Chitral Times

Mar 5, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جماعت اسلامی خٰیبرپختونخواکے زیراہتمام منعقدہ ملٹی پارٹی کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) جماعت اسلامی خیبر پختونخواکے زیر اہتمام خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں کا ملٹی پارٹی کانفرنس 29جنوری 2020ء کو جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے ہیڈ کوارٹرمرکز الاسلامی سردار گڑھی جی ٹی روڈ پشاورمیں منعقد ہوا۔اس کانفرنس میں صوبے کے حقوق،ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مسائل،آٹے کے بحران،بجلی،گیس، پیٹرولیم مصنوعات،ادویات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ اور کمرتوڑ مہنگائی سے پیداشدہ صورتحال پر غور وغوض کیا گیا۔صوبہ خیبر پختونخوا گزشتہ دو عشروں سے جنگ،تباہی اور بدامنی کاشکار رہاہے۔اس طویل بدامنی نے جہاں پورے صوبے اور اس سے ملحقہ قبائلی اضلاع کے انفراسٹرکچرکو تباہ کیا ہے وہاں ضم شدہ اضلاع سمیت پورے صوبے کی معیشت ہلاکر رکھ دی ہے۔بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا ہے تعلیمی ادارے،صحت کے مراکزتباہ اور کاروبار مفلوج ہوچکے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کاخیبرپختونخوا میں دوبارہ برسراقتدار آنے نیز مرکز سمیت پنجاب اور بلوچستان میں مشترکہ حکومتیں بنانے کے بعد اس کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ خیبرپختونخواکے عوام کی ریاست کے لئے قربانیوں کا ادراک کرکے معاشی بحالی اور ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات کرتی لیکن اس کے برعکس وفاقی حکومت صوبے کے آئینی حقوق دینے میں مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب صوبائی حکومت بھی NFC،بجلی کے خالص منافع،تیل اور گیس کی رائلٹی پر صوبے کے عوام کی ترجمانی اور موثر آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔مذید براں ضم شدہ قبائلی اضلا ع کے ساتھ صوبے میں انضمام کے وقت کئے گئے وعدے بھی پورے نہیں کئے جارہے ہیں اور ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجودبھی صوبائی اور مرکزی حکومتوں نے قبائلی عوام کے مسائل میں کمی کے بجائے مذید اضافہ کیا ہے۔
.
خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں اورتاجر برادری کی یہ ملٹی پارٹی کانفرنس اس ناگفتہ بہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قراردیتی ہے کہ ملک کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی معاشی بدحالی،ناقص طرز حکمرانی،اقرباء پروری اور بحرانی کیفیت طاری ہے۔سیاسی جماعتیں عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہیں اور عوام کے سلگتے مسائل کو زبان دیتی ہیں۔سیاسی جماعتیں اگر عوام کی موثر ترجمانی نہیں کرتیں توپھر ریاستیں ناکام ہوتی ہیں۔اس لئے یہ کانفرنس طویل غور وغوض کے بعد مندرجہ زیل نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری کرتا ہے۔
.
1۔ یہ کہ بجلی کا خالص منافع آئین پاکستان کے دفعہ 161کے تحت صوبوں کا حق ہے۔یہ ان چند دفعات میں سے ایک ہے جس میں توضیحی شق کے ذریعے سے بجلی کے خالص منافع کی تعریف کی گئی ہے اور یوں کسی بھی ابہام کو ختم کیا گیا ہے۔مزید براں 1987ء میں آفتاب غلام نبی قاضی کی سربراہی میں قائم کمیشن نے بجلی کے خالص منافع کی تقسیم کا فارمولہ طے کیا ہے جس کو کونسل آف کامن انٹرسٹ(CCI)نے متعدد بار منظور کیا ہے وفاقی کابینہ، سپریم کورٹ آف پاکستان،این ایف سی جیسے 4دستوری اداروں نے منظور کیا ہے۔ لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیاجا رہا ہے۔ماضی میں صوبے اور مرکز میں مخالف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کی وجہ سے اس فارمولے پر عمل درآمد نہیں ہو سکاجبکہ اس وقت چونکہ مرکز اور صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے لہٰذا یہ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ بجلی کے خالص منافع کی مد میں اے جی این قاضی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمہ اس سال کے واجب الادا 450ارب روپے صوبے کو فی الفور ادا کئے جائیں اور 450ارب روپے کے بقایا جات سینیٹ آف پاکستان کی منظور کردہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق فی الفور، ٹوٹل اور ڈالر ریٹ کے حساب سے دئیے جائیں۔ نیز اسی شرح سے حساب کتاب کر کے پچھلے کئی سالوں سے وفاق کے ذمے بقایاجات بھی صوبے کوجلد از جلدریلیز کیئے جائیں۔نیز خیبر پختونخوا 6000میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ اس کی اپنی ضرورت 1500میگا واٹ کے قریب ہے یہ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ صوبے میں لوڈ شیڈنگ کا فی الفور خاتمہ کرکے صوبے کی ضرورت کے مطابق بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے۔ بجلی کا نظام پنجاب کے ہم پلہ کیا جائے۔پن بجلی کے مزید منصوبے بنائے جائیں۔

2۔ نیشنل فنانس کمیشن آئین کے آرٹیکل 160کے تحت ایک آ ئینی ادارہ ہے جسکی تشکیل نو ہر پانچ سال بعد ایک آئینی تقاضہ ہے اوروفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اسکی بنیادی ذمہ داری ہے جسکا ہر پانچ سال بعد ایک ایوارڈ کے شکل میں اجراء ہوتا ہے۔1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد سے اب تک سات ایوارڈز کا اجراء ہوا ہے آخری ایوارڈ2010ء میں ہوا تھا۔ آئین پاکستان کے تحت عمودی تقسیم میں صوبوں کا حصہ پچھلی تقسیم سے کم نہیں ہوگا۔اس شق کی وجہ سے NFCایوارڈ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت NFCایوارڈ کی اجراء میں ناکام رہی ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا پر اس کے انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس لئے یہ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقیت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فی الفور NFCایوارڈ کا اجرا ء کیا جائے۔

3۔ یہ کہ 1991ء میں واٹر اکارڈ (Water Accord)کے نام سے چاروں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں دریائے سندھ کے پانی میں چاروں صوبوں کے حصے مختص کئے گئے ہیں۔خیبر پختونخوا کے حصے کا پانی سندھ اور پنجاب استعمال کررہا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا اپنے حصے کے پورے پانی کے استعمال کیلئے وسائل نہیں رکھتا ہے معاہدے کے مطابق خیبر پختونخوا کے حصے کے پانی کے استعمال پرپختونخوا کو معاوضہ د یا جائے گا۔یہ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ نہ صرف خیبر پختونخوا کے اضافی پانی کے استعمال کا معاوضہ فی الفور صوبے کو ادا کیا جائے بلکہ صوبے کو اپنے حصے کا پانی استعمال کرنے کے لئے وسائل بھی مہیا کئے جائیں۔

4۔ یہ کہ وفاق کے ترقیاتی بجٹ 2019-20میں خیبر پختونخوا کو اپنے جائز حصہ سے کم دیاگیا ہے۔نیز جو حصہ دیاگیا ہے دوسرے صوبوں کے بہ نسبت اس میں فنڈز بھی کم جاری کئے گئے ہیں۔ملٹی پارٹی کانفرنس یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ اس زیادتی کا ازالہ کیا جائے اور NFCفارمولا کے حساب سے خیبر پختونخوا کو PSDPمیں حصہ دیا جائے۔نیز مہمند ڈیم اور بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں اور لفٹ کینال کی تعمیر کیلئے بھی معاہد ہ کے تحت فنڈ ر جاری کرکے کام کا آغاز کیا جائے۔ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔

5۔ یہ کہ CPECمیں صوبہ خیبرپختونخوا کو اپنے جائزحق سے محروم رکھا گیا ہے۔CPECکے تحت توانائی کے شعبوں میں زیادہ تر سرمایہ کاری پنجاب میں ہورہی ہے نیز پشاور کراچی ریلوے، پشاور تا ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے، چترال، چکدرہ، شندور، گلگت روڈ اور انڈسٹریل پارکس کے منصوبوں کونہ صرف سی پیک میں شامل کیا جائے بلکہ ان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کا آغاز بھی کیا جائے۔ سوات، ملاکنڈ اور ہزارہ کو ٹورسٹ صنعت قرار دے اس کو CPEC کا حصہ بنایا جائے، سابقہ فاٹا کو اس میں شامل کیا جائے۔

6۔ یہ کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پرسب سے پہلے اس صوبے کا حق ہوتا ہے جہاں یہ پیدا ہوتی ہے، خیبرپختونخوا اپنی ضرورت سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن اسکے بادجود خیبرپختونخواکے بیشترعلاقے نہ صرف گیس کی سہولت سے محروم ہیں بلکہ صوبائی دارلحکومت سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ نے شدید سردی میں عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، صنعتوں کو بھی گیس فراہم نہیں کی جارہی، جبکہ صوبے کی پیدا کردہ گیس ملک کے دیگر حصوں کو دی جار ہی ہے لہٰذا قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے گیس سے محروم تمام علاقوں کو گیس کی سہولت ترجیحی طور پر فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ گیس لوڈ شیڈنگ کا بھی فی الفور خاتمہ کیاجائے۔پختونخوا کے تیل، گیس، یورینیم و دیگر وسائل میں مقامی آبادی کو 75فیصد ملازمتیں دی جائیں۔
7۔ اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا میں آٹے کا شدید بحران ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ خیبر پختونخوا،پنجاب اور مرکز میں ایک ہی پارٹی تحریک انصاف کی حکومت کے باوجود پنجاب حکومت نے خیبر پختونخوا کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کرکے آٹا،گندم اور اس سے بنی مصنوعات کی سپلائی روک رکھی ہے۔ایک ہی ملک کے دوصوبوں میں آٹے کی قیمتوں میں واضح فرق ہے،پنجاب میں آٹے کا 20کلو تھیلہ 790روپے جبکہ یہی تھیلہ خیبر پختونخوا میں 1280سے1400روپے تک پہنچ چکا ہے جو کہ تحریک انصاف کا دو نہیں ایک پاکستان والے نعرے کی عملاً نفی اور اس کی نااہلی کی انتہاہے۔
8۔ مہنگائی اورخاص طور پر روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔موجودہ حکومت کا برسراقتدارآنے کے بعد سے ہر مہینے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معمول بن چکا ہے۔ اسی طرح نہ صرف بجلی اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کی صورت میں بھی سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے لہٰذا یہ کثیر الجماعتی کانفرنس حکومت سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوش رباء اضافہ کنٹرول کر کے عائد شدہ تمام غیر ضروری ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
9۔ گذشتہ دوعشروں کے دوران طویل ملٹری آپریشنز کے نتیجے میں قبائل اضلاع کا انفراسٹرکچر تباہ ہواہے،تعلیمی ادارے اور مراکز صحت عملاًختم ہیں،قبائلی علاقوں میں بے روزگاری،ناخواندگی اور غربت کا دوردورہ ہے۔چونکہ وفاقی حکومت نے انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کو 10سال میں 1000ارب روپے کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا جس میں 100 ارب روپے ہر سال جاری کرنے تھے اور جسکے لئے اس سال2019-20ء کے لئے صوبائی بجٹ میں 83ارب روپے رکھے گئے ہیں لیکن تا حال یہ رقم جاری نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ کانفرنس مطالبہ کرتا ہے کہ اس رقم کو قبائل کی ترقی پر خرچ کر نے کیلئے فوری طورپر موثر اور شفاف میکنزم وضع کرے اور اسکااجرا ء کرکے عملاً قبائلی اضلاع کے اندر ترقی کاسفرشروع کیا جائے نیز انضمام کے وقت قبائلی اضلاع کو NFCکا تین فیصد حصہ دینے کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس پربھی فوری طورپر عمل در آمد کیا جائے۔قبائلی اضلاع اور صوبے میں دہشت گردی کے ذریعے پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ اس حوالے سے بیرونی امداد میں صوبے کا حصہ دیا جائے۔اور ان کو معدنیات میں Technical Know-how دیا جائے۔
10۔ قبائل اضلاع میں طویل محرومیوں کی وجہ سے بے روزگاری زیادہ ہے۔20ہزار نئے لیویز اہلکاروں کی بھرتیوں کا جو وعدہ کیا گیا تھا اس کو فی الفور عملی بنایا جائے جبکہ دیگر محکموں میں ہزاروں خالی آسامیوں کوپر کرنے کیلئے بھی عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے ان اسامیوں پر قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے۔
11۔ صوبائی اسمبلی نے چند مہینے قبل منرل ایکٹ پاس کیا ہے جس میں قبائل کو حق ملکیت سے محروم کیاگیا ہے اس ظالمانہ قانون کو واپس لیاجائے اور معدنیات کی آمدن کو قبائل کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے نیزمقامی لوگوں کے مالکانہ حقوق کوتحفظ فراہم کیا جائے۔
12۔ قبائلی اضلاع میں یونیورسٹیزاور میڈیکل وانجینئرنگ کالجز کی تعمیر کے جووعدے کیئے گئے تھے ان کی جانب تاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا یہ کانفرنس حکومت سے ان وعدوں کوجلد از جلد عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔نیز قبائلی اضلاع میں صحت کی سہولیات ناپید ہونے کی وجہ سے مقامی افراد کو دوردراز کے علاقوں میں علاج معالجے کے لیئے جانا پڑتا ہے لہٰذا ہر ضلع میں کم از کم ایک کیٹیگری اے ہسپتال قائم کر کے وہاں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔
13۔ قبائلی اضلاع میں خواتین کی تعلیمی شرح نہ ہونے کے برابر ہے نیز خواتین کو روزگار کے کوئی مواقع دستیاب نہیں ہیں لہٰذا قبائلی اضلاع میں بچیوں کی تعلیم اور خواتین کے لیئے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیئے جائیں۔مسنگ پرسنز اگر کسی جرم میں ملوث ہیں تو عدالتوں میں پیش کئے جائیں ورنہ انہیں رہا کیا جائے۔ قبائلی اضلاع سے بارودی سرنگوں کا صفایا کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کی جائے۔
14۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں موجودہ حکومت نے نوجوانوں کو سبز باغ تو بہت دکھائے ہیں لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود نوجوانوں کی فلاح وبہبود اور ان کو باعزت روزگار دلانے کے لیئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا لہٰذا یہ ملٹی پارٹی کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ صوبے اور بالخصوص قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے لیئے اندرون ملک سمیت خلیج اورمشرق بعیدکے ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیئے کھیل کوداور دیگر ثقافتی اور مثبت سرگرمیوں کا بندوبست کرے۔
15۔ موجودہ حکومت نے سیاسی جماعتوں اور سیاسی راہنماؤں کے خلاف جو لب ولہجہ اختیار کر رکھا ہے اور اس کی جانب سے سیاستدانوں کا جو میڈیا ٹرائل کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی راہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا جوسلسلہ شروع کر رکھاہے یہ کثیر الجماعتی کانفرنس اس ساری صورتحال کو نہ صرف تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ اس غیر جمہوری رویئے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے گرفتار راہنماؤں اور ورکروں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کرتاہے۔
.
16۔ صوبائی حکومت تاجروں کے مسائل پر تاجروں سے مذاکرات کرے۔ پوائنٹ آف سیل (POS)ختم کیا جائے۔ ٹیکسز کی بھرمار ہے اس کو روکا جائے۔ بجلی، گیس کے بلوں میں بے تحاشہ اضافہ واپس لیا جائے اور گیس پریشر بڑھایا جائے۔روزانہ کی بنیاد پر جرمانوں کو سلسلہ ختم کیا جائے۔ قانونی حیثیت سے سزا و جزا کا نظام بنایا جائے۔

17۔ خیبرپختونخوا کی صحافی برادری کا معاشی قتل عام بند کیا جائے صوبے کے صحافتی اداروں سے 40فیصد صحافی نکال دیئے گئے جو کہ بے روزگاروں کی زندگی گزار رہے ہیں۔
.
18۔ صوبائی حکومت نے ضابطہئ دیوانی اور نارکوٹکس کے قوانین میں جو ترمیمات کی ہیں وہ ترمیمات واپس لے اور عدالتیں جو اس وقت پورے صوبے میں وکلاء کے بائیکاٹ کی وجہ سے بند ہیں اور لوگ کافی پریشان ہیں۔ اس لئے متذکرہ ترمیمات ختم کرکے لوگوں کی پریشانی ختم کریں۔
-19 بدامنی کا مسئلہ حل کیا جائے، مردم شماری میں خیبر پختونخوا بالخصوص قبائلی اضلاع کے اعداد و شمار میں شدید تحفظات ہیں۔ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔افغان بارڈر کے ساتھ تجارتی اور آمد و رفت کے راستوں کو کھولا جائے اور صوبے میں جو شناختی کارڈز بلاک کئے گئے ہیں انہیں کھولا/بحال کیا جائے۔
.
یہ ملٹی پارٹی کانفرنس اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں صوبے کے حقوق کی ترجمانی کا فریضہ ادا کرتی رہیں گی اور صوبائی اورمرکزی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گی کہ وہ صوبے کے آئینی حقوق غصب کرے۔ ہم عوام کو بھی یہ بات با ور کراتے ہیں کہ ہم عوام کے سلگتے مسائل کے حل، انکے دکھوں کامدوا کرنے اور حقوق کی ترجمانی کیلئے سیاسی تفریق سے بالاترہوکرجدوجہد کریں گے۔صوبے کے حقوق کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے اور موثرآواز اٹھانے کے لئے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کرنے پر اس کانفرنس میں شریک تمام جماعتیں متحداور متفق ہیں۔

ji joint confrence peshawar 1


شیئر کریں: