Chitral Times

Oct 15, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • انتخابی سرگرمیوں کی بہار ……………محمد شریف شکیب

    February 12, 2018 at 7:10 pm

    ملک میں عام انتخابات کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔ مختلف مقامات پر شمولیتی جلسے ہورہے ہیں۔ اور اس قسم کے اکثر جلسوں میں دیگر جماعتوں کو مرغوب کرنے کے لئے اپنے ہی کارکنوں کو ٹوپیاں پہنا کر پارٹی میں شامل کرنے کے اعلانات کئے جاتے ہیں اور پارٹی قیادت کی طرف سے بیانات جاری کئے جاتے ہیں کہ فلاں لیڈر کی شمولیت سے ان کی پارٹی میں نئی جان پڑ گئی ہے اور آئندہ انتخابات میں کامیابی یقینی ہوگئی ہے۔ بعض پارٹیوں کی طرف سے یہ دعوے بھی سامنے آرہے ہیں کہ عوام دیگر تمام جماعتوں سے مایوس ہوکر ان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔کیونکہ عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آنے والوں نے اپنے ووٹروں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ حکومت پر لعن طعن کے تیر برسانے والے خود بھی حکومت کا حصہ رہے ہیں۔مخلوط حکومت میں نیکی اور بدی کی ذمہ داری اقتدار میں شریک تمام پارٹیوں پر مساوی طور پر عائد ہوتی ہے۔میرا اشارہ خیبر پختونخوا حکومت میں شامل چاروں اتحادی جماعتوں کی طرف ہے۔جہاں 2013سے اب تک تحریک انصاف کے ساتھ جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد اور قومی وطن پارٹی اقتدار میں شریک رہی ہیں۔ حکومتی اتحاد میں شامل بڑی مذہبی جماعت نے جب اپنا وزن مذہبی پارٹیوں کے اتحاد ایم ایم اے کے پلڑے میں ڈالا ۔ تو عوام کو یہ نوید سنانے لگی ۔ کہ خالص سیاسی پارٹیوں نے عوام کو مایوس کیا تھا۔ تاہم دینی جماعتوں کا اتحاد امید کی نئی کرن بن کر افق پر جگمگانے لگا ہے۔ آئندہ حکومت ان ہی کی ہوگی اور وہ عوام کو مایوسیوں کے گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کریں گے۔ کیونکہ ان کے پاس جو روڈ میپ ہے وہ کسی کے پاس نہیں۔اتحادی جماعت کے بدلتے تیور دیکھ کر تحریک انصاف نے بھی قومی سطح پر ہم خیال جماعتوں اور شخصیات سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔ عمران خان نے مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما اور سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار کو پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔لیکن ہمیں چوہدری صاحب کی دال یہاں گلتی نظر نہیں آرہی۔کیونکہ چوہدری صاحب ضرورت سے زیادہ سچ بولتے ہیں اور سیاست میں حد سے زیادہ سچ بولنا خطرناک گردانا جاتا ہے۔خان صاحب پیپلز پارٹی کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہیں۔ لیکن پی پی پی اور پی ٹی آئی میں سیاسی اتحاد کی راہ میں زرداری سب سے بڑی رکاوٹ نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے قائد شریف برادران کو منطقی انجام تک پہنچانے کے بعد زرداریوں سے نمٹنے کا اعلان پہلے ہی کرچکے ہیں۔اس لئے قومی سطح پر دوسری اور تیسری بڑی سیاسی قوت شمار کی جانے والی ان پارٹیوں کی جوڑی بنتی نظر نہیں آرہی۔کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے حریف بنتے ہیں۔ اور آج کے حلیف کل خم ٹھونک کر مد مقابل آجائیں تو لوگ انگشت بدندان رہ جاتے ہیں اور سیاست دان کہتے ہیں کہ یہی تو جمہوریت کا اصل حسن ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے صلاح مشورے بھی ہورہے ہیں۔اور اس سیاسی جوڑ توڑ کو ملک و قوم کی ضرورت اور جمہوری کی بقاء سے تعبیر کیا جاتا ہے۔انتخابی سال کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے منتخب نمائندے طویل روپوشی کے بعد منظر عام پر آجاتے ہیں۔ لوگوں کی غمی خوشی میں شرکت کرتے ہیں ۔ نماز جنازہ میں اگلی صف پر یہی سیاسی لیڈر اب نظر آنے لگے ہیں۔ سال دوسال پرانی فوتگیوں پر بھی فاتحے پڑھے جاتے ہیں۔ اور جہاں موقع ملے تو اپنی جیب سے دو چار ہزار روپے خرچ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ لیکن لوگ بھی بڑے چالاک ہوگئے ہیں۔وہ سیاست دانوں سے حتی الوسع مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ موصوف کونسا اپنی جیب سے خرچ کر رہا ہے۔ یہ عوام کا مال ہی ہے جسے وہ پانچ سال تک جمع کرتا رہا۔ ہمارے سیاست دان سیدھے سادے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عوام کے نجات دہندہ ہیں۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عوام کسی سیاسی پارٹی کی طرف آس لگائے بیٹھے ہیں نہ کسی سیاسی ومذہبی اتحاد سے انہیں بھلے کی امید ہے۔ کیونکہ سیاسی اکھاڑے میں موجود ہر جماعت کو حکومت، سیاست اور خدمت کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ کوئی بھی عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکا۔جو لوگ پیسے لے کر سیاسی جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ وہ دراصل سیاست دانوں سے انتقام لے رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے بڑے جلسوں کو انتخابات میں کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ہمارے لیڈروں کو اب یقین کرلینا چاہئے کہ ان کے رائے دہندگان اب سیاسی طور پر کافی عاقل بالغ ہوچکے ہیں۔ انہیں شیشے میں اتار کر بوتل میں بند کرنا اب آسان نہیں رہا۔

  • error: Content is protected !!