Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعہ پر شوکت یوسفزئی کا اظہار افسوس

Posted on
شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے پشاور یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلباء ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں ہم کسی صورت طلباء کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ فیس سٹرکچر کا تعین حکومت نہیں یونیورسٹی سنڈیکیٹ کرتی ہے تاہم پھر بھی اگر طلباء کے تحفظات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو پورے واقعہ کی تحقیقات کرانے کے لئے حکومت تیار ہے وہ جمعرات کے روز ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ایم پی اے فضل حکیم، ڈی جی محکمہ اطلاعات فردوس خان اور پریس سیکرٹری وزیر اعلی بحرہ مند خان بھی موجود تھے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کچھ طلباء نے ڈگریاں لینے کے باوجود ہاسٹلز کے کمروں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور ان کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے یونیورسٹی کو سالانہ تین کروڑ روپے نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے انہو ں نے کہاکہ ہم طلباء کے جائز حقوق کے لئے بننے والی سٹوڈنٹس یونیز کا احترام کرتے ہیں ان کو مکمل سپورٹ کریں گے مگر فیسوں کی آڑ میں اگر کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو مسائل بنیں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق جن طلباء نے ڈگریاں لے لی ہیں انہیں کمرے خالی کرانے کے لئے بار بار نوٹسز جاری کئے مگر وہ زبردستی رہ رہے ہیں جبکہ فیس بھی نہیں دے رہے ان طلباء کو بعض سیاسی جماعتیں سپورٹ کر رہی ہیں یہ غریب صوبہ ہے مشکل سے والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پڑھانے بھیجتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ان کو یہاں بہترین تعلیمیماحول دیں کچھ عناصر طلباء یونیز کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہیں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ طلباء کا احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے ان کو اجازت دیدی تھی کہ وہ صحن میں جتنامرضی ہو احتجاج کریں ایڈمنسٹریشن بلاک میں دفعہ 144 نافذ تھا صبح سے احتجاج کرنے والے یہ طلباء 12 بجے کے بعد دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے کے لئے ایڈمنسٹریشن بلاک کی طرف بڑھنے لگے پولیس نے روکنے کی کوشش کی یہ نہ رکے تو پولیس کو مجبوراً یہ اقدام اٹھانا پڑا انہو ں نے یقین دلایا کہ طلباء کے جائز مسائل وہ خود حل کریں گے تاہم انہوں نے طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی کے ہاتھوں کھلونا نہ بنیں۔


شیئر کریں: