Chitral Times

Nov 14, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چلاس کی چائے، سلمیٰ اعوان کی گل جان، شاہراہِ قراقرم اور ہم…عبدالکریم کریمی

    October 21, 2019 at 5:33 pm

    گلگت سے چلاس تک یا یوں سمجھیے تتہ پانی سے چلاس تک کا سفر انسان کو اتنا تھکا دیتا ہے کہ انگ انگ ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ کل جب ہم گلگت سے چلاس پہنچے تھے۔ جہاں سفر نے تھکا دیا تھا وہاں جون ایلیا کے تذکرے نے رہی سہی کسر بھی نکال دی تھی۔ مراد جان ہمارے اچھے دوست ہیں اور انہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے آغا خان یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ایم فل کرچکے ہیں اور ہر بات تحقیق کی بنیاد پر کرنے کے عادی ہیں جبکہ کمال الدین نے انگلش میں ماسٹرز کی ہے اور تاریخ، ادب اور فلسفے میں دلچسپی لیتے ہیں یا یوں کہیے کہ جون ایلیا کے مرید ہیں۔ جون ایلیا کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے کمال نے کہا ’’سر! جون ایلیا کو سمجھنے کے لیے فلسفہ پر دسترس ہونا ضروری ہے۔‘‘ مراد جان نے کہا ’’باڑھ میں جائے وہ فلسفہ جس کے مطالعے کے بعد اگر جون ایلیا بننا پڑے۔‘‘ میں نے جلتی پر تیل کا کام دیتے ہوئے کہا ’’اس ملک و قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے جہاں کے نوجوان جون ایلیا کو اپنا رول ماڈل تصور کریں۔‘‘ کمال دکھنے میں شرافت کا پیکر لیکن یہ سب سننے کے بعد ان کی شرافت کا بانڈھا ایسا پھوٹا کہ جہاں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہاں ہمیں ان کے بکھرے اور بے ترتیب بالوں کے پیچھے جون ایلیا کے فلسفے کی سازش کا بھی پتہ چلا۔
    .
    خیر ان خوش گپوں میں ہم چلاس پہنچے۔ چلاس رکنے کے پیچھے ایک وجہ تھی کچھ دن پہلے میں اپنے کسی نجی دورے پر چلاس اسی ہوٹل میں چائے کے لیے رکا تھا۔ ویٹر نے چائے سامنے رکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا تھا ’’سر! ہمارا چائے پسند آیا؟‘‘ عمر خان اپنے وضع قطع سے ایک نامراد عاشق لگ رہے تھے۔ چائے واقعی بہت اچھی تھی۔ پہلا گونٹ ایک شرین مٹھاس کے ساتھ حلق میں اترا تو ہمیں بھی شرارت سوجھی۔ میں نے کہا ’’بالکل آپ کی طرح بہت اچھی چائے ہے۔‘‘ وہ ایک خفیف مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے ’’سر! ہم اچھا ہے؟ تو وہ ہمیں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟‘‘ ’’کون؟‘‘ دوسرا گونٹ سے پہلے میں نے بے اختیار پوچھا تھا۔ پھر اس نے جو تفصیل سنائی۔ ہم آہ کے علاوہ کر ہی کیا سکتے تھے۔ آج ہماری بے قرار آنکھوں نے عمر کو بہت ڈھونڈا وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ ممکن ہے گاؤں گیا ہو۔ عمر خان کی کہانی نے ہمیں سلمیٰ اعوان کی گل جان کی یاد دلائی تھی۔ صادق اور گل جان کی محبت کے بیج جو فرسودہ روایات حائل تھیں عمر خان کی کہانی اس سے چنداں مختلف نہیں تھی۔ سلمیٰ اعوان کی کتاب ’’میرا گلگت و ہنزہ‘‘ میں چلاس کا سفرنامہ ضرور پڑھیے اور سر دھنیے۔
    .
    خیر یہ بات تو طے ہے کہ حساس دل رکھنے والا چلاس کا ہو یا ہنزہ و غذر کا یا کوہستان کا۔ محبت ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کو اندر سے کھائے رکھتی ہے۔ آپ کو ہمارے دوست امیر جان حقانی جو اب ماشااللہ حاجی بھی بن گئے ہیں، کے سفرناموں میں اکثر یہ جملہ پڑھنے کو ملے گا ’’میں ہنزہ دوئی کر ہوٹل کے پاس کھڑا تھا ہوٹل کی چھت پر دو پریمی جوڑے نہ جانے کیسے جنم جنم ساتھ رہنے کی قسم کھا رہے تھے۔ ان کی سرگوشی دیکھ کر حسرت ہوئی کب ہماری دوسری شادی ہوگی ہم بھی نئی دلہن کو لے کر چلاس نہ سہی ہنزہ کا ایسا ہی ایک محبت انگیز دورہ کرکے اپنے ارمانوں کا جشن منائیں گے۔‘‘ اب یہ تو وقت ہی بتا پائے گا الحاج حقانی عقد ثانی میں کامیاب ہوتے ہیں یا دل میں اس حوالے سے صرف ارمانوں کا جنازہ سجائے رکھتے ہیں۔ اسی سرزمین دیامر سے ہمارے دوست عنایت اللہ شمالی نے خوب ہی کہا ہے؎
    دیامر گرچہ خوں آشام ہے تندخو بھی ہے
    دامنِ پربت کے دامن میں مگر خوشبو بھی ہے
    تلخ لہجوں کی زمیں پر دوستو! بس خال خال
    مضطرب کچھ دل ہیں جن میں شاعرانہ خو بھی ہے
    .
    گل جان اور صادق کی محبت کی کہانی بزبان سلمیٰ اعوان ہمیں پہلے ہی رلا چکی ہے، عمر خان کا ناکام عشق اور ان کے ہاتھوں کی بنی شرین چائے نے ہمیں ایک دفعہ پھر مغموم کر دیا تھا۔ اس کا اندازہ مجھے ان سے کچھ دن پہلے باتیں کرتے ہوئے ہوا تھا۔ سلمیٰ آپا کہتی ہے کہ انسان کا اندر بھی سمندر کی تہہ میں پڑی ہوئی بند سیپی کی طرح ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے نیچے تہوں میں غوطہ خوری کرنا پڑتی ہے۔
    .
    آج ہوٹل میں عمر کی غیر حاضری نے مجھے حیرت میں ڈال دیا تھا۔ میں یہاں اترا اس لیے تھا کہ ان سے ایک دفعہ پھر ملوں، پھر اس کو سنوں۔ میں کب دوبارہ گاڑی میں بیٹھا تھا مجھے نہیں معلوم۔ میں اچانک ہوش میں تب آیا تھا گاڑی رکی ہوئی تھی۔ ایک پولیس جوان ہمارے ڈرائیور کو کہہ رہا تھا بابوسر ٹاپ بند ہے۔ ہمیں بابو سر سے جانا تھا لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے بابوسر ٹاپ پر برفباری ہونے کی وجہ سے راستہ بند تھا اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی نیچے شاہراہ قراقرم سے ہی سفر جاری رکھنا پڑا۔ بابوسر کے بارے میں سلمیٰ اعوان نے اپنی کتاب ’’میرا گلگت و ہنزہ‘‘ میں میں لکھا ہے کہ سر شنا زبان میں جھیل کو کہتے ہیں۔ اس علاقے میں سڑک کی تعمیر کا جب سول پیدا ہوا تو ایک وجیہہ سا آفیسر سروے کے لیے آیا۔ راستہ بہت دشوار گزار اور کٹھن تھا۔ اس نے جان جوکھوں میں ڈال کر علاقے کی دو جھیلوں کو عبور کیا اور آگے پہنچا۔ سیدھے سادھے دیہاتی لوگوں نے اس کو بابو بابو کہتے ہوئے علاقے کو ہی بابوسر کہنا شروع کر دیا۔
    .
    اب ہم تھے، ہماری کار تھی، کار میں ہلکی میوزک تھی اور شاہراہ قراقرم تھی۔ ہاں ہمارے پہلو بہ پہلو ازل سے بہتا ہوا دریائے سندھ تھا۔ شاہراہِ قراقرم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سات جنوری انیس سو انسٹھ میں شروع ہوئی جو بیس سال بعد اٹھارہ جون انیس سو اڑھتر کو چوبیس ہزار پاکستانی و چینی جوانوں کی مشترکہ کاوشوں سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔
    کوہستان کے ایک ہوٹل میں جب ہم کھانا کے لیے رکے تو ایک اور دل جلے ویٹر نے تلخ لہجے میں استقبال کیا۔ جب ہم نے کھانے کی اقسام کا پوچھا تو ایک ہی سانس میں دال، چاول، چھولہ، سبزی کہا اور ساتھ ہی آرڈر دیا کہ جلدی بولو کیا کھانا ہے؟ ہم ان کی اس ادا پر ہنس پڑے اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ لیکن ساتھ ہی بہ یک زبان ہوکر سب نے چاول کا نعرہ لگایا۔ پلاؤ بہت اچھا بنا تھا۔ مزہ آیا۔
    ایک دفعہ پھر تازہ دم ہوکر ہم شاہراہ قراقرم پر پا بہ رکاب تھے۔ جہاں مختلف موضوعات پر بحث چل رہی ہوتی تو وہاں میوزک میں بھی کبھی کبھی کھو جاتے۔ پھر یکے بعد دیگر سازین سے بشام تک قدرت کے حسین مناظر سے روبرو ہونے کا موقع ملا۔ رات کا کھانا ہم نے ایبٹ آباد کے ایک ہوٹل میں کھایا۔ ایوب میڈیکل کالج کے پاس سے گزرتے ہوئے ہمیں نیلوفر شاہ، بشریٰ اور سمرین، بے اختیار یاد آئیں۔ میڈیکل کی یہ طالبات ’’فکرونظر‘‘ کے لیے اپنے خطوط اور شاعری اکثر مجھے بھیجا کرتی تھیں۔ میگزین کی اشاعت کا مجھ سے زیادہ ان کو انتظار رہتا تھا۔ نہ جانے زندگی کی دھول میں وہ اب کہاں کہاں ہوں گی۔
    .
    جب ہم موٹروے سے اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے آدھی رات گزر چکی تھی۔ ڈیڑھ بجے ہم اپنے تھکے وجود کے ساتھ بیڈ پر نیم دراز تھے چاند کی چاندنی میں جہاں پورا اسلام آباد نہایا ہوا تھا وہاں کھڑکی کے پردے کی اوٹ سے ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسی اٹکھیلیاں کر رہی تھی جیسے سہاگ رات کو دلہن دلہے کو گونگھٹ کے اوٹ سے دیکھتی ہے۔
    .
    شب بخیر!
    یکے از تحاریر کریم کریمی
    بیس اکتوبر دو ہزار انیس
    اسلام آباد۔

  • error: Content is protected !!