Chitral Times

Aug 13, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیوانی مقدمات کے فیصلے اب ایک سے ڈیڑھ سال میں ہوں گے…وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد(آئی آئی پی) وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ دیوانی مقدمات کے فیصلے اب ایک سے ڈیڑھ سال میں ہوں گے،مدد کی منتظر خواتین اور بچوں کے لئے خصوصی ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے،وراثت کا سرٹیفکیٹ 15 دن کے اندر جاری کیا جائے گا، وسل بلور کے تحت معلومات دینے والے کو 20 فیصد دیا جائے گا۔844 قوانین وزارت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیئے گئے ہیں،نیب قوانین میں اصلاحات کی جارہی ہیں، بدھ کو پی آئی ڈی میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملیکہ بخاری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ عدالتی امور کے حوالے سے ترمیمی بل قائمہ کمیٹی نے پاس کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وزارت قانون و انصاف میں عوام دوست قوانین کے کامیاب ترین مسودے بنائے گئے۔ ان مسودوں میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکسیشن سرٹیفکیٹ بل 2019ء،خواتین کی جائیداد کے حقوق کے بل 2019 کا نفاذ،نگرانی اور تحفظ کی نشاندہی کرنے والے کمیشن کا بل 2019ء،ضابطہ فوجداری (ترمیمی بل 2019ء)،لیگل ایڈ اور جسٹس اتھارٹی بل2019ء،باہمی قانونی معاونت کا بل2019ء،سروس ٹربیونلز(ترمیمی بل 2019 شامل ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں مالیاتی ضمنی (ترمیمی ایکٹ 2018 ایکٹ نمبر38آف 2018ء،مغربی پاکستان کم سنی میں سگریٹ نوشی (تنسیخی) ایکٹ 2018 (ایکٹ نمبر39آف2018ء)،پاکستان کے سینما ہاؤسز میں سگریٹ نوشی کی ممانعت تنسیخی قانون 2019 (ایکٹ نمبر1آف 2019ء)،انتخابات (ترمیمی ایکٹ2019) ایکٹ نمبر2آف 2019ء،مالیاتی ضمنی (دوسرا ترمیمی ایکٹ2019)ایکٹ نمبر3آف 2019ء،الیکشن (دوسرا ترمیمی ایکٹ2019) ایکٹ نمبر4آف 2019ء،فنانس ایکٹ2019 (ایکٹ نمبر5آف 2019 کے قوانین شامل ہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت کی طرف سے نافذ کیے گئے آرڈینینسز میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل آرڈیننس 2019ء،اثاثہ جات ڈیکلریشن آرڈیننس 2019ء،اثاثہ جات ڈیکلریشن (ترمیمی) آرڈیننس 2019ء،نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2019ء،پاکستان تعزیری ضابطہ (ترمیمی) آرڈیننس 2019ء،نیشنل کا ؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی (ترمیم) آرڈیننس 2019ء،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی آرڈیننس 2019ء،رہن شدہ سکیورٹی کی ریکوری کا آرڈیننس 2019 بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سربراہی میں کابینہ کی کمیٹی برائے امور قانون نے مختلف کیسز پر غور وخوض کیا جو کہ زیادہ ترنٹی قانون سازی،مختلف اوقات میں ڈویژنز اور محکموں کی طر ف سے وصول ہونے والے موجودہ قوانین اور قواعد میں ترامیم سے متعلق تھے۔ کابینہ کی کمیٹی برائے امور قانون کے 15اکتوبر 2018 لے کر 16اگست 2019 تک 12اجلاس ہوئے، جن میں 83کیسز پر غور و خوض کرکے مناسب فیصلے کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 100سالوں کے قوانین کو محفوظ کرکے آن لائن پہلی ڈیجیٹلائزیشن کی گئی جس کی ہماری ویب سائٹ www.molaw.gov.pkپر کوئی بھی رسائی حاصل کرسکتا ہے۔pakistancode.gov.pkکی پہلی ترین آئن لائن سروس جاری کی گئی جس میں آج تک کے تمام قابل اطلاق قوانین شامل کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ قوانین کی متعلقہ شقوں ذیلی نافذ العمل قانون سازی بھی شامل کی گئی ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے گذشتہ ایک سال میں 29ججو ں کی اور 9اراکین کی خصوصی عدالتیں اور ٹریبونلز میں تقرری کی ہے اور اس نے ان خصوصی عدالتوں اور ٹریبلونلز کے روانی سے کام کرنے کو یقینی بنانے کا عزم کر رکھا ہے۔ انصاف تک بہتر رسائی کے لئے خصوصی عدالت (سنٹرل)) گوجرانوالہ کے قیام کی تجویز ہے جبکہ مزید عدالتوں اور ٹریبونلز کا قیام زیر غور ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام سرکاری اداروں نے68سرکاری قانونی بلوں کو حتمی شکل دینے اور کلیئرنس دینے کے لئے اس ڈویژن کو سہولتیں دی ہیں۔ جبکہ ان میں 186پرائیویٹ ممبرز بلز260بین الاقوامی معاہدے، مفاہمت کی یادداشتیں، 55معاہدے اور قرضوں کے معاہدوں کے موثر ہونے بارے دی گئی قانونی رائے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح کرنا اہم ہے کہ ذیلی قانون سازی میں 4699ریفرنسز ہیں جن میں قواعد، ضوابط،ضمنی قوانین، حکم نامے اور اعلامیے شامل ہیں، موصول ہوئے اور اگست2018سے لے کر جولائی2019 تک اس ڈویژن نے کامیابی سے ان سب کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف کو قانونی رائے کے لئے مختلف سرکاری اداروں کی طرف سے600 مقدمات موصول ہوئے جو کہ انتہائی ٹیکنیکل حساس، پیچیدہ اور قانونی دشواریوں والے تھے۔ مفاد عامہ میں ایسے تمام مقدمات نمٹائے گئے ان تمام کیسز میں جو معیاری پہلو برقرار رکھا گیا وہ اس وزارت اور کسی بھی دیگر وزارت کی تاریخ میں مثالی ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے اقدار میں آئی ہے اور مختلف شعبہ جات میں دور رس اصلاحات متعارف کرائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام نے سٹیٹس کو بدلنے کے لئے ووٹ کی پرچی کو پی ٹی آئی کو طاقت دی، عوام معاشرے کے گلے سڑے نظام سے جڑے مسائل سے چھٹکارا چاہتے تھے انہوں نے کہا کہ قانون سوچ اور عمل بدلے بغیر تبدیلی نہیں آسکتی، ناہمواری کے خاتمے کے تبدیلی ضروری تھی انہوں نے کہا کہ لا ڈویژن نے ضروری ترامیم متعارف کروائی ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو لوگوں نے انقلابی تبدیلی کے لئے ووٹ دیا تھا۔انہوں نے اس مینڈیٹ کے ساتھ کتنا انصاف کیا ہے اور تبدیلی سرکار نے ایک سال کے دوران جو قوانین متعارف کروائیں ہیں اس سے آپ کو آگاہ کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون انصاف ملیکہ بخاری نے کہا کہ موجودہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے موثر قانون سازی کررہی ہے۔ اس تناظر میں ڈی۔لیگل سسٹم میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے 5سالہ ایکشن پلان وضع کیا ہے۔اس میں منصوبے کے تحت نئی قانون سازی اور پہلے سے نافذالعمل قوانین کے لیے تفو یض کر دہ قانون سازی پر عملدرآمد شامل ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لئے انتظامی اورپالیسی اصلاحات کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیگل سسٹم میں خواتین اورلڑکیوں پر تشدد کی روک تھام کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے گی جبکہ اس سے خواتین کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی میسر آئے گی۔

بعد میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر قانون و انصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ نیب قوانین کے تحت ضمانت کا اختیار ٹرائل کورٹ کے پاس ہونا چاہئے اس تناظر میں ترامیم کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب کی پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی کے بارے میں بھی سپریم کورٹ کی ہدایات ہیں اس تناظر میں بھی ترامیم کی جائے گی۔ اسی طرح پرائیویٹ شخص سے تحقیقات کے حوالے سے ایف بی آر ایف آئی اے کو تحقیقات کا اختیار ہونا چاہئے جبکہ نیب کسی پرائیویٹ شخص کے خلاف تحقیقات کے بجائے میگا سکینڈل پر توجہ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی استعداد کار کے حوالے سے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسی غیر آئینی اقدام کی پشت پناہی نہیں کرے گی قانون اور ایمان کے مطابق چلیں گے۔ارشد ملک کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہم نے انہیں احتساب عدالت کے عہدے سے ہٹا دیا تاہم ان کو واپس بھیجنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس واپس آکر کریں گے اور وزارت قانون و انصاف ان کے احکامات پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا حکومت کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قانون سازی میں رکاوٹیں پیدا کررہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے کا بل اپوزیشن نے سینٹ میں مسترد کردیا حالانکہ اس بل کی منظوری سے عوام کو فائدہ پہنچنا تھا۔


شیئر کریں: