Chitral Times

Jun 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تجربہ کامیاب رہا ………… ایس این پیرزادہ

    May 27, 2019 at 8:40 pm

    پاکستان میں مدینے کی ریاست کو قائم کرنے سےچند سال پہلےتک خان صاحب مغربی طرزجمہوریت کےقائل تھےاور کئ مرتبہ اپنی اس خواہش کا اظہار کر چکا تھاکہ اقتدارملتےہی وہ اس ملک میں یورپ کی طرز پر حقیقی جمہوریت کو نافذ کرینگے،جس میں تمام اختیارات نچلی سطح کے عوامی نمائندوں کوحاصل ہونگے،اپنے اس خواہش کی تکمیل کی خاطر ۲۰۱۳کے الیکشن میں خیبرپختونخواہ میں حکومت بناتے ہی خان صاحب نے یورپ سے ویلیج کونسل نامی ایک نیےنظام کو درآمد کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا،عوامی مفاد میں اس نئے نظام کو نافظ کرنے سے پہلے خان صاحب کی ٹیم میں شامل کسی کم عقل رکن نے فرضی طورپررائےعامہ کوطلب کرنا مناسب سمجھا،اورعوام کوخبردی کہ حکومتِ وقت صوبے میں نیا بلدیاتی سسٹم کا قیام عمل میں لانا چاہتی ہے،اس ضِمن میں اگراپکے پاس کوئی مشورہ یا زیرِغور نظام جن میں،ڈسٹرکٹ کونسل “ضیاء والا”یونین کونسل”مشرف والا”اور ویلیج کونسل”یورپ والا”شامل ہیں کے بارے میں کوئی رائے دینا چاہتےہیں تو اپنے تجاویز ایک مہینے کے اندرارسال کریں،اس نادر موقعے کو غنیمت جان کرعوام میں سے کسی کم عقل نے مشورہ دیا کہ یہ تینوں نظام اپنی اپنی جگہوں پر درست ہیں مگر اقتدار کی صحیح معنوں میں عوام کو منتقلی کی خاطر صوبے میں صرف ڈسٹرکٹ اسمبلی والا نظام متعارف کرایا جائے جس میں ہر۱۰ سے ۱۵ہزار کی آبادی کے لیے براہ راست ایک ڈسٹرکٹ ممبر کا پارٹی بنیادوں پرانتخاب ہو،اورمذکورہ حلقہ انتخاب کی حقیقی ترقی کے لیے اس منتخب نمائندے کو مکمل طور پرہر لحاظ سے بااختیار بنایاجاےَ، اس سے نمائندے کو حلقے میں کام کرنے میں اور علاقے کے عوام کو اپنے نمائندے تک رسائی میں نہ صرف آسانی ہوگی بلکہ فنڈز کے استعمال میں شفافیت کے ساتھ فضول خرچی سےبھی بچاجاسکے گا،

    مفت مشورہ لینے اور دینے کا یہ سارا عمل چونکہ فرضی تھا اسی لیے مذید وقت ضائع کیے عقلمندوں کی ٹیم نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ ۱۴۰اے پرعمل کرتے ہوے معمولی تبدیلی کے ساتھ ان تینوں نظام کو ایک ساتھ شامل کرکے۵۳ہزارسے زائد افراد کو منتخب نمائندگان کی صورت میں عوام پر مسلط کر دیا،تاہم اس مرتبہ ویلیج کونسل کو نیا سسٹم ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل رہی جس کا پہلا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر گلی اور محلے میں عوام کو پانچ کے حساب سے نمائندے مل گیے،محکمہ بلدیات کی طرف سے جاری کردہ مسودے کے مطابق ان منتخب عوامی نمائندہ گان کو مکمل با اختیار بنانے کی خاطر علاقے میں موجود تھانہ،ہسپتال،تعلیمی ادارہ اور عوامی مفاد کے دوسرے تمام اداروں کو ویلیج کونسل کے ماتحت کر دیا گیا،یہ الگ بات ہے بعد میں انکو سمجھ اگیا کہ ہر ضلعے میں ۲۵ ویلیج کونسلز کے لیے صرف ایک ہسپتال موجود ہے،جبکہ ایک تھانے کی حدود میں پانچ ویلیج کونسلز آتے ہیں،اور زیادہ تر ویلیج کونسلز کی حدود میں کوئی ہسپتال،تعلیمی ادارہ،تھانہ،اور دوسرے سرکاری دفاتر ہیں ہی نہیں جن پر انکو حکمرانی کرنی تھی،

    حقیقت میں عقلمندوں نے اس منتخب لشکر سے جو اصل کام لینا تھا وہ انکے زریعے سےنیا ٹیکس کولیکشن یا اضافی محصولات کواکھٹا کرنا تھا جوکہ مغروضی حالات اور علاقائی صورت حال کی وجہ سے تقریباَ ناممکن تھا،اس درپیش صورت حال کو دیکھ کر تبدیلی سرکارنے فنڈز کی کمی کا بہانہ کر شروع میں ہی اس نظام کی کامیابی کے لیے مختص بجٹ میں سے۳۰ فیصد کی کٹوٹی کر کےمکمل طور پر اس نیے سسٹم کوتجرباتی مراحل میں ڈال دیا،اوربادلِ ناخستہ شرمندگی سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت نے اس نظام کوآگے چلانے کی خاطر اپنے ۲۰۱۵کے بجٹ میں۳۵۰۱ نیے قائم شدہ ویلیج کونسلزکی ترقی لیے۱۔۱۳بلین روپےمختص کر دیا،جو کہ کچھ نہ ہونے سےبہرطور بہترتھا،

    سالانہ ترقیاتی بجٹ کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے متعین کردہ فارمولے کے تحت آبادی کی تناسب سے ایک ویلیج کونسل کےلیے سالانہ کم سے کم۲ملین روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ۵۔۷ملین روپےرکھے گیے، یعنی اس فارمولے کی رو سے۲ ہزار تک کی آبادی والے ویلیج کونسل کو سالانہ۲۰ لاکھ روپے اور۱۲ ہزار تک کی آبادی والے ویلیج یانیبرہوڈ کونسل کو سالانہ۷۵ لاکھ روپے ملنے تھے۔

    لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخواہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ضلع چترال میں پانچ نیبرہوڈ کونسلز کو ملاکر کل ۱۰۰ ویلیج کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،جس کے لیے۹۵۰ کے قریب عوامی نمائندگان کا انتخاب ہو چکا ہے،لوکل گورنمنٹ کے ضلعی آفس سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ چارسالوں کےدوراں ضلع میں قائم ہرویلیج کونسل کو سالانہ ترقیاتی کاموں کی خاطرکم سے کم۱۲لاکھ روپےاور زیادہ ۲۹لاکھ روپے ملے،اسی طرح ہر ویلیج کونسل کو غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں ہر سال ۵لاکھ روپے دیے گیے،کل ملاکرضلع چترال کی تمام ویلیج کونسلز کو اپنے چار سالہ مدت میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ۶۶کروڑ۱۸لاکھ روپےجبکہ غیرترقیاتی اخراجات کی مد میں ۱۵کروڑ۴۲لاکھ روپے فراہم کیے گیے،ساتھ ہی ویلیج کونسلز کے لیے نیے قائم شدہ دفترات کی تزین وآرائیش پر۱کروڑ۴۸لاکھ۷۱ ہزارروپےکی خطیر رقم خرچ ہوا۔

    حکومت کی طرف سے ویلیج کونسلز کو جاری کردہ ترقیاتی فنڈزکواستعمال کرنے کے لیے وضغ کردہ اصول کے مطابق کونسل کے ممبران مشترکہ طورپر اپنے بجٹ کا۲۵ فیصد تعلیم، ۲۵فیصد صحت، ۲۵فیصد ترقیاتی کاموں جبکہ ۲۵فیصد کو خواتین کی فلاح و بہبود اورنوجوانوں کی صحتمندانہ سرگرمیوں پر خرچ کرنے کے پابندہیں،تاہم اس قانون کا اطلاق چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر کتابوں کی حد تک محدود رہا،

    صوبہ خیبرپختونخواہ میں شرح خواندگی کے حوالے سے قدرے بہتر تصور کیاجانے والا ضلع چترال میں جب اس نظام کی کامیابی کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ منتخب ہونے والے نمائندگان میں دوتہائی اکثریت ناخواندہ ہےاورزیادہ تروہ بےکارخواتین وحضرات ہیں جوشدید قسم کے بےروزگاری کا شکارہوکرعوامی ہمدردی سے اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں،جب اس قسم کے منتخب شدہ نمائندوں کو اس نظام میں اپنے لیے کوِئی خاص مراعات اور اختیارات نظر نہ آئےتو انہوں نے ہاوس کو چلانے کے لیے متعین کردہ رولزآف بزنس اور کوڈ آف کنڈکٹ کو پسِ پشت ڈال کر سالانہ ترقیاتی بجٹ کو دیہی منصوبوں کانام دیکرآپس میں تقسیم کرنا شروع کردیا،

    اس قانون شکنی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱ سے لیکر۴ لاکھ روپےتک کے یہ چھوٹے چھوٹے منصوبے نمائندگان،ٹھیکیداروں اورسرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے کمیشن اور کرپشن کی نظر ہو کرجگہ جگہ ناقص اور ناکام منصوبوں کی شکل میں نظر آتے ہیں،شاندارقسم کےمالی بےضبطگیوں اوربےقاعدہ گیوں پر مشتمل اس سفید کرپشن کا جواب نمائندے کے پاس فنڈز کی کمی،ٹھیکیدار کے پاس ادارے کی طرف سے جاری کردہ ورک ڈن سرٹیفیکٹ اورادارے کے پاس نمائندے کی طرف سے دیا گیا حلف نامے کی صورت میں بہرحال موجود ہے،

    شایدغربت،جہالت اورپسماندگی کے اندھیرے میں اس نیے نظام کے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا،افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اول اس مہنگاترین نظام کو غریب ترین صوبے کے پسماندہ ترین عوام پرآزمانے کے بعد بھی اپنی نااہلی پرپردہ ڈالنے کے لیے عقلمندوں کی ٹیم اس نظام کو کامیاب قراردے کردوبارہ عوام پر مسلط کرنے کی تیاری کررہی ہے،
    یہی نہیں اپنے اس اہم کامیابی کی خوشی میں صدقے کے طور پر ڈسٹرکٹ کونسل کوقربان کرنے کا پروگرام بھی زیرغورہے،یہ الگ بات ہے کہ حکمران ٹولہ اپنے متعارف کردہ اس نظام کی کامیابی کے دفاع میں پورے صوبے میں کسی ایک بھی ویلیج کونسل کورول ماڈل کے طورپردنیاکے سامنے پیش کرنے سے قاصرہیں،البتہ انکے اس کامیابی کے معیارکو جانچنے کے لیے کم از کم صوبائی سطح پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل انتہائی ضروری ہے،وگرنہ جہاں پر سونامی بلین ٹری اوربی آرٹی پشاور جیسے منصوبے کامیابی سے چل رہے ہوں وہاں پرویلیج کونسل سسٹم پر تنقید کرنا ناانصافی ہوگاکیونکہ یہاں پر کچھ نہیں تو۴۳ ہزارلوگوں کے ناموں کے ساتھ کونسلرلفظ کا اضافہ تو ہو گیا۔

  • error: Content is protected !!