Chitral Times

Jan 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خوشی کا قصور ہے……….تحریر: عارف حسین

شیئر کریں:

           حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
            اخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں

کہنے کو تو نوشہ میاں یہ شعر کہہ کر اپنی سخنوری پر مہر تصدیق ثبت کرگئے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ بیت ان لوگوں کے لئے جنت کے پروانے کا درجہ رکھتی ہے جن کو مذہبِ اسلام وراثت میں ملی ہے مگر ان کے اعمال کسی بھی زاویے سے مومن کے نہیں لگتے. اس پر طرّہ یہ کہ وہ لوگ اب گناہ کرنے سے مطلق نہیں گھبراتے کیونکہ مراد تو پوری ہوچکی ہے اب کیوں زاہد بنے پھریں. یہ بات کچھ بعید از قیاس نہیں کہ ان کی زندگی اب انہی کاموں میں گزرے گی جن کی طرف ان کو ان کا نفس لے جائے گا


یورپ کی کسی لیبارٹری میں منہمک سائنسدان کو اگر اس وقت کائنات میں موجودہ ستاروں اور سیاروں کی کھوج ستاتی ہے تو ہم لوگوں کو حوروں کی تعداد تنگ کرتی ہے. سائنس لگاتار انواع و اقسام کے بیماریوں کے لئے علاج ڈھونڈ نکالتا ہے اور ہم یہ کہہ کر سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ جنت میں کوئی جسمانی مسائل موجود نہیں بس مزے ہی مزے ہیں. عرضیکہ ہماری ہر بات کلمے سے شروع اور حوروں پہ ختم ہوتی ہے اور ان کا ہر بات جن کا اشیانہ شاخِ نازک پر ناپائیدار طریقے سے تعمیر کیا گیا ہےہر بات کھوج اور الجھن سے شروع ہوتی ہے اور دریافت پہ ختم. البتہ پولیو کے مفلوج مریض کو یہ دکھ ضرور ہے کہ اسے مودانہ کمزوری کے جراثیم والے قطرے کیوں پلائے نہیں گئے.


مولانا مودودیؒ اپنے کتاب “خطبات”میں لکھتے ہیں کہ اگر مسلمان کوئی غلطی کرے تو اس کی سزا کافر کے نسبت زیادہ ہونی چاہیے جس نے یہی جرم کیا ہے. وجہ کچھ یوں ہے کہ مسلمان یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے خدا اور اس کے رسول کی طرف سے کونسے احکامات ملے ہیں یہ غلطی کرتا ہے جبکہ کافر کو ان چیزوں کا پتا نہیں ہوتا. کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے عادات و خصال تو قران و حدیت کے زیرِ اثر مرنجان مرنج ہونا چاہیے مگر ہم نے جو لالچ پال رکھا ہے وہ شاید ہی کبھی کم ہو.


حالیہ دور میں جو روح فرسا واقعات روز رونما ہوتے ہیں ان کو درج کرتے ہوئے فرشتے بھی انسو بہاتے ہونگے. اس ماں کو زندگی بھر چین کی نیند کیسے میسر ہوگی جس کی دس سالہ بچی زیادتی کے بعد دم توڑ گئی اور لاش کسی نالے میں پڑی ملی. وہ ماں اپنے اولاد کو اس ملک کے بارے میں کونسا تاثر دے پائے گی جو فرانس سے انہیں یہاں لائی تھی اور وہ خود موٹروے پر بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانی بن بیٹھی. سیانے پھر بھی کہتے ہیں کہ لوگ پاکستان چھوڑ کر باہر ملکوں کی شہریت کیوں مانگتے ہیں.


اس سے قبل کہ ہمارا انجام بھی عادو ثمود کے قوموں کی طرح ہو ہمارے لوگوں اور قانون کو بیدار ہونا ہوگا. جن ملکوں مکں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی وہاں مسندوں میں درندے بیٹھ جاتے ہیں جو کو انسان انسان نظر نہیں اتا بلکہ جسم نظر اتی ہے، گھوشت نظر اتا ہے. ترقی کی باتیں ہوتی رہیں گی مگر ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ انی والی نسل اس قابل ہو کہ انہیں اس ملک سے وابستگی باعثِ شرمندگی نہ لگے.


شیئر کریں: