Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ تحریر: محمد آمین

شیئر کریں:

امام اعلی مقام جناب علی ابن موسی الرضا فرماتا ہے کہ نبی اقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر کوئی زمین اور آسمان میں سب سے پیارا انسان دیکھنا چاہتا ہے تو وہ حسین کو دیکھیں۔یہ خوب صورت چاند اور نبی (ص) کے دل کا ٹکڑا 4 ہجری اورتین شعبان کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوا۔آپ کا کنیت ابو عبدللہ تھا۔آپ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ آپؑ آخری نبی الزماں محمدﷺ کا نواسا،امام متقین علی کرم اللہ وجہہ کا بیٹا اور خاتوں جنت جناب فاطمہ ذہرا کا لخت جگر تھا۔حضرت عباسؓ کی زوجہ محترمہ ام الفضل سے روایت ہے کہ اپ نے ایک خواب میں دیکھا کہ جناب پیغمبر خدا کے جسم مبارک سے گوشت کا ایک ٹکڑا اُڑ کر اپ کیطرف ائی،جب اپ نے یہ خواب نبی اقدس سے بیان کی تو آپ نے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ سے ایک بیٹا پیدا ہوگا جس سے اپ دودھ پلائیں گے۔

ابن شر آشوب کے مطابق جب یہ مقدس بچہ پیدا ہوا تو اس کی مان کی طبیعت نا ساز تھی اور یوں اُم الفضل نے اسے دودھ پلایا۔جب حسین پیدا ہوا تو رسول خدا (ص) جناب فاطمہ کے گھر تشریف لائے بچے کو اپنے مبارک گود میں لایا اور عجیب طور پر اپنا زبان مبارک بچے کے منہ میں ڈالا اور بچے نے آپ کا زبان چوسنے لگا،اور اس طرح حسین نے سب سے پہلے اپنے ناناجان کا دھن مبارک چوسا اور آپﷺنے فرمایا،،کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں،،۔


روایت میں اتا ہے کہ جب امام اعلی مقام پیدا ہو تو جناب جبرائیل آپ ﷺکی خدمت میں پیش ہوا اور فرمایا کہ اللہ پاک نے آپ کو سلام اور خوشخبری بھیجا ہے اور اللہ کا ارادہ ہے کہ اس نومولود بچے کا نام حسین رکھا جائے کیونکہ اسمانون میں یہ اسی نام سے پکارا جاتا ہے،یہ کہتے ہوئے جناب جبرئیل افسردہ ہوا اور جب رسول خدا نے اپ سے افسردگی کا وجہ پو چھا تو اپ نے جواب دیا کہ اے خدا کے نبی :اپ کا یہ نواسا بہت زیادہ مشکلات،تکالیف اور مصائب سے گزرے گا اور اخر کر اس سے دریا فرات کے کنارے کر بلہ کے مقام پر اس کے وفادار ساتھیوں سمیت بے دردی سے شہید کیا جائے گا،اور یہ وہ وقت ہوگا جب اسلام بڑی مشکل حالت سے سے گزر رہا ہوگا اور اللہ کے دین کی احیا کا داورومدار حسین کی قربانی پر منحصر ہو گا۔مورخین لکھتے ہیں کہ جناب حسین علیہ السلام کا حلیہ ہو بہو جناب رسالت مآب سے ملتا تھا۔ابن کثیر سے روایت ہے کہ میں حسین سے زیادہ خوب صورت انسان نہیں دیکھا ہوں،اور جناب آنس ؓ کہتا ہے کہ میں حسین سے زیادہ رسول خدا سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔


آپ کی کمالات یہ تھا کہ اپ اپنے ناناجان اور والدین سے وہ تمام خصوصیات اور فضلتین پایا تھا جن کے پاکیزگی کے تذکیرے قرآ ن میں موجود ہیں۔ایک دفعہ جبکہ حسنین کریمین بچے تھے اور دوسرے دن ایک جشن ہونے والا تھا دونوں بچے اپنے پاک دامن امی کے پاس ائیں اور اس سے نئے کپڑون کی فرمائیش کی،مان کی مامتابچوں کے سامنے بے بس تھا اور یہ پاک گھرانے خود فاقے اور ٹوٹے پھوٹے کپڑوں پر انحصار کر تا تھا،مان نے کہا میرے لاڈلے اگر درزی کپڑے لائے گا تو انشاء اللہ کل تمہارے پاس نئے کپڑے ہوں گے۔رات کو جب دونوں بچے سوئے تو جناب فاطمہ جائے نماز پر جا کر اللہ سے دعا کی اور کہنے لگی اے میرے پروردگار یہ فاطمہ تیرے کنیز جو صرف تیرے ہی رحم کے سہارے جیتی ہے تو جہانوں کا مالک ہے،میں حسن اور حسین کے لیئے نئے کپڑوں کا وعدہ کر چکی ہوں اور اپنی رحمت سے جشن کے دن ان دونوں بچوں کو مایوس مت کرنا۔صبح سویرے جب دونوں بچے بیدار ہوئے اور اپنی پیاری امی سے نئے کپڑوں کی فرمائیش کی تو خاتوں جنت (Lady of Heavens)کے لیئے بڑا مشکل لمحہ تھا اور اسی دوران دروازے پر کسی نے آواز دی کہ نبیﷺکے آہل بیت: حسن و حسین کے کپڑے یہاں ہیں۔جناب فاطمہ یہ کپڑے حاصل کیا اور اللہ پاک کا شکر ادا کیا۔


روایت میں اتا ہے کہ ایک دن جب رسول خدا مسجد نبوی کے منبر سے خطبہ دے رہا تھا تو آپ (ص) نے جناب حسین جو کہ ابھی بچہ تھا مسجد کے اندر داخل ہوتے دیکھا جو اپ کی طرف ارہا تھا اسی دوران اپ کی قمیض ا پکے پاوں میں چمٹ گئی آپﷺ خطبہ چھوڑ کر اپ کی طرف دوڑا تاکہ اپ گر نہ سکیں۔ایک دفعہ اپﷺ مسجد میں نماز کی امامت کررہا تھا کہ جناب حسین ؑ اپ کے کندھے مبارک پر سوار ہوا جس سے اپ کو سجدے کو طول دینا پڑا،اور ستر دفعہ آپ (ص) کو،، سبحان رب العالیٰ و بحمدیہی،،کہنا پڑا اور اسی دوران حسین اپ کی کندھوں سے نیچے اترا پھر آپﷺ نے سجدے سے سر اٹھایا۔

جناب سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ میں جناب حسین کو رسول خدا کے پاس بھیٹے دیکھا آپﷺکو جناب حسین سے یہ فرماتے سننا کہ آپ ایک سید ہیں،سید کا بیٹا ہیں اور سادات کا باپ ہیں۔آپ ایک امام ہیں۔امام کا بیٹا ہے اور آئیمہ کا باپ ہیں۔آپ ایک حجت ہیں اور آپ کے نسل مبارک سے نو (9)حجت پیدا ہونگے جن کا نویں قائم ہو گا۔شیخ صدوق حسیف یمانی سے یہ روایت کرتا ہے کہ ایکدن جناب رسول خدا (ص) امام حسین ؑ کا ہاتھ پکڑ کر یہ فرما رہاتھا کہ اے لوگو یہ حسین جو کہ علی اور فاطمہ کا بیٹا ہے اپ سب اس کو پہچانو،خدا کی قسم جس کے قبضے میری جان ہے حسین جنتی ہے اور اس کے سارے دوست جنت میں جائینگے۔


یہ ہے جنت کے جوانوں کا سردار،سیدولشہداء اور نبیﷺ کے گھرانے کا روشن چراغ جن کی محبت اللہ پاک نے اپنی اخری کتاب میں ہم پر فرض کیا ہے اور ارشاد خداوندی ہے،،اے نبی ان سے کہدیں کہ میں تبلیغ (اسلام) کے عوض تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر سوائے یہ کہ میرے گھر والوں سے محبت رکھیں۔


اللہ پاک ہمیں آہل بیت اطہار سے مودد کاشرف عطا فرمائین اور ہمیں ان کے دیے ہوئے تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دیں۔


شیئر کریں: