Chitral Times

Jun 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • رمضان المبارک……… از قلم: بلبل جان(شاہ) گلگت

    May 30, 2019 at 10:24 pm

    تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے، خدا ئے بزرگ و برتر کے خصوصی نظر و کرم اور حبیب خدا حضرت محمدؐ کے وجود پاک اور دعا و برکات کے طفیل ہمیں ماہ رمضان المبارک کی بابرکت، با کرامت اور پرکیف ساعتیں عطا کی گئی ہیں جو نوع بشر اور بالخصو ص امتوں کے لئے ایمانی سعادتوں، روحانی لذتوں اور نورانی شادمانیوں سے معمور ہیں۔ اس معتبر موقع پر رب العالمین کی رحمتوں برکتوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آسمان سے زمین کی جانب رواں دواں ہوتا ہے جو کائنات کی جملہ اشیاء پر حسب توفیق علم و عرفان کی بہارں لٹاتا ہے۔ آتش جہنم سرد توبہ و استغفار کا فیض عام بہشت بریں نزدیک اور اس کے مقفل دروازے کھولے جاتے ہیں، شیطان کو جکڑ لیا جاتا ہے اور طاغوتی قوتوں کے راستے مسدور کئے جاتے ہیں، بندوں کی قلیل عبادت اور چھوٹی چھوٹی نیوں کو کثیر شمار کیا جاتا ہے، نیاز مندی سے کیا جانے والا ایک سجدہ ہزاروں سجدوں کے برابر،دل سے نکلنے والی ہر دعا مستجاب ذکر خدا اور عشق مصطفیؐ میں ہدیہ کی جانے والی جلی و خفی مناجات ازکار عرش سے ہزار گنا فیوض و برکات لیکر مومنوں پر برستی ہے۔حقیقت کی تلاش کے لئے خزائن الہٰی کے ابواب وا کئے جاتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ ماہ مبارک کے آخری عشرے کی طاقتور راتوں میں قدر والی رات بھی ہے اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ مقبول خالق اور مخلوق کا رشتہ کتنا نرالا ہے اس ماہ بزرگ میں رحمت الٰہی جوش مارتی ہے اور ہمارے والدین سے بھی زیادہ ستر گنا اپنی آغوش رحمت میں لاڈ پیار دے کر دنیا اور عقبیٰ میں رضائے الٰہی کامیابی و سرخروئی کا باعث بنتی ہے۔ اس حوالے سے میزان الحکمہ اور بجار الانوار میں مشہور روایات بیان ہوئی ہیں۔رمضان المبارک کو اس لئے رمضا ن کہا گیا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا ڈالتا ہے۔رمضان المبارک کی حقیقت اور فضیلت کا بندوں کو علم ہوتا ہے تو وہ سال بھر رمضان المبارک کے ہونے کی دعا کرتے۔ رمضان کی پہلی رات آسمان کے در کھل جاتے ہیں اور آخری شب تک بند نہیں ہوتے ہیں، سبحان اللہ۔ اللہ جل شانہ اپنے وجود و سخاوت سے مومنوں کی ظاہری و باطنی تربیت کے لئے ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے جس میں مسلمان خلوص دل سے روزے رکھتے ہیں۔ ماہ رمضان کے گوناگوں پہلو بیان کرتے ہوئے علماء کرام فرماتے ہیں رمضان رمض سے ناطق ہے جس کے معنی گرم یا گرم بھٹی کے جس طرح آلودہ لوہے کو صاف کر کے اسے قیمتی پرزے بنا دیتی ہے اور سونے میں موجود کثافت دور کر کے محبوب کے پہننے کے قابل بنا دیتی ہے اس طرح ماہ رمضان مومنوں کے دلوں میں موجود گناہوں کے گہرے داغوں کو دھو ڈالتا ہے ان کی توقبات خیز کثیر میں اضافہ کر کے دوستان خدا میں شامل کر دیتا ہے۔اس کی ایک خوبصورت تعبیر بیان کی گئی ہے حروف رمضان پانچ ہیں۔ ر، م، ض، ا، ن جو رحمت ہیرہ سے کم نہیں ر سے رحمت م سے محبت، ض سے ضمان، ا سے امان اور ن سے نور کی طرف اشارہ ہے۔آپ ؐ کی تعلیمات کے مطابق روزہ دار کا سونا عبادت اس کی خاموشی عبادت اور اس کی سانس کی آمدورفت تسبیح ہے۔روزہ دار کی منہ کی بو اللہ کو بے حد پسند ہے۔ رمضان کے روز ے میں کسی کو افطار کرانے سے کثیر ثواب ملتا ہے، گرمی کا موسم ہوتا ہے رمضان کا مہینہ ہے، حضرت بی بی فاطمہ ؑ کے مبارک ہاتھوں سے پک کر روٹی تیار ہے افطار کا وقت ہے دستر خواں لگا ہوا ہے دروازے پر دستک ہوتا ہے اور آواز آتی ہے مسافر ہوں خالی ہوں افطار کے لئے حضرت علیؑ نے پنے حصے کی روٹی غلام کے ہاتھوں میں تھماتا ہے اور فرماتے ہیں میں پانی سے افطار کرونگا وہاں سے حضرت حسن ؑ بھی اپنے حصے کی روٹی لیکر کھڑا ہوتا ہے یہ بھی لیکر جاؤحضرت حسین ؑ بھی اپنے حصے کی روٹی جھولی میں ڈالتے ہیں وہاں سے حضرت فاطمہؑ بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے اس گھر میں کون ہوگا خاموش غلام بھی اپنے حصے کی روٹی لے جاتا ہے اور سوالی کو دیتا ہے گھر میں سارے پانی سے افطار کرتے ہی۔ حضرت علیؑ فرماتے کہ مجھے گرمی کے روزے بہت پسند ہیں میں خوب پیاسا رہوں اپنے رب کی خوشنودی سید نا حکیم پیر ناصر خسروؒ فرماتے ہیں رمضان کا مہینہ اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے، سال کے تمام مہینوں سے افضل ہے اس مہینے میں ایک انسان جو بھی نیک کام کر سکتا ہے اس میں سب سے عظیم کام یہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق ضرورتمندوں کی مدد کریں اور خطرات سے دوچار لوغوں کی زیادہ سے زیادہ امداد کریں۔
    معزز قارئین! منشائے خداوندی اور سنت نبویؐ کے مطابق مسلمانان عالم اسلامی سال کے نویں مہینے رمضان المبارک کو جو تمام مہینوں سے افضل ہے انتہائی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ ماہ مقدس کی فضیلت کی بنیاد روحی ربانی اور نزول قرآن ہے، تاریخ کے چند اہم واقعات جو رمضان شریف کی اہمیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں کہ جیسا کہ رمضان المبارک میں سید الشہداء امام حسین ؑ کی ولادت ہوئی، اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی شہادت ہوئی، معرکہ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور مکہ فتح ہوا اور اس ماہ مقدس کے دوران حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ، اور حضرت فاطمۃ الزہراؓ خاتون جنت کا انتقال ہوا، ہمارا ملک پاکستان اسی مہینے کی ستائیسویں شب کو وجود میں آیا کاش ہم اس کا حق ادا کر پاتے۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے “رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجو انسانیت کے لئے ہدایت ہے(البقرہ)”
    قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے” اے ایمان والو! روزے تم پر فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ ”
    آغاخان سوئم دی میموریز آف آغاخان کے ایک باب میں روزے کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ “سال میں ایک مہینے کی روزہ داری جو بالکل قابل فہم ہے جسم کی تربیت کا ایک بنیادی حصہ ہے بشرطیکہ جسمانی صحت پر شاق نہ گزرے اس تربیت کے ذریعے جسم تمام نا پاک خواہشوں کو ترک کرنیکی کوشش کی جاتی ہے”

  • error: Content is protected !!