Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

موسمیاتی تبدیلیاں ، کرہ ارض کو خطرہ – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

موسمیاتی تبدیلیاں ، کرہ ارض کو خطرہ – قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

عالمی موسمیاتی تبدیلیوں نے دنیا کے ہر ملک کو متاثر کیا ہے اور یہ عمل تیزی سے جاری ہے، دیکھا جارہا ہے کہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں نے ماحول کو شدید متاثر کیا، جس سے گلیشیر سکڑتے جارہے ہیں، دریاؤں اور جھیلوں پر جمی برف ٹوٹ رہی ہے جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، اس عمل سے پودوں کی افزائش اور جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ماہرین موسمیات ماضی میں ہی پیش گوئی کرچکے تھے کہ عالمی آب و ہوا میں تبدیلی کے نتیجے میں سمندری برف کے نقصان کے ساتھ ساتھ سطح سمندر میں تیز رفتار اور گرمی کی شدید لہریں اٹھ سکتی ہیں۔ اس وقت کرہ ارض کو بدترین موسمی حالات کا سامنا ہے۔ آب وہوا کی تبدیلی سے نقصانات میں اضافہ و فوائد میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آرہا ہے۔

ماہرین موسمیات خطرات سے آگاہ کررہے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کا یہ عمل کئی عشروں تک برقرار رہے گا۔ انٹر گورنمنٹ پینل آن کلائمنٹ چینج (آئی پی سی سی) کے 1300 سے زائد سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلی صدی تک درجہ حرارت میں 2.5 سے10 فیصد فارن ہائیٹ اضافہ ہوسکتا ہے۔آئی پی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماحولیاتی نظاموں میں تبدیلی کا  اثر علاقائی سطح پر مختلف درجے کے تحت واقع پذیر ہوسکتا ہے۔یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ عالمی سطح پر درج حرارت میں 1.8سے5.4ڈگری فارن ہائیٹ (1سے3سینٹی گریڈ)ہونے سے فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ ہیں اور شواہد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقصانات میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس سے بچاؤ کے لئے دنیا کو موسمیاتی تبدیلوں سے مقابلے کرنے کے لئے ہنگامی نوعیت کو اقدامات کرنا ہوں گے۔


موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت کے اثرات نے موسموں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے، گرمی و سردی تو کہیں بارشیں اور سیلابوں نے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں تباہی مچائی ہوئی ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک گرمی کی بدترین لپیٹ میں آنے لگے ہیں، ریکارڈ توڑ گرمیوں نے ان ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے اُن ممالک کا کیا حال ہوگا جہاں پہلے ہی گرمی کی وجہ سے انسانی زندگی کو دشواریوں کا سامنا ہے۔بالخصوص غریب اور ترقی پزیر ممالک کے شہریوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنے کے متبادل ذرائع دستیاب نہ ہونے سے زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہے۔فضا میں نمی کی سطح میں کمی اور تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے جنگلات میں آگ لگانا معمول بنتا جارہا ہے، جس سے صورت حال مزید سنگین ہو رہی ہے اور اس کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت و موسمیاتی تبدیلی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہورہا ہے۔ روس کے علاقے سائیبریا کے 7لاکھ ہیکڑ سے رقبے پر پھیلی جنگلات میں لگی آگ نے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ انسانی غلطیوں کی وجہ سے حیاتیاتی زندگیوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 15لاکھ ہیکڑ سے زاید رقبے پر محیط جنگلات راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔اس کا واضح مطلب ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگلات میں لگی آگ سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے جس سے کاربن گیسوں کے اخراج پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہورہا ہے۔


موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر معمولی بارشوں اور سیلابوں نے انسانی زندگی کو مشکل تر بنا دیا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے جہاں انسانی زندگی متاثر ہورہی ہے تو دوسری جانب انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے نظام سمیت بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی ایک چیلنج کا درجہ اختیار کرتی جارہی ہے۔عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے درجہ حرارت کے اضافے نے جہاں گرم موسم کو آتش فشاں بنا دیا ہے تو دوسری جانب 1980 کے بعد سے ٹھنڈے موسم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس سے ماحولیاتی نظام کے ساتھ ساتھ زراعت بھی متاثر ہورہی ہے۔ شدید سردی میں درخت اپنی نشو ونما کا عمل روک دیتے ہیں اور توانائی محفوظ کرنے کے لیے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ جمی ہوئی برف کی وجہ سے زیر زمین پانی کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے میں صنوبر کے درخت اپنے پتوں کے گرد موم جیسی تہہ بنا لیتے ہیں تاکہ ان کا اندرونی پانی پتوں کے راستے ضائع نہ ہو۔مستقبل میں گرمی کی کمی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ سرد موسم بھی انسانی حیات کے لئے ایک چیلنج بنتا جارہا ہے،

سمندری سطح میں اضافے کا رجحان بھی دیکھنے میں آرہا ہے، ماہرین نے2100 تک سمندر کی سطح میں 8.1فٹ اضافے کی پیش گوئی کی تھی،یہ ریکارڈ اضافہ 1880 کے بعد ہوا اور 2100 تک سمندری سطح میں ایک سے چار فٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا۔تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اضافہ8فٹ سے بھی زیادہ ہوتا جارہا ہے، اس کی بنیادی وجہ تیزی سے برف پگھلنا اور گرم پانی کا سمندر میں جمع ہونا ہے، گمان کیا جاتا ہے کہ شدید بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں سمندری سطح میں اضافے دیکھنے کو مل سکتا ہے، ماہرین موسمیات اسے کئی دہائیوں تک کہیں زیادہ شرحوں سے بڑھنے کے خدشات کرتے نظر آرہے ہیں۔
یورپ میں غیر معمولی سیلاب اور شدید سیلابی سلسلے نے تباہی مچائی اور سینکڑوں انسانی جانوں کا نقصان الگ ہوا، جب کہ تباہ حال علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے لئے ایک خطیر رقم بھی خرچ کرنا ہوگی۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھارت، چین میں بھی غیر معمولی سیلاب و معمول سے زیادہ ریکارڈ بارشوں نے معمولات زندگی کو نقصان پہنچایا۔موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقبل میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، گرم پانی کی بڑی مقدار بخارات کی شکل میں بادل بن کر برسیں گے اور پانی کے باافراط پھیلاؤ کی وجہ سے سمندری سطح میں اضافہ ہونے کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔

موسمیاتی تبدیلی انسانی و جنگلی حیات کے لئے نئی مشکلات بھی سامنے لا رہی ہے، شدید بارشوں اور سیلابی و ریلوں کی طیغانی کی وجہ سے زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے جس سے خوارک کی کمی جیسے خطرناک مسائل جنم لے سکتے ہیں، اس وقت کئی ممالک خشک سالی کی وجہ سے کئی ممالک کے عوام فاقہ کشی و کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک کو خوراک کی کمی کا بدترین سامنا ہے، جسے پورا کرنے کے لئے مہنگے داموں خوراک کی خریداری کی وجہ سے گرانی زور پکڑ رہی ہے اور اشیاء ضروریہ ایک عام فرد کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ خوراک کے حصولؒ کے لئے انسانوں نے درمیان خانہ جنگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

انسانی المیوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سب سے دیرینہ مسئلہ مہاجرت کا ہے۔ قدرتی آفات اور مسلح تنازعوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے ہی ملکوں میں نقل کانی شروع کی ہوئی ہے، ایک اندازے کے مطابق اپنے ملک میں بے گھرہونے والے افراد کی تعداد55ملین سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس کے علاوہ36ملین افراد غیر ممالک ہجرت کرنے پر مجبور ہو ئے، ایک رپورٹ کے مطابق اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والوں کی تین چوتھائی تعداد شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زبردست بارش کی وجہ سے مہاجرین کے کیمپ اور وہاں تعمیر عارضی مکانات تباہ ہوجاتیہیں۔ کیمپوں میں پانی بھرجاتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مکینوں کو کسی دوسری جگہ کیمپوں میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں کے پاس یا پھر عارضی خیموں میں پناہ لینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔


واضح رہے کہ پہلے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے مستند معلومات کا حصول مشکل امر تھا، لیکن اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ہم درجہ حرارت و تبدیلی ہوتی آب وہوا کے بارے میں جان سکیں اور گزرتے وقت کے ساتھ سدباب کی تیاریاں بھی کرسکیں۔ عالمی درجہ حرار ت میں تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہ کو جان کر زندگی کو محفوظ بنانے کے ساتھ ماحولیات کے بڑھتے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومتوں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا، بالخصوص ایسے ممالک کو اُن ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانا ہوگا، جو ان کی صنعتی دوڑ یا جنگوں کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں تبدیلی کا سبب بنے ہیں۔ اقوام متحدہ کو کرونا وبا کے ساتھ ساتھ اُن ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے مثبت اقدامات کرنا ہوں گے جس سے انسانی، سمندری و جنگی حیات کے تحفظ کو یقینی بنائے جاسکے۔ کیونکہ یہ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں، عالمگیر مسئلے کو حل کرنے کے لئے دنیا کو اپنی یکساں ذمے داری نبھانا ہوگی۔


شیئر کریں: