Chitral Times

Oct 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

محترمہ فلک ناز اور سینٹ کا ٹکٹ.. عنایت جلیل قاضی

شیئر کریں:

اللہ تبارک و تعالیٰ کسی فرد یا خاندان کو جب اپنی رحمت کی نظر سے دیکھتا ہے تو ان کو دین یا دنیا کی قیادت عطا کرتا ہے اوران لوگوں کو اس وقت تک نوازتا رہتا ہے جب تک یہ لوگ اللہ کی مخلوق کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرتے رہے۔

تحصیل تورکھو چترال کا ایک دورافتادہ علاقہ ہے جو 1969 تک، ریاست چترال کا ایک صوبہ تھا اور شاہی خاندان سے ایک شہزادہ، یہان پر ریاست کی طرف سے گورنر ہوا کرتے تھے۔ ریاست کے خاتمے کے بعد، اس علاقے کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔مشرف دور میں اس کو تحصیل مستوج میں ضم کردیا گیا اور حال ہی میں تورکھو اور موڑکھو پر مشتمل ایک علیحدہ تحصیل بناکراہالیاں تورکھو کی مشکلات میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

تحصیل تورکھو میں کئی نامورخاندان اورشخصیات گزری ہیں جو اپنی بہادری، عقل و فراست اور معاملہ فہمی کی وجہ سے مشہور ہوے۔حکمران وقت ان کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھاتے رہے اور ان کو، ان کی صلاحیت ،وفاداری کے حساب سے منصب بھی دیتے رہے۔ ان لوگوں نے بھی وفاداری اور قابلیت کے ان مٹ نقوش چھوڑے۔

تورکھو کے ان نامور خاندانوں میں ایک خاندان چارویلان رائین کا ہے جو زمانہ قدیم سے اس اعلیٰ منصب پر پشت در پشت فائز ہوتے رہے اور اختتام ریاست تک ایک مدبر، منتظم اور وفادارکی حیثیت سے مشہور ہوے۔ معلوم تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس خاندان کا پہلا فرد، میرمحمد اشرف (تاریخ وفات1763 )رائیس بادشاہ۔ شاہ عبدالقادر کے دور میں تورکھو کے میر( ایک مخصوص علاقے کا انتظامی سربراہ) منتخب ہوے۔ کٹور دور میں میر کا منصب چارویلو میں بدل گیا اوراسی خاندان سے زرین شاہ، شاہ زرین، نیاز زرین  دوران شاہ چارویلو کے عہدے پر فائز رہے۔ یہ خاندان مہتر نظام الملک اور مہترمظفرا لملک کی رضاعت بھی کیں اور یوں شاہی خاندان کے ساتھ خونی رشتہ قائم کرکے شاہی دربار میں الگ مقام بنانے میں کامیاب رہے۔ اس زمانے میں چترال میں تعینات انگریز افیسر اور مورخ گرڈن (میجر گیڈین) لکھتا ہے “نیاز زرین چارویلو شہزادہ مظفرالملک کا مشیر خاص ہے جو ان کی غیر موجودگی میں انتطامی معاملات سنبھالتاہے”۔ یوں رائین چارویلو وادئی تورکھو کے مشکل ترین حالات میں ریاست کا کام احسن طریقے سے چلاتے رہے اور خراج تحسین پاتے رہے۔ چونکہ چارویلو کے پاس تعمیرات کا شعبہ بھی ہوتا تھا اور نیاز زرین چارویلو نے اس حوالے سے جو سب سے نمایاں کام انجام دیا وہ بکر آباد کا نہر ہے۔ انہی کی سربراھی میں یہ کام 1909 میں پایہ تکمیل کو پہنچا اور ایک نئی بستی وجود میں آئی۔نیاز زرین چارویلو اسٹیٹ باڈی گارڈ کے صوبیدار میجر بھی رہے اور سال 1919 جنگ بریکوٹ میں نمایاں کردار آدا کیا۔

محترمہ فلک ناز صاحبہ کا تعلق اسی خاندان سے ہے جس کی بنا پر بہادری، انسان شناسی، موقع شناسی اور وفاداری ان کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔جب سے پی-ٹی-آئی وجود میں آئی ہے تب سے پارٹی کا ایک فعال کارکن ہے۔ تمام مشکل حالات میں عمران خان کا دست و بازو بن کر ساتھ دیتی رہی۔ یقیناً وفا کا صلہ ملتا ہے، خلوص اللہ کو پسند ہے اور ان کا صلہ فلک ناز کائے کومل گیا اوران کو سینٹ کا ٹکٹ دیا گیا۔ میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں اور ذہنی طور پر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قریب ہوں لیکن اس موقع پرعمران خان کی ایک اچھی سوچ کی تعریف اور تائید کرنا شائد غیر مناسب نہیں ہوگا اور میں اس خیراندیشی کی تعریف کررہاہوں۔ مجھے امید ہے کہ ہمارے دونوں نمائندے پارٹی اختلافات سے بالاتر ہوکر، ہماری بہن کی حمایت کرکے ان کی جیت میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

سینٹ جیسے ادارے میں چترالی نمائندے کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ شہزادہ برہان الدین مرحوم کے بعد، فلک ناز پہلی چترالی شخصیت ہیں جن کو کسی پارٹی نے ٹکٹ دی ہے اور یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ہم قانون سازی میں چترال کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ چترال کی مفادات کا بھی خیال رکھ سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں مولانا عبدلاکبر چترالی صاحب، چترال کی بہترین نمائندگی کر رہے ہیں اور سینٹ میں فلک ناز چترالی کا آنا اور پھر ان دونوں چترالیوں کا مل کر کام کرنا چترال کی قسمت کیلئے نیک شگون ہوسکتا ہے۔ چترال کی سیٹیں بڑھانے کے حوالے سے ایک بہترین ورکنگ ریلیشین شپ بنائی جاسکتی ہے اور قومی اسمبلی میں چترال بالا کیلئے ایک سیٹ کا اضافہ کیا جسکتا ہے جو وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ اس وقت ہمارے دونوں نمائندے اپوزیشن سے ہیں جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ فلک ناز کائے کی کامیابی سے اہل اقتدار سے ربط بڑھے گی جس کا فائدہ چترال کو ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان فلک ناز کو کابینہ میں شامل کر کےوزارت سے نوازسکتا ہے اور یوں چترال کو وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کا موقع میسرآسکتا ہے۔  


شیئر کریں: