Chitral Times

Jul 19, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • شندور اور پولو……….. تحریر: شمس الحق نوازش غذری

    July 8, 2019 at 10:51 pm

    شندور کھوار میں شہنشاہوں اور بادشاہوں کے گھر کو کہتے ہیں۔”شن“شاہان کی بگڑی ہوئی شکل ہے اور شاہان سے مراد شاہی خاندان اور شاہی لوگ ہیں۔دُور کھوار کی لغت میں گھر کو کہتے ہیں۔اسی مناسبت سے شندور کا اصل مطلب بادشاہوں اور شہنشاہوں کا گھر ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ چترال کے شاہی خاندان کے شاہی انسان مہترِ چترال کو جب شندور اپنے دورُخی مزاج کی بناء ”شندور“ میں مستقل شاہی محل بسانے کی اجازت نہیں دی تو مہترِ چترال دُنیا کی چھت پر قائم نیچرل پولو گراؤنڈ کے عین وسط میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ اگر کائنات میں زمین کا کوئی حصہ ایک مقام سے دوسرے مقام میں منتقل کرنا ممکن ہوتا تو میں شندور کو اکھاڑ کر چترال لے جاتا۔

    شندور غذر کا حصہ ہے یا چترال کا۔۔۔۔؟اس سے قطع نظر ہم اس ایشو کو اُچھال کر باہمی فسادات کو ہوا دینے کے بجائے شندور کے حُسن و دلکشی کی چرچے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔تو بات ہورہی تھی شندور کی۔۔۔۔۔! شندور چترال سے195کلومیٹر اور غذر کے ضلعی ہیڈ کواٹر گاہکوچ سے135کلومیٹر دور لنگر نامی سبزہ زار کے اختتام پر واقع ہے۔شندور سطح سمندر سے 12550فٹ اور3734میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔شندور میں پہلے پولو میچ ایک انگریز پولیٹیکل ایجنٹ میجر کاب نے1936میں کروایا تھا جبکہ دوسراپولو کاب صاحب کی نگرانی میں جولائی1938ء میں پھنڈر میں کھیلا گیا۔معروف صحافی شریف شکیب کے تحقیق میں بھی یہی بات ثابت ہے وہ لکھتے ہیں ”برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر کاب بھی پولو کے بہت بڑے شوقین تھے۔انھوں نے شندور میں چترال اور گلگت کی پولو ٹیموں کے درمیان میچ کا اہتمام کیا“ لیکن بروشسکی زبان کے محقق میجر فیض آمان کا خیال اِن سے یکسر جُدا ہے۔میجر فیض آمان کی تازہ ترین ریسرچ کے مطابق شندور میں سب سے پہلا پولو میچ بلتستان کے راجہ علی شیر خان انچن نے کروایا تھا اور میجر صاحب شندور کے ”مس جینالی“ میں رات کو پولو کھیلنے کے کریڈٹ کا مستحق بھی ”علی شیر انچن“ کو ہی قرار دیتے ہیں۔

    مورخین کا خیال ہے شندور میں مختلف ادوار میں گلگت اور چترال کے مابین پولو کے مقابلے ہوتے رہے ہیں۔جون1986؁ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اُسے باقاعدہ قومی ٹورنامنٹ کا درجہ دے دیا اور بعد ازاں اس کا نام ”جشنِ شندور“ اور پھر زمانہ قریب میں اس کا نام”شندور پولو فسٹیول“ رکھا گیا۔رہی بات پولو کی تو ایک روایت کے مطابق گیارھویں صدی میں پولو کا کھیل چترال میں ترکستان سے آیا۔پہلے زمانے میں ترکستان کے میرزہ یا شیرازہ پولو میچ کھیلا کرتے تھے۔رئیس بیگالے چترال میں بحیثیت فاتح داخل ہوئے تو اپنے ساتھ پولو کا کھیل بھی لایا۔بیگال خاندان کے معروف پولو پلیئر میرزہ بیگال کے ساتھ اُن کے ماں کی طرف سے دل و جان پر رقت طاری کرنے ولی مخصوص کھوار مرثیہ برسوں سے کھوار ادب میں عروج پر ہے۔

    پہلے شندور میں صرف پولو کھیلا جاتا تھا مگر بعد میں اس میں مزید دلچسپیاں شامل کی گئیں۔شندور پولو فسٹیول2019؁ء میں پولو کے علاوہ رسہ کشی، ڈنگی پولو، رفٹنگ کا مقابلہ، کوہ پیمائی، ہینڈ گلائڈنگ، کیمپ فائر، ثقافتی شو، ٹراؤٹ فیشنگ، ہینڈی کرافٹس کی نمائش، گھوڑ دوڑ، تمبوک بازی، علاقائی لوک رقص اور پیراگلائڈنگ شو کے مقابلے شامل ہیں۔

    قدرت نے شندور پولو گراؤنڈ کو ایک سٹیڈیم کی شکل میں بنایا ہے۔دُنیا کی چھت پر واقع اس پولو گراؤنڈ کا قدیم نام”ماہوران پاڑ“ یعنی پریوں کا مسکن ہے۔شندور کے شمال مغربی حصے میں تین میل لمبائی اور ایک ڈیڑھ فرلانگ چوڑائی پر مشتمل قدرتی جھیل واقع ہے جہاں مرغابیوں کی افزائش نسل ہوتی ہے۔امریکہ اور افغانستان وار کے بعد مختلف رنگ و نسل کی مرغابیاں شندور جھیل میں دیکھنے کو ملیں غذر اور لاسپور کے مقامی باشندوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں شدید بمباری کی وجہ سے جہاں افغانی نقل مکانی پر مجبور ہوئے وہاں مرغابی اور جنگلی حیات نے بھی تو رہ بورہ سے نکل جانے میں عافیت محسوس کی۔
    گلگت کی جانب سے شندور میں داخل ہوتے ہوئے ایک چھوٹا سا پیالہ نما گراؤنڈ آنکھوں کو خیرہ کردیتا ہے۔اس پولو گراؤند کو مس جینالی اور چاندنی پولوگراؤنڈ کہا جاتا ہے۔یہاں پر برٹش کے دور کے تعمیرات کے کھنڈرات موجود ہیں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ میجر ڈی ایل آر لوری آئی نے1915؁ء کی کووالیاں چترال و دیگر امراء کے ساتھ ان مکانات میں گرمیوں کے کچھ ایام گزارے تھے اور چاندی راتوں میں اس پولو گراؤنڈ میں پولو کھیلتے تھے۔
    شندور کا یہ ہریالا میدان‘ پہاڑ اور جھیل سردیوں میں برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور اس وقت موسم گرما کی فرحت بخش ہواؤں کے بجائے تندوتیز اور طوفانی ہوائیں شندور میں موجود ہر جاندار کو موت کا پیغام دیتی ہیں موسم سرما خصوصاََ جنوری اور فروری میں شندور کراس کرکے لاسپور اترنا ماؤنٹ ایورسٹ سرکرنے کے مترادف ہے۔آج سے پہلے کئی مسافرشندور کی ہڈیوں کا گودامنجمد کرنے والی ہواؤں کی نذر ہوگئے امسال ہی گیارہ افراد کے قافلے سے دونوجوان بچھڑ کر شندور کی طوفانی ہواؤں کی زد میں آگئے اور برف کے اندر دھنس کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے جس طرح کے ٹو کو اکثرلوگ خونی پہاڑ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اگر اسی طرح موسم سرما میں شندور کو خونی درہ کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔غالباََ شندور کے اس دورخی اور دورنگی مزاج کی بناء پر ایک مقامی سیاح نے مقامی زبان کھوار میں یہ خوبصورت محاورہ گاڑھ دیا ہے۔
    اے شندور۔۔۔۔کیا تاڑوئیک۔۔۔۔کیا شوئیک

    گلگت‘ غذر اور چترال کی ترقی کا دارومدار براہ راست جشن شندور پر منحصر ہے۔یہ سب کچھ شندور کی مرہون منت ہے کہ جشن شندور کے دوران مختلف سربراہان مملکت اور اعلیٰ فوجی و سول شخصیات شندور میں قدم رنجہ فرماتے رہے جن میں صدر پاکستان مرحوم جنرل ضیاء الحق، صدر پاکستان فاروق احمد لغاری، وزیر اعظم، بے نظیر بھٹو، صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم معین الدین چشتی، جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل عبدالواحید کاکڑ، جنرل محمد یوسف، وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ اور وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے نام قابل ذکر ہیں۔

  • error: Content is protected !!