Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • افراد کے ہاتھوں میں ہے  اقوام کی تقدیر…………..محمّد ایوب  

    November 10, 2017 at 5:45 pm

    دل کر رہا تھا کہ دیر تک سو جاؤں پر آفس جانے کی فکر سے نہ تو پوری طرح سو سکا اور نہ ہی آنکھ کھل رہی تھی. اسی کشمکش میں تھا کہ کونسا بہانہ آج آفس سے چھٹکارا دلانے میں کارآمد ثابت ہوگا.کافی کوششوں کے باوجود بھی کوئی خاص نکتہ ذهن میں نہیں آ رہا تھا. اتنے میں موبائل پہ نوٹیفکیشنز کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا، دل کر رہا تھا کہ سارا غصہ موبائل پر ہی نکال دوںمگر کچھ ضبط کے ساتھ موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور غصے سے ایک آنکھ کھول کے موبائل کے سکرین پہ نظر ڈالا تو پتہ چلا کہ آج شاعر مشرق، عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمّد اقبال کا یوم ولادت ہے . سوشل میڈیا پہ ان کے مختلف کلام اور نظریہ حیات کے حوالے سے مختلف پہلوں پہ منظر کشی کی گئی ہے .ان اشعار پہ نظر دوڑانے کے بعد نیند کا غلبہ بھی کافی حد تک کم ہوگیا اور یوں نہ چاہتے ہوۓبھیآفسجانےکی ٹھان لی. لیکن دل ہی دل میں سوچتا رہا کی جب ہم چھوٹے تھے تو اقبال ڈے کے انتظار میں ہوتے تھے کہ اس دن دیر تک سونے کا موقع ملے گا. پر گزشتہ کئی سالوں سے اقبال ڈے کی چٹھی ختم کر کے اسے بھی ایک عام دن میں شامل کر دیا گیا ہے. اس سال امید پیدا ہو گئی تھی کہ اقبال ڈے کی تعطیل کو بحال کیا جائے مگر وزیر داخلہ نے تعطیل کے حوالے سے بیجھی گئی سمری پر اقبال کا ہی یہ شعر لکھ کر واپس بھیج دی.

    میسر آتی ہے فرصت فقط غلاموں کو
    نہیں ہے بندہ حر کے لئے جہاں میں فراغ

    بحرحال ناشتے کے بعد ایک دوست کے ساتھ آفس کی طرف نکلا. وہ گاڑی چلاتا رہا اور میں ساتھ بیٹھ کر یہ سوچتا رہا کہ ہم کس راستے سے اسلام آباد داخل ہوجائیں کیونکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے جس طرح جلسے تھامنے کا نام نہیں لے رہے اسی طرح عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. ایک دن پہلے بھی انتہائی مشکلات کے بعد آفس پہنچنے میں کامیاب ہوۓ تھے. ہم دونوں کے چہرے پہ صبح ہی بارہ بج چکے تھے لیکن غلام علی کا غزل سننے سے کسی حد تک روح میں تازگی سی پیدا ہوئی. ہم تیزی سے فیض آباد کی طرف  جارہے تھے کہ اچانک ٹریفک سارجنٹ نے ڈبل روڈ کی طرف اشارہ کیا، ہمیں اندازہ ہوگیا کی فیض آباد پھر سے بند ھے. وہ مسکراہٹ کی لکیر پھر سے غائب ہوگئی. ایک بار پھر غصے سے ایک دوسرے کو تکتے رہے. میں نے ہاتھ کے اشارے سے دوست کو ڈبل روڈ کی طرف مڑنے کو کہا اور دوست نے ایسا ہی کیا. جوں ہی ہم ڈبل روڈ میں داخل گئے تو عجیب قیامت کا منظر تھا پیدل چلنے والے اور موٹر سائیکل والے تو پھر بھی رینگ رہے تھے. پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں بالکل ساکت کھڑی تھی. اس پریشانی میں صرف استاد غلام علی کی آواز ہی تھی ہو ہمارے چہروں پہ مسکراہٹ بکھیر رہی تھی. دیر تک رکے رہے. موبائل نکالا پھر سے نوٹیفکیشنز پر نظریں دوڑائی کیونکہ اقبال ڈے کے حوالے سے چھٹی کا منظر ابھی ذہن سے نہیں نکلا تھا. اسی سوچ میں محو ہوکے پھر سے سکرین ٹٹولنے لگا تو اقبال کے ڈھیر سارے اشعار نظر سے گزرے. اقبال کی شاعری اتنی آسان نہیں کہ آسانی سے سمجھ کر رائے دی جائے لیکن ایک شعر جو ہم بچپن سے سنتے اور لکھتے آرہے ھے سب سے زیادہ پوسٹ کیا گیا تھا کہ “افراد کے ہاتھوں میں ھے اقوام کی تقدیر” میں تھوڑی دیر کے لیے خوش ہوا. میرا دوست جو سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے کسی خیال میں کھویا ہوا تھا اچانک جھاگ اٹھا اور میرے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ کرخوشی کی وجہ معلم کرنے لگے. میں اقبال کے اس شعر کا وہی بند دوبارہ سنایا ” افراد کے ہاتھوں میں ھے اقوام کی تقدیر” وہ غصے سے میری طرف دیکھنے لگے اور کہنے لگے اس میں مسکرانے والی کیا بات ہے. میں نے کہا بھائی میں اپ سے اتفاق کرتا ہوں کی اس میں مسکرانے والی کوئی بات نہیں پر اس بند میں قہقہہ لگانے والی بات ضرور ہے. میرے دوست نے پھرغصے کے عالم میں وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی. اس وقت ہم ڈبل روڈ سے نکل کر کشمیر ہائی وے میں داخل ہو رہے تھے. عین وقت میں دوبارہ سرخ بتی نے ہمیں روکنے پر مجبور کر دیا. میرے دوست نے پھر سے مسکراہٹ اور قہقہے والی بات کی وجہ معلوم کی. میں تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہا لیکن میرا دوست میرے تاثرات کو دیکھتے ہوۓاندازہلگارہاتھاکہماضی کی طرح اس دفعہ بھی کوئی الٹی سیدھی تشریح کر لے گا پر اس بار میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا.سادہ الفاظ میں بتایا کہ “اقوام کی تقدیرافراد کی ہاتھوں میں ہوتی ہے” میرا دوست مجھ سے مخاطب ہونے والا تھا کہ سبز بتی جلنے لگی اور راولپنڈی (پنجاب) سے اسلام آباد (وفاق) کے حدود میں داخل ہو گئے. اب مجھے موقع ملا کہ اپنی بات کو مزید واضح طور پر بیان کر دوں. میں نے کہا کہ “یہ اٹل حقیقت ھے کہ افراد ہی قوم کی تقدیر بناتے ہیں. انکے ہاتھوں میں قوم کیباگ ڈور، عزت، ترقی و استحکام ہوتی ہے. لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان کا جائزہ لے تو ہم ان چند بدنصیب قوموں کی فہرست میں آتے ہیں جن کی تقدیر چند کرپٹ، بداخلاق، بدمعاش، اور کن ذہن لوگوں کے ہاتھوں میں ہےجو نہ صرف اس قوم کو تباہ و برباد کر رہے ہیں بلکہ آنے والی نسل کیبربادی کے لیے بھی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑرہے ہیں. عالمی سطح پر ہماری ساکھ زیادہ بہتر نہیں ہے. غیرت کے نام پہ قتل و غارت عام ہوچکی ھے. دہشتگردی روز بہ روز بڑھ رہی ھے. کرپشن ہر جگہ موجود ھے، میرٹ کا قتل عام ہورہا ہے.نئی نسل اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے. قوم کی تقدیر میں رسوائی اور بدنامی عام ہو رہی ھے. لیکن وہ چند افراد جن کی ہاتھوں میں ہماری تقدیر ھے وہ صرف اقتدار کی نشے میں مست ہیں. انکو فکر ہی نہیں کہ ایک غریب کس ہال میں زندگی بسر کر رہا ھے. انکو یہ کون بتائے کہ ایک غریب کس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے علاج و معالجے اور اسکول کے فیس بھر رہا ھے. میری تقریر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی مگر ہم پھر بھی دفتر سے کافی دور تھے. میرے آواز میں تلخی بڑھ رہی تھی لیکن پھر بھی میرا دوست سر ہلا کے میرے ساتھ اتفاق کر رہا تھا.

    میرا دوست اثبات میں سر ہلاتے ہوۓکہنےلگےیہاقتدارکیکرسیمیں باری باری سے گدی نشین ہونے والے “چند افراد” نے اس ملک کی تقدیر اور جڑوں کو ہی یقینا ہلا کر رکھ دیا ہے. یہ خود انگلی بھی زخم ہو یا بچے کو معمولی بخار ہو علاج کے لیے لندن، دبئی یا نیو یارک بھاگ جاتے ہیں. یہ اپنے بچوں کو پاکستان میں تعلیم دلانا اپنی تضحیک سمجھتے ہیں. یہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں پاکستان کا خزانہ بھی لوٹیں اور اس کو پانامہ، سوئس بینکوں یا کسی اور خفیہ مقام پر منتقل کریں تا جائز طریقے سے ٹیکس دینے سے بچ سکیں. یہ اپنے اثاثے اور کاروبار کو ملک سے باہر لے جاتے ہیں.

    میرا دوست تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوا اپنی سانسیں بحال کی اور پھر کہنے لگا. کاش ہم آج اقبال کے دن چھٹی کرنے یا نہیں کرنے پر شور مچانے کے بجائے اقبال کے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرتے. کبھی بانگ دارا، ضرب کلیم، شکوہ اور جواب شکوہ نکال کر پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے. ہم اقبال کے فلسفے کے حساب سے ان چند افراد کو بار اپنے اوپر مسلط کرنے کے بجائے اپنے خودی کو جگانے کی کوشش کرتے. جس نے ایک قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستان کا نقشہ کھینچا تھا تو کیا آج سب خاص طور نوجوان مل کر اقبال کے اس پاکستان کو اس چند افراد کے تسلط سے آزاد کر وا کر ایک ابھرتا اور ترقی کرتا ہوا پاکستان نہیں بنا سکتے. اونچی مگر حوصلے سے بھرپور آواز میں اقبال کے کچھ دوہرانے لگے اور یوں ہم دفتر تک پہنچ ہی گئے.

    خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
    کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
    تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
    کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
    اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
    ہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارہ
    شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

  • error: Content is protected !!