Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مظلوم کی آہ…… محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


خیبر پختونخواحکومت نے حقوق نسواں کے تحفظ کیلئے بولو ہیلپ لائن ٹول فری نمبر جاری کردیا ہے۔گھریلو تشدد،صنفی امتیازسمیت مشکل صورتحال کا سامنا کرنے والی خواتین ٹول فری نمبر پر کال کرکے متعلقہ حکام کو اپنی بات بلاخوف و خطر بتا سکتی ہیں جس پر فوری طور پر حکام کی طرف سے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اور خوا تین کو بھر پور تحفظ ملے گا۔تحفظ نسواں کے اس پروگرام میں صوبائی حکو مت کو متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ سماجی بہبود کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔حکومت کا کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی، جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کو قانونی اور مالی امداد کے علاوہ ان کی متبادل رہائش کا بھی انتظام کیا جائے گا۔بولو ہیلپ لائن کے ذریعے خواتین کو جنسی تشددوجسمانی ایذاسے بچانے کے لئے قانونی تحفظ اور پولیس شیلٹر کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے گا۔

حکومت کے تعمیری، اصلاحی اور اچھے کاموں میں کیڑا نکالنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں، تاہم اپنے تحفظات کا اظہار کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی و قانونی حق ہے۔خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے اس پروگرام کے ذریعے حکمرانوں نے درحقیقت یہ اعتراف کرلیا ہے کہ مرد ہی ظالم، بے مروت، بے وفا، ناقابل اعتبار اور نازک احساسات سے عاری ہوتے ہیں حالانکہ یہ مفروضہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ہمارے معاشرے میں مرد بیچارہ سب سے زیادہ مظلوم ہے۔ وہ دن بھر بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کرتا ہے اپنے باس، ٹھیکیدار، جمعدار اورسینئرز کی جھڑکیاں سنتا ہے۔ تھک ہار کر گھر آتا ہے تو بیگم کی طرف سے فرمائشیں پوری نہ ہونے کے طعنے سہنا پڑتا ہے۔ گھر میں جو کچھ پکا ہو۔بے چون و چرا کھانا پڑتا ہے۔ کبھی کچھ اچھا کھانے کی خواہش کا اظہار کرے تو سو باتیں سننی پڑتی ہیں۔ ہم نے اپنے ان گنہگار آنکھوں سے بیچارے مردوں کو بیلن، ڈنڈے اور جوتیاں کھاتے بھی دیکھا ہے۔ مجال ہے کہ یہ مردم سوز ظلم و ستم سہنے کے باوجود ان کے منہ سے اف تک نکلا ہو۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسے مردوں کو تشدد اور ظلم و ستم سے بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے آج تک کوئی قانون بنا نہ ہی کسی نے ان کی فریاد سنی۔ وہ ایسے بد قسمت مظلوم ہیں کہ انہیں گھر کے اندر جھڑکیاں اور گھر کے باہر جورو کا غلام ہونے کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔

جس طرح سارے مرد ظالم نہیں ہوتے اسی طرح تمام خواتین مظلوم نہیں ہوتیں۔گھریلو تشدد مردوں پر بھی ہوتا ہے۔ مگر وہ شرم کے مارے کسی سے فریاد یا مدد کی درخواست نہیں کرتے۔ ایسے مظلوم، مقہور اور مجبور مردوں کو بھی گھریلوتشدد سے بچانے کے لئے کوئی قانون سازی اور ریلیف پیکج دینا چاہئے۔کوئی بھی جرنیل، جج، کسی محکمے کے سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل، منیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل منیجر سمیت کسی وزارت، محکمے،ڈویژن اور ادارے کا بڑا افسر اپنے دفتر کے احاطے میں ہی شیر ہوتا ہے۔ گھر کے اندر اس کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ اور اپنی مظلومیت کو وہ ان الفاظ کے لبادے میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ ہر شریف آدمی اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔اور گھر کے اندر حاکمیت عورت کی ہی ہوتی ہے۔

خود کو شرفاء کی صف میں شامل کرکے اپنی مظلومیت چھپانے والے لوگ سب سے زیادہ قابل رحم اور مدد کے مستحق ہوتے ہیں۔صنف نازک کے پردے میں بہت سی ظالم، جابر اور منہ زور خواتین چھپی ہوتی ہیں۔آج تک کوئی بہو سسر کے ظلم و ستم کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر نہیں گئی۔ ہمیشہ ساس اور سوتیلی ماں ہی معصوم بچیوں کا گھر اور سہاگ اجاڑنے کی مرتکب ہوئی ہیں۔اور مرد بے چارہ ہمیشہ اپنی بیوی کی سائیڈ لیتا ہے کیونکہ وہ بھی بہو کی طرح دربدر ہونا نہیں چاہتا۔سوتیلی ماؤں اور ظالم ساسوں کی بربریت کا شکار ہونے والی کسی لڑکی کی آج تک داد رسی ہوتے میں نے نہیں دیکھا۔خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا حکومتی فیصلہ بلاشبہ قابل تحسین ہے لیکن مظلوم کے خانے سے مردوں کو خارج کرنا انصاف کے منافی ہے۔ہمارے پالیسی سازوں کو مظلوم مردوں کی آہ سے بچنے کی بھی تدبیر کرنی چاہئے کیونکہ مظلوم کی آہ عرش تک جاتی ہے۔خواہ وہ آہ مردانہ ہو یا زنانہ۔


شیئر کریں: