Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پارلیمانی اور صدارتی طرز حکومت……..پروفیسر رحمت کریم بیگ

Posted on
شیئر کریں:

آج کی دنیا میں کوئی ڈھائی سو ممالک موجود ہیں جن میں سے اکثریت میں ڈکٹیٹرشپ، کچھ میں صحیح معنوں میں جمہوریت اور کئی ایک میں نیم جمہوری نظام جنم لے چکے ہیں افریقہ میں اکثریت ڈکٹیٹر شپ کی ہے عربوں میں بادشاہت اور چین و روس میں ایک پارٹی نظام موجود ہے جو اپنی مرضی سے تمام حکومت چلارہے ہیں ۔
جہاں بادشاہت ہے وہاں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں جہاں جمہوریت ہے وہاں بے لگام آزادی کا دور دورہ ہے، جہاں ایک پارٹی کی حکومت ہے وہاں تمام ضروریات کی ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہے فرد کام کرتا ہے اور اس کے کام کے اوقات مقرر ہیں اس کو بولنے کی اجازت نہیں ہے کھاتا ہے پیتا ہے عیش کرتا ہے مگر حکومت کے خلاف کچھ بھی زبان پر نہیں لا سکتا ورنہ اس کی خیر نہیں ،
جنوبی ایشیاء میں جمہوریت کی ایک برانڈ قائم ہے جسے کسی معقول انداز میں ترتیب نہیں دیا گیا مگر اس کو جاگیرداری نظام کے فائدے کے لئے ڈ یزائن کیا گیا تھا جو اب پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں رائج ہے جس میں جمہو ریت کے نام پر اقلیت کی حکومت قائم ہے کہ اسمیں تین امیدواروں میں سے تیس ہزار ووٹ لینے والا کامیاب اور باقی دو کے ووٹ ملاکر پچاس ہزار بننے کے باوجود ہار قرار پاتے ہیں ۔
کیا یہ جمہور یت کہلانے کے مستحق ہے؟ ایسی جمہوریت کس کام کی جس میں اقلیت حکومت کرے اور اکثریت حزب اختلا ف میں بیٹھ کر تنقید کرتی رہے؟ یہ جمہوریت نہیں ایک اور قسم کی لاثانی ڈکٹیٹرشپ ہے اس کو پارلیمانی نظام کا نام دینا سراسر ذیادتی ہے۔

اصل جمہوریت اس وقت عمل میں اسکتی ہے جب ایک امیدوار پارٹی ٹکٹ پر یا اپنی ازاد حیثیت میں پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرے ورنہ اس حلقے میں دوبارہ انتخاب کرنا چاہئے تمام پول شدہ ووٹوں کاپچاس فیصد سے کم ووٹ والا کوئی بھی ممبر بننے کا اہل نہیں کہلا سکتا وہ اقلیت کا نمایندہ ہے اور اسے وہی حیثیت دی جانی چاہئے۔
ایک دن میں ایک صوبائی اسمبلی کی کاروائی دیکھ رہا تھا ایک سیلیکٹڈ خاتون ممبر ایسی باتیں کر رہی تھی جس کی کوئی ایک ووٹ بھی نہ تھی اور وہ آسمان سر پر اٹھا رہی تھی۔ میں نے ایک دفتر میں ایک صوبائی ممبر کا سوال بھی دیکھا جو اسی دفتر میں جواب کے تفاصیل اکھٹا کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا مگر سوال کرنے والا ایک اناڑی لگ رہا تھا اس کا اصل سوال اور تھا اور ان کی مانگی گئی تفصیلات سوال سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتی تھیں ، یہ لوگ ہمارے ممبر ہیں نمائیندے ہیں اور بڑے لمبے چوڑے تقریر کے لئے وقت بھی مانگتے ہیں لیکن سوال جو بناکر بھیجا تھا وہ کسی چرواہے کی زبان تھی، مجھے بڑی ہنسی آئی اور غصہ بھی کہ یہ ہیں ہمارے نمائیندے۔ جو اصل میں کام کے لوگ نہیں بلکہ بنچ پر بیٹھنے کے قابل ہیں ۔ بنچ سے آپ جو مطلب لیں آپ کی اپنی مرضی۔ اس قسم کی جمہو ریت ہمارے گھمبیر مسائل کا حل نہیں ہے ، ہمارے لئے ایک مضبوط صدارتی نظام چاہیئے جو ملک کو آ ہنی ہاتھوں سے چلا سکے۔ بقول اقبال:

میں ناخوش و بیزار ہوں مر مر کی سلوں سے
میرے لئے مٹی کا حرم اور بنادو


شیئر کریں: