کو قومی وسائل پر پالا جاتا ہے۔ جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی کمزور معیشت پر ایک بھاری بوجھ ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت نے جب اس نظام کو بدلنے کی بات کی تو سب نے آسمان سر پر اٹھالیا۔گذشتہ ایک سال سے بیشتر سرکاری اداروں کے افسر اور اہلکار مسلسل احتجاج اور ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اداروں کی زبوں حالی کا بخوبی علم ہے لیکن وہ اصلاحات کے عمل میں دانستہ طور پر رکاوٹیں ڈال رہی ہیں جس سے اصلاحات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مزید شہ مل رہی ہے۔ پاکستان کے منصف اعلیٰ نے جو بات کہی ہے وہ اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کے دل کی آواز ہے کہ قومی ادارے اپنے فرائض دیانت داری سے اداکریں اور انہیں جو تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں اسے حلال کریں تو قوم کے آدھے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہی لوگوں کی داد رسی ہونے لگے تو لوگ انصاف مانگنے عدالتوں میں کیوں جائیں۔کسی بھی جمہوری ملک میں ریاستی ادارے قومی مفاد کے دائرے سے ہٹنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ وہاں اداروں میں بدلتے وقت کے ساتھ تبدیلیاں اور اصلاحات ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اداروں پر قوم اعتماد کرتی ہے اور قانون کی پاسداری کو وہ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں قانون کی پاسداری اس وجہ سے کم ہوتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہیں۔اصلاحات کا عمل جاری رہنا چاہئے اس کی زد میں آکر ایک یا دو فیصد لوگوں کے مفادات کو تھوڑا بہت نقصان پہنچتا ہے تو یہ قوم کی تشکیل کے عظیم مقصد کے حصول کی بہت معمولی قیمت ہے۔


شیئر کریں: