Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قومی سماجی معاشی رجسٹری…..محکم الدین ایونی

شیئر کریں:

حکومت نے قومی سماجی معاشی رجسٹری کے نام سے درست معلومات اور اعدادو شمار کے حصول کیلئے جدید ترین خطوط پر ڈیٹا جمع کرنے کا آغاز کر دیا ہے ، تاکہ ملک کے تمام گھرانوں کے معاشی حالات ، گھر کے اثاثہ جات قومی شناختی کارڈ کے تحت رجسٹرڈکئے جاسکیں ۔ اور اسی کے مطابق مستقبل میں تعلیم وصحت اور بنیادی سہولیات سمیت مختلف سماجی و ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے منصوبے تیار کئے جا سکیں ۔ اسے حکومت کی طرف سے قومی خوشحالی سروے کا نام دیا گیا ہے ۔ ا ور مرحلہ وار پروگرام کے تحت سروے کے ذریعے پورے ملک کے ہر گھرانے ، ہرطبقے اور علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی ۔ اس رجسٹری کی یہ تعریف بھی کی جارہی ہے ۔ کہ تمام معلومات گھر کی دہلیز پر کمپیو ٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے گھر کے سربراہ سے حاصل کئے جائیں گے ۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے ۔ کہ اسی سروے کی بنیاد پر وطن کارڈ ، خدمت کارڈ ، صحت کارڈ ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام و دیگر حقداروں کا تعین کیا جائے گا ۔

حکومت کی طرف سے یہ تاکید بھی کی جارہی ہے ۔ کہ تمام افراد خانہ کے شناختی کارڈ کی کاپیاں سروے ٹیم کو فراہم کئے جائیں ۔ اور بچوں کے فارم ( ب) نہ ہونے کی صورت میں صحیح و مکمل کواءف درج کئے جائیں ۔ تعارفی خاکے میں جن باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اس کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا اہم سروے خیال کیا جاتا ہے ۔ اور ملکی ترقی کیلئے اسے سنگ میل قرار دیا جارہا ہے ۔ کیونکہ اس سروے میں تعلیم ، روزگار ، بیماری ، معذوری اورگھر کے افراد و جملہ اثاثہ جات وغیرہ کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں سروے ہوتے رہے ہیں ۔ لیکن ہر مرتبہ سروے بے شمار اغلاط کا مجموعہ قرار دیا جاتے رہے ہیں ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس کی واضح مثال ہے ۔ جس کا ریکارڈ سامنے آنے پر معلوم ہوا،کہ مستحقین میں ایسے افراد شامل تھے ۔ جو اپنے وسائل سے کئی خاندانوں کی کفالت کرنے کے قابل تھے ۔ لیکن غلط معلومات فراہم کرکے ، سیاسی اپروچ کے ذریعے یا سروے ٹیم کی طرف سے بے جا ہمدردی نے اُن کو ایسے افراد کی فہرست میں لا کھڑا کیا ۔ کہ مستحقین کے صف میں شامل ہو کر غریبوں کی امداد کو ہتھیا گئے ۔ اسی طرح محکمہ زکواۃ جو خالصتا غرباء کی امداد کا ادارہ ہے ۔

اس میں بھی بسا اوقات ایسے لوگوں کے ساتھ مدد کی جاتی ہے ۔ جوکہ متمول خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ حالیہ سروے اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے ۔ لیکن سابقہ تجربات سے ذہن میں یہ سوالات اٹھتے ہیں ۔ کہ کیا موجودہ سروے کے جملہ معلومات درست ہو سکتے ہیں ;238; کیا پھر سے غیر مستحق کو مستحق بنانے گھریلو اثاثہ جات غلط اندراج کرکے حکومتی مراعات حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں کی جائے گی ۔ بطور ذمہ دار شہری کے ہ میں اپنے تمام کواءف ایمانداری کے ساتھ سروے ٹیم کو فراہم کرنے چاہیں ۔ لیکن اس کا امکان اس سروے میں بھی بہت کم نظر آتا ہے ۔ عوامی حلقوں کی طرف سے ابھی سے یہ بات گردش کر رہی ہے ۔ کہ اس سروے کے بعد حکومت کی طرف سے کئی قسم کے ٹیکسز کے لاگوہونے کے امکانات ہیں ۔ جبکہ عوام پہلے ہی سے بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں پیس رہی ہے اور ہلاکت کے قریب ہے ۔ جس میں سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے ۔ جو اپنی مجبوری کسی کے سامنے بیان بھی نہیں کر سکتی ۔

ہو سکتا ہے کہ موجودہ سروے حکومت کی طرف سے حقیقتا قومی سماجی معاشی خوشحالی سروے ہو ۔ لیکن عوام میں ابھی سے اس حوالے سے ایک خوف پایا جاتا ہے ۔ اور اسے آئی ایم ایف خوشحالی سروے قرار دیا جا رہا ہے ۔ جس کی تکمیل کے بعد عوام کا تیل نکالنے کا عمل شروع ہو گا ۔ اور مہنگائی ، بے روزگاری میں رہی کسر ناقابل برداشت ٹیکسز میں پوری کی جائے گی ۔


شیئر کریں: