Chitral Times

Apr 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت کا تاج ظفر وقار تاجؔ…….. تحریر: حسنات احمد کھوکھر

Posted on
شیئر کریں:

گلگت بلتستان کی آن، شان مشہور و معروف شینا اور اردو کے شاعر عبدالخالق تاج جو کسی تعارف کے محتاج نہیں، جنہوں نے گلگت بلتستان کے روایتی کلچر کے فروغ کے لئے انتھک کوششیں کیں۔ایسے ہی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا یوں سمجھ لیں کہ ان کے مشن کو جو انہوں نے گلگت بلتستان کے کلچر کو فروغ دینا، دنیا کو دکھانا ایک ایسا کلچر جو اپنی مثال آپ ہے کو ایک مشن بنایا اور اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے عبدالخالق تاج صاحب کے صاحبزادے ظفر وقار تاج جو موجودہ وقت میں سیکریٹری فنانس کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گلگت بلتستان کے کلچر کو فروغ دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے کلچر اور شاعری کو ایک نیا رخ دے دیا اور پروان چڑھایا۔ان کی تعریف بیان کرنے کے لئے شاید ہی الفاظ کم پڑ جائے۔
.
شاعری میں صرف بندش و الفاظ ہی نہیں کافی
جگر کا کچھ جنون بھی چاہئے اثر کے لئے
.
ظفر وقار تاج صاحب ایک اجتماعی شاعر کی حیثیت رکھتے ہیں، اجتماعی شاعر سے مراد ان کی شاعری جو بھی سنتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ شاید یہ شاعری صرف میرے لئے ہی لکھی گئی ہو ان کی شاعری حالات و واقعات کی ترجمانی کرتی ہیں اور اس معاشرے اور ماحول کی عکاسی کرتی ہیں۔تاج صاحب کے اندر ایسے جذبات مجھے دیکھنے کو ملے جو ان کو شاعری کرنے پر مجبور کررہے ہوں، صرف فن شاعری ہی شاعری کا موجد نہیں بلکہ وہ احساسات جو شاعر کو شعر کہنے پر مجبور کریں شاعری ہے۔
.
موجودہ دور میں تو گلگت بلتستان میں شاعروں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے۔ایسے ایسے لوگ بھی شاعری کرتے ہیں جنہیں شاعری کے بارے میں ا، ب، پ تک کا علم نہیں۔شاعری کیا ہے؟ کیسے کی جاتی ہے؟ روموز کی پیروی اور اسے کیسے سجایا جائے کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا اور طبع آزمائی کرتے نظر آتے ہیں جس کے باعث شینا کلچر کا ستیاناس لگتا جارہا ہے لیکن ایسے میں ظفر وقار تاج صاحب نے اپنی خداداد صلاحیت کی بنا پر گلگت بلتستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خالص گلگت بلتستان کا کلچر دنیا کو دکھایا اور جدید اصطلاح میں اپنے کلام اور گلگت بلتستان کے خصوصی طور پر نوجوانوں کے لئے جون ایلیاء بن گئے۔نوجوان نسل کی پسندیدہ شخصیت بن گئے اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کے دلوں کو فتح کرکے رکھ دیا جیسے میرؔ کا کلام ”آہ“ ہے مرزا کا کلام ”واہ“ ہے ویسے ہی ظفر کا کلام گلگت بلتستان میں ”جووو“ کی حیثیت رکھتا ہے۔جو بھی ان کا کلام سنتا ہے ان کے منہ سے خود بخود جووو نکلا کرتا ہے۔
.
شینا ایک بہت بڑی زبان ہے اور اس کا دامن بہت وسیع ہے اور اس کے اندر بہت سی زبانیں سمو جاتی ہیں۔ اور اس بات کا خطرہ بھی ہے کہ کہیں یہ اپنے اصل وجود کو کھو نہ دے جس کا اثر ہماری ثقافت، رسم و رواج اور رہن سہن کو طور طریقوں پر پڑھ رہا ہے۔ایسے میں ہمیں بھی ظفر وقار تاج صاحب کی طرح اس طوفان میں بند باندھنے کی ضرورت ہے اوریہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہے اور اس کام کو ظفر وقار تاج صاحب بخوبی نبھا رہے ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ارد گرد موجود ایسے روشن ستاروں کی قدر کرے کیونکہ ایسے لوگ کبھی کبھی پیدا ہوا کرتے ہیں۔
.
تعریف کریں کیا آپ کی الفاظ نہیں ملتے
آپ جیسے چمن کے پھول بار بار نہیں ملتے


شیئر کریں: