Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان کے ترقیاتی پروگرام اورحافظ حفیظ الرحمٰن کی وژن…….حاجی فرید اللہ خان

Posted on
شیئر کریں:

میں موجودہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کو ان کی شاگردی کی ادوار سے جانتا ہوں جب ان کا بھائی شہید امن سیف الرحمان 1999 ؁ء میں مشیر تعلیم تھا اور موجودہ وزیر اعلیٰ اپنی ایام میں فارغ التحصیل ہو کر گلگت آیا تھا اور اپنے مرحوم بھائی شہید کے ووٹروں کی دفتری امور بجا لانے میں اپنا کردار ادا کرتا تھا اور میری ان کے ساتھ ملاقات ہوتی رہتی تھی۔میں ان کی کارکردگی، وژن اور ذہانت کا قائل تھا ۔ ان کا شمار گلگت بلتستان بلکہ پورے پاکستا ن کے عظیم سیاستدانوں میں ہوتا ہے ۔ حافظ حفیظ الرحمان جب بیوروکریسی میں ہوتا ہے تو ایک بہترین بیوروکریٹ، تعلیم کے میدان میں ان کا شمار ایک سکالر، انجینئرکے شعبے میں ان کی حیثیت ایک بہترین انجینئر ، صحت کے شعبے میں ان کا شمار ایک بہترین ڈاکٹر ۔

حافظ حفیظ الرحمان نے اپنے دور اقتدار میں گلگت بلتستان کے تمام شعبوں میں ریکارڈ ترقیاتی پروگرام دیئے۔تعلیم جیسے مقدس پیشے کو سابقہ حکومتوں نے تباہی کے دہانے پر گامزن کیا تھا اور سکولوں اور کالجوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا تھا اور ملازمین کی تقرریاں اور تبادلے بھی مسلکی بنیادوں پر ہوتی رہتی تھیں اور یہی حشر صحت کے شعبے میں بھی ہوتی رہی اور گلگت بلتستان کے اندر نو گو ایریاز میں تقسیم تھی ۔ کسی کی جان و مال محفوظ نہیں تھی ، ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم تھا ہرآنیوالا دن بد سے بدتر ہوتا جا رہا تھا ، غریب اور مزدور اپنے بچوں کی رزق کی متلاشی بلاوجہ فٹ پاتھوں پر قتل کئے جا رہے تھے،صبح دفتر جانے والا اپنے گھر والوں کو نصیحت اور وصیت کر کے جا رہا تھا اور ان کو واپسی کی امید بہت کم ہوتی تھی۔موجودہ حکومت نے اپنی پہلی فرصت میں گلگت کی امن کی طرف اپنی توجہ مبذول کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہوں کی مدد سے گلگت کی نو گو ایریاز کو ختم کیا اور گلگت بلتستان کو ترجیحی بنیادوں پر تعصب کے لعنت کو ختم کرنے میں کامیاب ہوا۔ اور ہر وقت ہونے والی فائرنگ کی سسٹم کو ختم کیا اور سرکاری بھرتیوں میں میرٹ کو بھال کیا۔محکمہ تعلیم اور صحت میں NTSکے نظام کو رائج کرکے قابل عملے کو میدان میں لایا۔جس سے تعلیم اور صحت کے شعب میں قابل اور تعلیم یافتہ عملے کی تعیناتی سے ان شعبوں میں روز بروز ترقی ہوئی۔
وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے پروٹوکول کی لعنت کو ختم کیا۔ایمبولنس اور ڈاکٹر کو بطور عطیہ ہسپتال کو واپس کیا۔اپنے کابینہ کے اندر غیر ضروری اخراجات پر سختی سے پابندی عائد کرکے قومی خزانے کو تقویت دی۔علاوہ ازیں غیر ضروری ملک کے اندر وزراء کی سرکاری دوروں پر پابندی عائد کرکے رقومات کی سفری اخراجات بچایا۔وزیر اعلیٰ نے اپنی دانشمندی اور ذاتی اثر و رسوخ کی بناء پر وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے گلگت بلتستان کی ہسپتالوں کے لئے رقومات کے اور جدید طرز کی مشینوں کے علاوہ ایسے میگا پروجیکٹ گلگت میں لایا جسکی مثال گلگت کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔اس کے باؤجود مخالفین تعریف کی بجائے کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہیں۔ کبھی مولوی تو کبھی ٹھیکہ دار کا تقریب اور پھر کرپشن کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک کسی نے ثبوت پیش کرنے کی جرئت نہیں کی۔

میں وزیر اعلیٰ کی تعریف کرکے کوئی فائدہ حاصل کرنا نہیں چاہتا تعریف اللہ کی ذات کی کرنا چاہئے لیکن تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کرنا چاہئے۔دنیا جانتی ہے کہ اس سے پہلے حکمرانوں نے گلگت کیلئے آیا کچھ انجام دیا لیکن وزیر اعلیٰ مخالفین کی تنقید کا جواب تحریری نہیں بلکہ ترقیاتی امور کے تحت دیتا رہتا ہے۔میرا تعلق پاکستان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے ہے اور میں نے موجودہ حکومت کی اقتدار سے قبل شمولیت کی ہے۔لیکن موجودہ وزیر اعلیٰ کی حرف تنقید مجھے برداشت نہیں ہوتا ہے۔میرا ان دوستوں اور احباب کو مشورہ ہے کہ وہ اچھے کو اچھے اور برے کو برا تسلیم کرے جس سے گلگت بلتستان کی ترقی متاثر نہ ہونا پائے اور میرا دعا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کو مزید گلگت بلتستان کیلئے کچھ کرنے کی توفیق دے۔اور جو کچھ گلگت بلتستان کے لئے خلوص اور محبت سے کیا ہے اس کا صلہ اس کو ملے۔آمین ثم آمین

منجانب
حاجی فرید اللہ خان
چیئرمین وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ
سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن
نوپورہ بسین


شیئر کریں: