Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آٹا، روٹی اور ہم …………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پچھلے دنوں جب ٹماٹرکی قیمت دو سو روپے فی کلو گرام سے تجاوز کر گئی تو ایک صحافی کے سوال پر صوبائی حکومت کے ایک وزیر نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ ٹماٹر کا استعمال ترک کردیں اور متبادل کے طور پردہی استعمال کریں تو قیمت خود بخود کم ہوجائے گی۔ عوام نے صوبائی وزیر کے مشورے پر کس حد تک عمل کیا۔ اس کی جائزہ رپورٹ کسی نے تیار نہیں کی۔ تاہم ہفتے دو ہفتے بعد ٹماٹر کی قیمت کم ہوکر سو روپے کلو تک پہنچ گئی۔ ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام کی چیخوں کی صدائے باز گشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ آٹے کی قیمت میں دس روپے فی کلو اضافہ ہونے کی خبر پھیل گئی۔ 900روپے فی بیس کلو آٹے کا تھیلا گیارہ سو روپے کاہوگیا۔ سات سو اسی روپے فی بیس کلو کا سرخ آٹا بھی ایک ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد تندورچیوں نے اگرچہ روٹی کی قیمت فوری طور پر نہیں بڑھائی مگر اس کا وزن اتنا کم کردیا کہ ایک تندوری روٹی کھانے والے کا گذارہ اب دو روٹیاں کھاکر بھی نہیں ہوتا۔ مجبور لوگ مرتے کیا نہ کرتے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے چپ چاپ روٹی نما ساشے تندور سے اٹھاکر لے جاتے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ٹماٹر کا متبادل تو دہی دستیا ب ہے لیکن آٹے اور روٹی کا کوئی متبادل نہیں۔تندور والے کہتے ہیں کہ دکان سے انہیں آٹا مہنگا ملتا ہے۔ دکاندار کہتے ہیں کہ پیچھے سے مہنگا آیا ہے۔ فلور ملز والوں کا موقف ہے کہ گندم کا سرکاری کوٹہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ اوپن مارکیٹ سے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ سرکار اس بارے میں کچھ نہیں کہتی۔کیونکہ وہ کوئی متبادل طریقہ بتاتے ہیں تو نیا تنازعہ کھڑا ہوتا ہے۔ واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ پشاور سے پانچ فیصد آٹا، دس فیصد چاول اور گیارہ فیصد چینی سمگل ہوکر افغانستان پہنچائی جاتی ہے۔ سمگل کرنے والوں کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ مارکیٹ میں رسد کم ہوگی تو ان کے گھروں میں بھی مہنگا آٹا آئے گا۔ کیونکہ وہ پانچ گنا زیادہ قیمت پر آٹا سمگل کرکے اپنا نقصان پورا کرلیتے ہیں۔موٹر کاریں، الیکٹرانک کا سامان اور دیگر درآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ٹیکس، محصول، چونگی وغیرہ کے ریٹ بڑھنے سے چیزوں کی قیمت بڑھتی ہے۔ لیکن گندم، گنا، دالیں، سبزیاں اور پھل تو ہماری اپنی پیداوار ہیں ان کی قیمتوں میں عدم استحکام کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان دو کروڑ بارہ لاکھ میٹرک ٹن گندم سالانہ پیدا کرتا ہے۔ملکی ضرورت سے زائد پیداوار ہونے کی وجہ سے لاکھوں ٹن گندم برآمد بھی کی جاتی ہے۔ہماری گندم کی پیداوار پورے افریقہ کی مجموعی پیداوار سے زیادہ اور جنوبی امریکہ کی پیداوار کے مساوی ہے۔اس کے باوجود گندم ناپید اور آٹا مہنگا ہونا حکومتی مشینری کی کمزوری ہے یا پھر پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے۔ حکمرانوں سے کیا گلہ کرنا۔ ہم خود بھی اپنے درپے آزار ہوچکے ہیں۔ہر پاکستان سالانہ 124کلو گرام گندم کھاتا ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ فی کس کھپت کی مقدار ہے۔ہم روٹی کے اتنے رسیا ہیں کہ چاول کے ساتھ بھی روٹی کھاتے ہیں چائے میں بھی روٹی ڈبوڈبو کر کھاتے ہیں۔انواع و اقسام کے لذیذ طعام بھی دستر خوان پر کیوں نہ چنے ہوں، ہماری نظریں سب سے پہلے روٹی کو تلاش کرتی ہیں۔پنجاب کے ایک سیاست دان چوہدری نے روٹی کے ساتھ شوٹی کالاحقہ لگاکر اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔روٹی کے پیچھے ہم جس طرح ہاتھ دھو کر پڑے ہیں اس سے ہمارا حال شاعر کے اس تخیل سے مختلف ہوتا نظر نہیں آتا کہ ابھی تو اور زبوں حال مجھ کو ہونا ہے۔ ابھی تو اور میری زندگانی بکھرے گی۔ہم بفضل خدا اپنی آبادی میں دو ضرب دو مساوی چار ضرب چار کے حساب سے اضافہ کر رہے ہیں۔سقوط ڈھاکہ کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ تھی، گذشتہ پچاس سالوں میں اس میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے۔ آئندہ پچاس سالوں میں مزید چارسو گنا اضافہ ہوگیا توایک کلوگندم بونے کے لئے زمین کا ٹکڑا بھی نہیں ملے گا۔کھیت کھلیاں اور جنگل بیانان سب کنکریٹ کے جنگلوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔ہم اپنی زندگی کے لئے منصوبہ بندی کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں اور سب کچھ اللہ تعالیٰ پر چھوڑدیا ہے۔بیشک اللہ پر توکل کرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل سے نواز کر اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ اس عقل کا تھوڑا سا استعمال شروع کردیں تو ہمارا اور ہماری آئندہ نسلوں کا بہت بھلا ہوسکتا ہے۔


شیئر کریں: