Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • شہری حقوق کا ادراک……. محمد شریف شکیب

    August 27, 2018 at 7:51 pm

    کیاہم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے ہم دوتین مہینے تک بجلی کا بل ادا نہ کرسکے تو میٹر ریڈر ہمارے گھر کے باہر نصب میٹر اتارکر لے جاتا ہے۔ اور جب تک بل کے بقایاجات اور جرمانے کی رقم ادا نہیں کی جاتی۔ تب تک میٹر واپس نہیں کیا جاتا۔ بقایاجات چکانے کے بعد میٹر دوبارہ نصب کرنے کے لئے اسی میٹر ریڈر کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ہیں اور وہ میٹر لگانے کی الگ مزدوری طلب کرتا ہے۔ جبکہ قانون کے مطابق میٹر صارف کی ملکیت ہوتا ہے۔ اسے اتارنے کا میٹر ریڈر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ وہ کنکش کاٹنے کے لئے میٹر کے ساتھ لگی اپنی تار کاٹ سکتا ہے۔ اور کنکشن کی بحالی تک عارضی کنکشن مہیا کرنا میٹر ریڈر یا بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کا فرض اور شہری کا بنیادی حق ہے۔ میٹر اتارنے کے خلاف شہریوں کو عدالت میں مقدمہ اور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ہم میں سے کسی کو بھی اپنے حقوق کا ادراک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی، گیس، پانی اور دیگر شہری سہولیات فراہم کرنے والے ادارے شہریوں کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔کوئی دکاندار دکان کے باہر فٹ پاتھ پر اپنا سامان رکھتا ہے تو یہ تجاوزات اور شہری حقوق پر ڈاکہ ہے۔ فٹ پاتھ پر چلنے کی جگہ نہیں رہتی تو پیدل چلنے والے سڑک استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ ٹریفک حادثات میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔لیکن تجاوزات جیسے سنگین جرم کو ہمارے ہاں کوئی جرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔ ضلعی انتظامیہ، محکمہ بلدیات یا قانون نافذ کرنے والے ادارے اگر تجاوزات کے خلاف آپریشن کریں تو تجاوزات کرنے والے احتجاجی مظاہرے شروع کرتے ہیں۔ سڑکوں پر دھرنا دے کر شہری زندگی کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حکومت کی مخالف سیاسی جماعتیں تجاوزات کرنے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرکے ان کے غیر قانونی کام کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ اگر عوام کو اپنے اس بنیادی حق سے آشنائی ہو۔ تو کسی کی مجال نہیں کہ تجاوزات قائم کرکے شہریوں کو اذیت پہنچائے ۔اور کسی سماجی، تجارتی تنظیم یا سیاسی جماعت کو یہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ مجرموں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرے۔دفاتر، پارکس، پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پرسیگریٹ نوشی ایک قابل سزاجرم ہے۔لیکن سیگریٹ پینے والے اسے اپنا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔ عوام بھی اسے کوئی جرم نہیں سمجھتے۔ حالانکہ مسافر بس میں ایک شخص کی سیگریٹ نوشی کی وجہ سے بس میں موجود پچاس دیگر مسافروں کو نہ صرف کوفت ہوتی ہے بلکہ ان کی صحت کو نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ مگر آج تک کسی نے پبلک مقامات پر سیگریٹ پینے والوں کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کرائی نہ ہی کسی عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔پارکس، کھیلوں کے میدان اور تفریح گاہیں عوامی مقامات میں شمار کئے جاتے ہیں۔ مگر وہاں داخلے کے لئے عام لوگوں کو اپنا پورا شجرہ نصب بتانا پڑتا ہے۔ جبکہ اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ جب چاہیں ان عوامی مقامات کو ذاتی استعمال میں لاتے ہیں۔ لیکن کسی نے اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا۔بدقسمتی سے نوے فیصد سے زیادہ لوگوں کو اپنے بنیادی شہری حقوق کا علم ہی نہیں۔ شہری حقوق کے بارے میں آگاہی سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مدارس، مساجد اور میڈیا کے ذریعے دی جاتی ہے۔ مگر یہ تمام ادارے بنیادی شہری حقوق کے بارے میں شہریوں کو بتانا ضروری نہیں سمجھتے۔ نہ ہی حکومت شہریوں کو ان کے حقوق سے آگہی فراہم کرنے میں سنجیدہ ہے۔ حکومتیں اور سرکاری ادارے دانستہ طور پر عوام کو ان کے بنیادی شہری حقوق سے بے خبر رکھتی ہیں تاکہ جب چاہیں ان حقوق کو سلب اور پامال کرسکیں۔حقوق اور فرائض کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب تک معاشرہ شہریوں کو ان کے حقوق فراہم نہیں کرتا۔ تب تک شہریوں سے فرائض کی ادائیگی کا تقاضا کرنے کا حق نہیں رکھتا۔تاہم جب تک ہم اپنے حقوق سے بے خبر رہیں گے قومی فرض نبھانے کے نام پر ہمارا استحصال جاری رہے گا۔

  • error: Content is protected !!