Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بونی ؛ ضلعی دفاتر قاق لشٹ منتقل کرنا کسی بھی طرح منظور نہیں..شرکاء اجلاس

Posted on
شیئر کریں:

بونی (نمائندہ چترال ٹائمز) اپرچترال ضلع کے ہیڈکوارٹر کاغ لشٹ منتقل کرنے کے حوالے دو الگ الگ میٹنگ منعقد کیے گئے ایک تحصیل کونسل ہال بونی میں ممبرتحصیل کونسل مستوج سردار حکیم کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس میں بونی اور ملحقہ علاقوں کے معتبرات نے شرکت کی۔ اور ضلعی ہیڈکوارٹر کی کاغ لشٹ منتقلی کی افواہوں‌پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ شرکاء میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ اور سیاسی جماعت کے اکثریتی نمائیندے شریک تھے۔

دوسرا میٹنگ ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اس میں بھی عوامی نمائیندے اور علاقے معتبرات موجود تھے۔جو دفترات کی قاق لشٹ منتقلی کے کسی تجویزپر اپنے شدید تحفظات سے ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو اگاہ کیے۔ڈپٹی کمشنر اپر چترال شاہ سعود نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ابھی تک اس طرح کے کوئی تجویز کسی بالائی حکام کو نہیں بھیجی گئی ہے اور نہ کسی نے تجویز مانگی ہے۔ اگر تجویز طلب کی گئی تو لازمی بات ہے کہ بونی کے ساتھ قاق لشٹ کو بھی تجویز میں شامل کیا جائے گا۔ تا ہم ڈپٹی کمشنر کا یہ بھی کہنا تھا یہ صرف بونی ہی کا مسلہ ہے دوسرے علاقے لوگ شاید آپ سے متفق نہ ہو۔ اس پر شرکاء اتفاق نہ کرتے ہوئے ایک اور میٹنگ ۶۲ اگست کو اپر چترال سطح پر بونی میں رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ اس میٹنگ پر اپر چترال کے دونوں تحصیلوں سے نمائیندوں کو مدعو کیا گیا ہے تورکھو،موڑکھو اور مستوج کے معتبرات کی شرکت اس میٹنگ میں متوقع ہے اس میٹنگ کے بعد ایک مربوط لایحہ عمل مرتب کرکے اس مسلے کو حل کرنے کی جد و جہد کی جائیگی۔

یادرہے کہ اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے کے بعد حکومتِ وقت نوٹفکیشن کرتے ہوئے خصوصی طور پر یہ لکھا تھا کہ بونی نومولود ضلع اپر چترال کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ اس وقت علاقے میں کچھ افوہیں گردش کررہی ہیں کہ اپر چترال کے لیے ضلع دفاتر قاق لشٹ کے وسیع و عریض بیابان ہی میں بنائے جائینگے جو اسٹیٹ پراپرٹی ہے۔تا ہم کسی معتبر ذرایع سے اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ اس طرح کا کوئی منصوبہ بندی ہوئی بھی ہے کہ نہیں۔ پھر بھی اپر چترال کیے بعض عوام اور بالخصوص بونی اور ملحقہ علاقے کی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کہ مبدا ایسی نہ ہو کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے دفاتر قاق لشٹ منتقل ہو اور ہمیں خبر نہ ہو تو اس علاقے اور خصوصاً بونی اور ملحقہ علاقے کی عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہوگی۔

booni ijalas upper chitral 6
booni ijalas upper chitral 4

 


شیئر کریں: