Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ثقافت کی مثبت ٹھیکہ داری کس طرح کی جائے ؟………تحریر: ظفر احمد

Posted on
شیئر کریں:

جب سے فیس بک جوائن کیاہے ہمارے چترالی ثقافت کے کیسے کیسے ٹھیکے دار دیکھے جنھیں کھوار ملبوسات سے لیکر کھوار موسیقی تک اور چترالی طعام سے لیکر ہمارے اقدار تک کی ایسی فکر لاحق ہے کہ دن رات اسکے لیے فکر مند اور اس کی حفاظت کے لیے لڑنے جھگڑنے تک اتر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں کیسے کیسے عجیب وغریب تجاویز دیکھنے کو ملے مثلاً مشینی فنکار، جنھوں نے کھوار موسیقی کا بیڑا غرق کر دیے ، پر پابندی عائد کی جائے ؛ ثقافت سے ہٹنے والی خواتین پر نظر رکھی جائیں؛ چترالی جوس پینے والوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ہر ماروائے عقل کام کا مطالبہ کرتے ہیں جن کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی وہ ممکنات کے زمرے میں آتی ہیں۔ بلا کسی کی نجی زندگی سے ہمیں کیا لینا دینا ؟

کیوں نہ ہم وہ کام کریں جو ممکنات کے زمرے میں آتی ہیں اور جن کی اشد ضرورت بھی ہے ۔ مثلا ً کھوار طعام کو بچانے کے لیے ماں بیٹی ریستوران کھولتے ہیں اور بھائی ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ کامسیٹ سے فارغ کریم آباد کا رہائشی نوجوان نوکری کرنے کی بجائے کاروبار کو دوکانداری اور دوکانداری کو معیوب سمجھنے والوں کا نظریہ ہی بدل دیتا ہے اور سب سے بڑھ کر موسمی تعیرات سے آفت زدہ چترال اور سیاحت کے نام پر ووٹ لینے والوں کو نوجوان موٹر سائکلسٹ عملی طور پر دکھاتے ہیں کہ موسمی تغیرات سے متعلق آگاہی اور سیاحت کو کس طرح فروغ دیا جا سکتا ہے۔

بھائی! نعرے بلند کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، تبدیلی کے لیے عملی میدان میں کام کرنے ہوں گے۔ ہمیں کھوار موسیقی کی سرپرستی نہ ہونے کا بڑا دکھ ہے کیا یہ ہمارے لیے نا ممکن ہے کہ ہم چترال میں “کھوار موسیقی” کے لیے روایتی طرز کا ایک اکیڈمی کھول دیں ، جہاں “بھوخاری” میں آگ جل رہی ہو اور ناظرین بیٹھ کر فن کاروں کے فن سے محظوظ ہو رہے ہوں اور جہاں “کلاش ثقافت” کو بھی نمائندگی دے جائے۔ اگر گلگت والے “بولبولک” کے نام سے میئوزک سکول بنا سکتے ہیں تو کیا ہمارے سیاحت کے نام پر ووٹ لینے والے انصافین اور اقلیت کے سیٹ پر ہمارے MPA ہمارے کلاش قبیلے کےلیے اتنا تک نہیں کر سکتے؟ جس میں ثقافت کے لیے خون کے آنسو رونے والے بھی تھوڑا اپنا سا حصہ ڈال دیں۔

الیکشن کے دوران انصاف والوں نے دوسرے امور سمیت “سیاحت اور موسمی تغیرات” کے نام پر ووٹ لیے۔ ووٹ بھی کیا انصاف کی سونامی ائی اگر مولوی صاحبان ایک نہ ہوتے تو جیت بھی جاتے۔ اب سننے میں آیا ہے کہ سیاحت کے لیے حکومت نے خاطر خواہ رقم بھی منظور کی ہے۔ کیا سیاحت کے فروغ کے لیے عملی قدم یہ نہیں ہو گا کہ انصاف والے وہ کام کریں جو سیاحت کو عملی طور پر فروغ دیں۔ مثلاً MPA وزیر زدہ ، جنھیں مولانا صاحب نے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے، “کلاش قبیلے” کے مسائل حل کرنے کے علاوہ سیاحت کے فروغ میں ان کے منفرد تہواروں کی سرپرستی کر دیں۔ اسی طرح نوجوانوں میں مقبول سیاستدان اسرار صبور اور دوسرے انصافین کے ساتھ مل کر “کھوار اکیڈمی” کا سنگ بنیاد رکھ دیں، “نان کیفے” جیسے روایتی کھانوں پر مشتمل ریستوران کی سرپرستی کر دیں۔ ظاہر سی بات ہے سیاحوں کو ایسی چیزیں کھینچ لاتی ہیں وہ تبلیغ کے لیے تھوڑی آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحت کے لیے “چترال سے گوادر تک” اپنے پیسوں سے ریلی نکالنے والے adventurous نوجوانوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جنھیں ہمارے نمائنداگان نظر انداز کرتے ہیں۔

عملی اقدامات انہی کو کہتے ہیں جس سے بہت سارے کام نکل آتے ہیں۔ جیسے کہ اوپر منشن کیے گئے کام کرنے سے ایک طرف ثقافت کے لیے شب و روز فکر مند رہنے والوں کے دکھ کا مداوا ہو گا، فنکاروں کی خدمات کا بھی اعتراف ہو گا ، موسیقی سمیت ثقافت کے دوسرے اجزا مثلا ً کھوار طعام بھی بچ جائیں گے اورسب سے بڑھ کر جدید فنکار، جو ہمارے بقول دس ہزار روپے مشینی اسٹوڈیو والے کو دے کر اپنے گانے ریکارڈ کرواتے ہیں، وہ بھی کھوار اکیڈمی کا رخ کر لیں گے تو اکیڈمی کے لیے آمدنی بھی پیدا ہو گی۔ سیاحت بھی پروان چڑھے گی ، روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے اور ان سب سے بڑھ کر ہم جیسے لوگ ، جنھیں ہمارے سماج پر تنقید کے سوا کچھ اور نہیں آتا، کے منہ کو بھی لگام لگ جائیں گے۔


شیئر کریں: