Chitral Times

Nov 15, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • غذر میں منشیات کا پھیلتانا سور اور ہماری ذمہ داریاں…… تحریر: خان اکبر خان

    October 30, 2019 at 6:38 pm

    گلگت بلتستان کا ضلع غذر خطے کے پر امن علاقوں میں شمار ہونے کے ساتھ شہیدوں اور عظیم غازیوں کا سرزمین ہونے کے اعزاز حاصل کررکھا ہے اورغذر کے عظیم سپوت شہید لالک جان نشان حیدر نے پوری ملک میں اپنی بہادری کا لازوال داستان رقم کردیا ہے۔ان بے داغ شہرتوں کے باؤجود اس خطے میں آئے روز اس علاقے کی مذہبی و سیاسی زعما اور نوجوان، راہنماؤں کا پرنٹ میڈیا و الیکٹرانک میڈیا میں کہنا ہے کہ نوجوان نسل منشیات کے باعث تباہ و برباد ہورہی ہے جب تک منشیات کے خاتمے کے لئے قوانین سخت نہیں بنائے جائیں گے اور بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد نہیں کرایا جائے گا تب تک مسلہ حل نہیں ہوگا۔اس کے لئے اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہئے منشیات فروش پہلے بچوں کو مفت میں منشیات فراہم کرتے ہیں جب یہ بچے منشیات کے صحیح عادی ہوجاتے ہیں تو ان سے قیمت وصول کی جاتی ہے۔منشیات کے خاتمے کے لئے علمائے کرام اور واعظین کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔منشیات کی وبا یقینا ہمارے نوجوانوں کے لئے زہر قاتل ہے۔ اس لعنت کے خاتمے کے لئے ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں و فرائض ادا کرنا ہوں گے۔منشیات کی عادت نہ صرف عادی افراد کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے معاشرے کے تانا بانا ہی بکھر جاتا ہے۔منشیات کے عادی افراد کے دماغ جسم اور روح پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں اس عادت کے سادہ سے اثرات سے قبل از وقت موت بھی ہوسکتی ہے، دوسری طرف مضر اثرات سے متاثرہ فرد کو زندہ رہنے کے لئے منشیات پر انحصار کرنا پڑتا ہے نشے کی عادت ایک سنگین مسلّہ ہے حتیٰ کہ اگر عادی فرد نشہ آور ادویات بھی استعمال کررہا ہو پھر بھی مضر اثرات انتہائی نقصاندہ ہوسکتے ہیں۔
    .
    منشیات کی لعنت کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت اس کے لئے حکمت عملی سے انتظامی اور قانونی اقدامات کرے، لوگوں کو اس حوالے سے درست انداز میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیماری کی صورت میں بھی وہ ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچیں اور طبی پیچیدگیوں کا شکار نہ ہوں، وقت آچکا ہے کہ عوام ارباب اختیار انسداد منشیات کے لئے غیر لچکدار اور سخت گیر موقف اختیار کرے، منشیات کی لعنت کو روکنے کے لئے ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے یہ منصوبہ بندی ان مخصوص منشیات کی نشاندہی کرے جو نوجوان زیادہ استعمال کررہے ہیں، اس منصوبہ بندی کی بنیاد انسداد و منشیات سے تعلق دستیاب وسائل اور تحقیقات پر ہونا چاہئے، اس سلسلے میں مختصر مدتی اور طویل مدتی اہداف کے تعین کی ضرورت ہے، ایک عرصے ہم اس طرح کے اہم مسائل سے آنکھیں موند رکھی ہیں، مگر اب اپنے اعمال کے لئے جواب دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔اس میں والدین اور سرپرستوں کا بھی قصور ہے کہ وہ اپنی اولاد کی نگرانی اور تربیت پر خصوصی توجہ نہیں دیتے ہیں کہ ان کے بچوں کا کس سوسائیٹی میں اُٹھنا بیٹھنا ہے کس شخص سے کسی طرح کے مراسم ہیں کب گھر سے باہر جاتے ہیں کب واپس آتے ہیں رات کا کتنا حصہ غائب رہتے ہیں کس قسم کا نشہ کرتے ہیں بعض اوقات والدین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کہاں کام کرتا ہے کیا کماتا ہے اور کہاں کہاں خرچ کرتا ہے کچھ والدین بچوں پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے انہیں بہت سمجھدار نیک و پارسا سمجھنے لگتے ہیں،جس کا نتیجہ غلط نکلنا فطری عمل ہے، زیادہ نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے آوارہ گردی کرتے ہیں اور بری سوسئایٹی کا شکار ہوجاتے ہیں، اور خاص کر منشیات کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ انہیں اس منشیات کے استعمال کو چھوڑنا زندگی اور موت کا مسلہ بن جاتا ہے اس میں منشیات مافیا کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ جو کہ پہلے پہل مفت فیشن کے طور پر ان چیزوں کو مہیا کرتے ہیں اور بعد میں آمدن کا ذریعہ بنالیتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے انہیں کنٹرول کریں، منشیات کی وجہ سے ہی معاشرے میں بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو دیہاتوں کے نزدیک قبرستانوں ویران جگہوں، پلوں کے نیچے گاؤں میں قائم دکانوں بااختیار لوگوں کے بھیکوں میں عام نواجوان کی محفلیں سجتی ہیں اور نشہ کیاجاتاہے۔
    .
    بعض اوقات چند افراد کو خبر ہونے کے باؤجود ان نوجوانوں کو منع کرنے یا روکنے کی جرات نہیں کی جاتی اور نہ ہی ذمہ داروں یا والدین کو آگاہ کیا جاتا ہے۔بعض اوقات والدین کو دبے لفظوں میں آگاہ کیا بھی جائے تو برا مان جاتے ہیں،منشیات کے عادی نوجوانوں کی زیادہ تعداد کا تعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے ہوتا ہے والدین کے طرف سے نوجوان بچوں کو جیب خرچ کی صورت میں دی جانے والی رقم اس کا سبب بنتی ہے۔دیہاتوں میں رہنے والا نوجوان طبقہ جن کی گھر کی مالی حالت بہتر ہوتی ہے یا اسی نوجوان جن کی بازپرست کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اس گھناؤنی اور جان لیوا لت میں پڑجاتے ہیں اور ساتھ شریف گھرانوں کے لاڈلوں کو بھی ملوث کرالیتے ہیں۔اکثر اوقات دوست گروہوں میں عام طور پر منشیات کا استعمال زیادہ ہوتا ہے کسی زمانے میں اگر کسی گھر کا بچہ یا نوجوان سگریٹ پیتا تھا تو اسے معیوب سمجھا جاتا تھا اور پینے والا بڑوں سے چھپ کر پیتا تھا مگر آج کل کے دور میں سب کے سامنے بطور فیشن سگریٹ نوشی کی جاتی ہے کئی جگہوں پر والدین اولاد کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں جنہیں آخر کار مشکلات اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ قانون سخت سے سخت بنا کر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔منشیات فروشوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے یہ دیکھا جائے کہ کہاں کہاں منشیات کس روپ میں فروخت کی جارہی ہے اور کون سرپرستی کررہا ہے اس کا پتہ چلانا مشکل نہیں ہے اس ضمن میں بحیثیت مجموعی ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھ سکیں ورنہ ہمارے آباؤ اجداد اور ہیروز کے قربانیوں کی بدولت حاصل کی گئی روشن نام صفحہئ ہستی سے مٹ جائے گا اور وادی شہداء غذر کر پر امن خطہ کسی اور نام سے منصوب ہو کر رہ جائے گی۔
    (اللہ ہماری حامی و ناصر رہے)آمین۔

  • error: Content is protected !!