Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹرانسپرنسی کی کرپشن رپورٹ……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مختلف ملکوں میں کرپشن کی ترقی و تنزلی کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سیاست دان کرپشن میں بدستورپہلے نمبر پر ہیں جبکہ دوسرے نمبر پرڈاکٹر براجمان ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ کرپشن مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہوئی۔ ٹرانسپرنسی نے کہا ہے کہ کرپشن ختم کرنے کے نعرے پر اقتدار میں آنے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے بدعنوانی پر قابو پانے کے لئے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر برادری کی اکثریت جعلی ادویہ ساز کمپنیوں کے پے رول پر ہے اور وہ اپنے کمیشن کی خاطر مریضوں کو مضر صحت ادویات تجویز کرکے اپنے پیشے کے تقدس کو پامال کرنے میں مصروف ہے۔طب بلاشبہ ایک مقدس پیشہ ہے۔ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والے مسیحا کہلاتے ہیں۔ جب سے پرائیویٹ کلینک کھولنے کی روایت چلی ہے تب سے ڈاکٹروں کو پیشے کے بجائے پیسے سے پیار ہوگیا ہے۔ رہی سہی کسر ادویہ ساز کمپنیوں نے پوری کردی۔ کسی مشہور ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی کو رشوت دے کر اپنی پراڈکٹ بیچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن گلی کوچوں میں کھلنے والی جعلی ادویہ ساز کمپنیوں نے اپنے نمائندوں کے ذریعے ڈاکٹروں کو شیشے میں اتار کر بوتلوں میں بند کردیا ہے۔ہر ڈاکٹر کے کلینک کے باہر میڈیکل سٹوران جعلی دوائیوں کے لئے مختص ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کی پرچی لے کر آپ پورے شہر میں گھومیں۔ آپ کو وہ دوائی نہیں ملے گی۔ مجبور ہوکر اسی کلینک کے باہر موجود میڈیکل سٹور سے رجوع کرنا پڑے گا۔ان ڈاکٹروں کا ایکسرے، الڑاساونڈ، ای سی جی، سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور لیبارٹری والوں کے ساتھ بھی خفیہ معاہدہ ہوتا ہے۔ پہلے مریض کو چٹ دے کر فلاں لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کو کہا جاتا تھا۔ جب مریضوں نے مخصوص لیبارٹریوں پر شک کرکے دوسری لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانا شروع کیا تو ڈاکٹروں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کردی۔ اب ڈاکٹر کا نمائندہ مریض کو خود لے کر لیبارٹری جاتا ہے اور زبردستی وہاں سے ٹیسٹ کرواتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کسی مخصوص بیماری کے ڈاکٹر کے پاس مریض جاتا ہے تو خواہ مخواہ اس سے چھ سات قسم کے غیر ضروری ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں حالانکہ مریض کو بھی معلوم ہے کہ گھٹنے میں درد کی شکایت ہو۔ توالٹراساونڈ، ای سی جی اور ای ٹی ٹی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ ڈاکٹروں کو کمیشن کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے مریضوں کو اپنے ڈاکٹرکے مفاد کی خاطر قربانی کا بکرا بننا ہی پڑتا ہے۔ جعلی ادویہ ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات بیچنے کے لئے ڈاکٹروں کے گھروں کو اعلیٰ قسم کے فرنیچرز سے سجاتی ہیں۔ ان کے بچوں کے لئے سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں لاتی ہیں۔ انہیں پرفضاء مقامات کی سیر کراتی ہیں انہیں عمرے پر بھجواتی ہیں۔ ان کے لئے گاڑیاں منگواتی اور بنگلے خرید کر دیتی ہیں۔ گلہ ڈاکٹروں سے بھی نہیں۔ کیونکہ اس معاشرے میں اسی کو بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے ۔جس کے پاس قیمتی گاڑی ہو۔ جو ایک کینال کے بنگلے میں رہتا ہو۔ جس کے بچے شہر کے مہنگے سکولوں میں پڑھتے ہوں وہی لوگ معتبر ٹھہرتے ہیں۔ جب وہ راستے سے گذر رہا ہو۔ تو لوگ اسے سلام کرتے اور راستہ دیتے ہیں۔اسی معاشرتی مقام کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ہر قیمت پر پیسہ جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ اس کے لئے انسانی قدروں اور پیشے کے تقدس کو ہی کیوں نہ پامال کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔تاہم ڈاکٹروں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے طب کے پیشے کے تقدس کو بحال رکھا ہوا ہے جو دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں۔ صرف ڈاکٹروں کو ہی مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ نفسا نفسی اور مادیت پرستی کے اس دور میں ہر شعبے کے لوگ زر کے پجاری بن گئے ہیں۔ چاہئے استاد ہو،معلم ہو۔دانشور ہو، صحافی ہو،انجینئرہوسیاست دان ہو یا کسی سرکاری ادارے کا افسر یا ملازم ہو۔ سب ہی جائز یا ناجائز طریقے سے دولت جمع کرنے میں مگن ہیں۔ ہمیں ٹرانسپرنسی کی رپورٹ کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر اپنے ضمیر کے منصف سے ہی پوچھنے کی ہمیں جرات ہو۔ تووہ ہمیں اپنے مفاد کی خاطر دوسروں کو تکلیف دینے اور نقصان پہنچانے کی اجازت کبھی نہیں دے گا۔ تاہم اس کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ ضمیر زندہ ہو۔


شیئر کریں: