Chitral Times

Dec 10, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گلگت بلتستان آرڈر 2018 ۔۔۔۔ خدشات ، تحفظات اور اُمیدیں….تحریر : محمد شراف الدین فریاد ؔ

    June 1, 2018 at 3:33 am

    گلگت بلتستان گورننس آرڈر 2018 ؁ء کی منظوری پر جہاں حکمران جماعت خوش نظر آرہی ہے تووہاں متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی کے اکابرین نے آسمان سر پر اُٹھا لیا ہے اور مخالفت میں اس حد تک گئے ہیں کہ گزشتہ روز مشترکہ پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں رابطہ مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو یہ آرڈر ہرگز قابل قبول نہیں ۔ برداشت کا وقت ختم ہوا ہے ،جب تک ہمیں آئین پاکستان میں شامل کرکے مکمل آئینی صوبہ نہیں بنایاجاتا وفاقی حکومت کے کسی بھی اصلاحاتی پیکج کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ ادھر وفاقی کابینہ کی طرف سے گورننس آرڈر 2018 ؁ء کی منظور ی کے بعد وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب نے فوری گلگت کا دورہ کیا اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان آرڈر 2018 ؁ء کو گلگت بلتستان بھر کے تابناک مستقبل کے لیے تاریخی اقدام قرار دے دیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اختلاف رائے سب کا بنیادی حق ہوتا ہے لیکن اپوزیشن کا اختلاف اُصولوں پر ہونا چاہیے اور انہیں حکومت کا موقف بھی سننا چاہیے ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 ؁ء کے تحت اختیارات کی منتقلی کے معاملے پر ہمیں اپنی جماعت کے اندر سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب گلگت بلتستان کے عوام کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں ۔
    قارئین کرام ! بے شک ہم وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی صاحب کے اس بات سے ہرگز متفق نہیں کہ اس آرڈر کے تحت گلگت
    بلتستان کے عوام کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے عوام کو حاصل ہیں مگر متحدہ اپوزیشن اور حکومت مخالف قوتوں نے اس پیکج کے مخالفت میں احتجاج کے جو حدود پارکیے یہ بھی کسی صورت درست نہیں ہے۔ اس طرح کے احتجاجی دھرنوں ، جلاؤ گھیراؤ اور پتھراؤ جیسے واقعات سے سانحات جنم لیتے ہیں ، اللہ اللہ کرکے گلگت بلتستان میں امن قائم ہوا ہے محض اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کسی بڑے سانحے کی تلاش قومی خدمت ہرگز نہیں ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ گلگت کو اطمینان بخش اس لیے قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ اس بے آئین خطہ کے عوام کی حوصلہ افزائی کے لیے خود آئے اور پیکج کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ گلگت بلتستان کے عوام اس اصلاحاتی پیکج کو مقامی انتظامی نظام میں بہتری کے طور پر قبول تو کرسکتے ہیں مگر اسے اپنا مکمل آئینی حق نہیں سمجھتے ۔ گلگت بلتستان کے عوام کو ملک کے دیگر صوبوں کے شہریوں کے برابر حقوق تب حاصل ہوں گے جب انہیں بھی پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے الیکشن میں ووٹ دینے کا حق ملے گا ۔یہاں کے عوام بھی اپنے مملکت کے صدر اور وزیر اعظم کے چناؤ میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے ۔سننے میں آرہا تھا کہ سرتاج عزیز صاحب کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ان کی سفارشات میں بحیثیت مبصرین گلگت بلتستان سے تین تین نمائندوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دینے کی بات کی گئی ہے اگر ایسا ہوتا تو گلگت بلتستان کے عوام کے لیے زیادہ بہتر ہوتا اور عوام اسے آئینی حق کی طرف زبردست پیش رفت کے طور پر ضرور قبول کرتے اور حکومت مخالف قوتوں کو سیاسی چال چلنے کا موقع بھی نہیں ملتا مگر اس کے برعکس اگر گلگت بلتستان آرڈر 2018 ؁ء کے تحت نئی اصلاحات لائی گئی ہیں تو یہ بھی مکمل آئینی حقوق کی جانب اہم ترین پیش قدمی ہے اور اسے آئینی حقوق کی جانب پیش قدمی کے طور پر ہمیں قبول کرنا چاہیے ۔ موجودہ قانون ساز اسمبلی اب گلگت بلتستان اسمبلی کہلائے گی جیسے پنجاب اسمبلی ، سندھ اسمبلی ، کے پی کے اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کا نام دیا گیا ہے۔ چیف کورٹ کے بجائے اب گلگت بلتستان ہائی کورٹ ہوگی جو صوبائی حقوق کی جانب پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ اس آرڈر 2018 ؁ء کے تحت گورنر کا چناؤ مقامی سطح پر ہی کیا جائے گا جبکہ ججوں اور چیف جسٹس کا انتخاب بھی گلگت بلتستان سے ہی ہوگا تو یہ اس خطے کے عوام کے لیے نیک شگون ہے بلکہ صوبائی خودمختاری کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔ ہمیں ان حقائق کو بھی کم از کم تسلیم کرنا ہوگا اور تنقید برائے تنقید کی سیاست سے ہٹ کر حقائق پر شاباش دینے کا حوصلہ بھی پید ا کرنا ہوگا ۔گزشتہ ایام وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب کا ایک نجی ٹی چینل کا پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں اُنہوں نے سینئر صحافی سلیم صافی صاحب کے ایک سوال کا خوبصورت اندا ز میں جواب دیا جو مجھے بہت ہی اچھا لگا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ” اگر ہم آئندہ دوسالوں تک گلگت بلتستان کو آئینی دائرے میں نہ لاسکے تو آرڈر 2018 ؁ء کو عبوری آئین بنا دیا جائے گا ” صاف ظاہر ہے جب عبوری آئین ہوگا تو کوئی نہ کوئی قومی قیادت ضرور آئے گی جو اس عبوری آئین کو مکمل آئین کا شکل بھی دے سکتی ہے۔ ٹی وی پروگرام میں ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کی کل آبادی 16 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جو ایک صوبہ بننے کے لیے کافی نہیں ہے تو اس بات پر ہم وزیر اعلیٰ صاحب سے اختلاف کریں گے ، اس موقع پر حافظ حفیظ الرحمٰن صاحب کو بتانا چاہیے تھا کہ اس وقت کے پی کے کے پاس چترال ، کوہستان اور ملازئی کے جو علاقے ہیں وہ ماضی میں گلگت بلتستان یونٹ کا حصہ رہے ہیں ،اگر مذکورہ خطے کے پی کے سے نکال کر ہمیں واپس کیے جائیں تو نہ صرف ہماری بکھری ہوئی تہذیب و ثقافت جڑ سکتی ہے بلکہ ایک صوبے کے لیے مطلوب افراد کی کمی بھی دور ہوسکتی ہے۔ ہم اس بات پر ہرگز اتفا ق نہیں کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کبھی کشمیر کا حصہ رہا تھا ہاں البتہ ہم کشمیری ڈوگرہ کی انتظامی تسلط کا حصہ ضرور تھے اگر کسی کے زبردستی قابض ہونے سے وہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے بھی اسی کا ہوتا ہے تو پھر 1847 ؁ء سے قبل ہم پر کشمیری ڈوگرہ نہیں بلکہ پنجاب کے سکھ قابض تھے ۔ کیا ہم پنجاب کے سکھوں کے بھی حصہ ہوں گے ۔۔۔۔؟ ایسا ہر گز نہیں ہوتا ۔ اگر مضبوط تاریخی دلائل دیے جائیں تو کشمیر کاز کو نقصان دیے بغیر گلگت بلتستان کا آئینی مسلہ حل ہوسکتا ہے جس کے لیے سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے ۔
    بہر حال گلگت بلتستان کا نیا مسؤدہ آرڈر 2018 ؁ء کی منظوری پر جہاں گلگت بلتستان کی اپوزیشن و حکومت مخالف جماعتیں مخالفت کررہی ہیں وہاں ہمارے ہمسایہ حریف ملک بھارت کو بھی اس کے اجراء پر تکلیف ہوئی ہے حالانکہ اسے یہ حق حاصل نہیں کہ ہمارے معاملات میں مداخلت یا مخالفت کریں ،کیونکہ ہم نہ تو ماضی میں بھارت یا اس کی انتظامیہ کا حصہ دار رہے ہیں اور نہ ہی بھارتی حکومت کا کبھی اس علاقے پر کنٹرول رہا ہے ۔ کشمیری ڈوگروں کی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے بعد 16 نومبر1947 ؁ء کو اس خطے کے عوام نے خود کو پاکستان میں شامل کر دیا ہے تب سے ہم اپنے آپ کو پاکستانی کہلا رہے ہیں ۔ بھارت ہمارے خطے پر دعویداری کے بجائے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے اس سے باز آجائیں اور کشمیر پر سے اپنی غیر قانونی و خونی تسلط ختم کریں اور اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ وہ گلگت بلتستان پربھی پنجے گاڑسکتا ہے جیسے اس خطہ (گلگت بلتستان ) کے دو اہم یونٹوں کارگل و لداخ پر پنجے گاڑ چکا ہے ۔ بھارت کو گلگت بلتستان کے ان دو اہم علاقوں کارگل اور لداخ سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا ۔
    آخر میں گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ صاحب اور پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈوکیٹ کے ان بیانات پر کچھ ضرور کہوں گا ۔ مہدی شاہ صاحب کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ موجود ہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو پہلے سکردو کے عوم اور اب گلگت کے عوام نے مسترد کیا ۔ اُنہوں نے آرڈر 2009 ؁ء کو آئینی حقوق کی جانب پہلا قدم قرار دیا ۔ مہدی شاہ صاحب ! وزیر اعظم صاحب کو عوام نے نہیں بلکہ چند سیاسی نمائندوں نے مسترد کیا ہوگا کیونکہ شاہد خاقان عباسی کی گلگت آمد کے موقع پر ہم نے کہیں بھی مخالفت میں عوام الناس کا کوئی قابل ذکر اور بڑا اجتماع نہیں دیکھا دوسری بات اگر مہدی شاہ صاحب 2009 ؁ء کے آرڈر کو آئینی حقوق کی جانب پہلا قدم کے طور پر شادیانے بجا رہے تھے تو حکمران جماعت والے2018 ؁ء کے آرڈر کو آئینی حقوق کی جانب تیز ترین پیش قدمی کے طور پر جشن منا رہے ہیں تو یہ کیسے غلط ہوسکتا ہے۔۔۔؟
    امجد حسین ایڈوکیٹ صاحب کو اس بات کی تکلیف ہے کہ اس آرڈر 2018 ؁ء کے تحت ہمیں پاکستانی شہر ی تسلیم کیوں کیا گیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اس سے گلگت بلتستان کے عوام مسلہ کشمیر کی رائے شماری کی حق سے محروم ہوجائیں گے ۔ امجد صاحب آپ یہ کیسی باتیں کرتے ہیں کبھی کہتے ہو کہ ہم کشمیری نہیں ہیں ہمیں الگ آئینی صوبہ دیکر حق حاکمیت دی جائے تو دوسری طرف پاکستانی شہری بننے پر احتجاج کرتے ہو اور کشمیر کی رائے شماری سے محروم ہونے کی تکلیف تمہیں ستاتی ہے۔ میرے بھائی ! اگر ہم کشمیری ہی نہیں ہیں تو اس رائے شماری سے ہمارا کیا تعلق ۔۔۔؟ اب اگر کشمیر کا مسلہ قیامت تک حل نہیں ہوگا تو ہم کیا ایسے ہی رہیں گے ۔۔۔؟ ہمیں اس نام نہاد رائے شماری کی سوچ سے باہر آنا ہوگا اور مضبوط تاریخی دلائل سے خود کو تنازعہ کشمیر سے الگ کرنا ہوگا، تب اس خطے کے عوام کو ان کے تمام تر بنیادی ، سیاسی و آئینی حقوق مل سکتے ہیں ، بصورت دیگر قیامت تک ہم بھی یوں ہی کشمیر کے مسئلے میں لٹکے رہیں گے ۔

  • error: Content is protected !!