Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چیف جسٹس کی شٹ اپ کال………. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے عدالتی فیصلوں کا تمسخر اڑانے ، ججوں کو گالیاں دینے اور عدلیہ کی بار بار توہین کرنے والوں کو بالآخر شٹ اپ کال دیدی ہے۔ پاکستان بار کونسل سے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ کاکام آئین کی تشریح کرنا، قانون کے مطابق فیصلے دینا اور ریاستی رٹ کی عمل داری قائم کرنا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عدلیہ سے اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کادور گذر گیا ۔ عدلیہ کو دباو میں لانے والا ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے حلفیہ اعلان کیا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ شرمندگی اٹھانے کے لئے نہیں چھوڑ سکتا۔ کہ ان کے باپ نے جمہوریت کا تحفظ نہیں کیا۔ اگر جمہوریت خدانخواستہ خطرے میں پڑ گئی تو نہ آئین رہے گا نہ ہی عوامی حقوق کا تحفظ ہوسکے گا۔ جسٹس ثاقب نثار نے اعتراف کیا کہ سیاسی کیسزکی بھر مار کے باعث عام مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔عدلیہ کی لانڈری کو سیاسی گند صاف کرنے سے فرصت ملے تو عوام کی باری آئے گی۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ آپ کے گاوں کا بابارحمت ہے۔ لوگ اس کے پاس انصاف مانگنے آتے ہیں۔ وہ اپنے تجربے، عقل و شعور اور قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ کرے۔ فریقین اسے قبول کرتے ہیں۔ جس کے خلاف فیصلہ آجائے وہ بابارحمت کو گالیاں نہیں دیتا۔ بلکہ یہ سوچ کر فیصلہ قبول کرتا ہے کہ شاید اس کی بات میں وزن نہ ہو۔ یا وہ اپنی بات بابا رحمت کا سمجھا نہ سکا ہو۔چیف جسٹس کی نہایت جذباتی اور کھری باتوں سے عوام کی نظروں میں عدلیہ کے احترام میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حقیقت سول جج سے لے کر ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کے ججز سے لے کر چیف جسٹس تک سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں عدلیہ سے بھی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ قانون مصلحت کے تحت دیئے گئے عدالتی فیصلے عدلیہ کے ماتھے پر بدنما داغ بن چکے ہیں۔سیاسی دباو کے تحت بھی بعض غلط فیصلے ہوچکے ہیں۔ تفتیشی نظام کی کمزوریوں اور سقم کے باعث بھی حق دار کو حق نہ ملنے اور مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچانے کی شکایات بھی عام ہیں۔ لیکن گذشتہ ایک عشرے کے دوران عدلیہ نے اپنی تطہیر خودکی ہے۔ اس دوران عدالتوں نے آئین، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔جن کے کافی دور رس اثرات معاشرے پر مرتب ہورہے ہیں۔لیکن ہمارے سیاست دان دانستہ یا نادانستہ طور پر عدالتوں کو سیاسی اکھاڑے میں گھسیٹنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا عوامی جلسوں، پریس کانفرنسوں، نجی محفلوں اور ٹاک شوز میں عدالتی فیصلوں کا تمسخر اڑانے اور ججوں کو گالیاں دینے سے بھی احتراز نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے عوام میں عدلیہ کے کردارسے متعلق شکوک و شبہات پیدا ہوچکے ہیں۔ یہاں کسی بااثر آدمی کو بڑے سے بڑے جرم پر بھی سزا نہیں ہوتی۔ جبکہ غریب آدمی اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لئے ایک روٹی چوری کرے تو اسے نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔انصاف کے حصول کا نظام ایسا پیچیدہ ، مشکل اور مہنگا ہے کہ کوئی غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا آدمی عدالت جاکر انصاف پانے کا تصور بھی نہیں کرتا۔ وکلاء کی بھاری فیسیں، تھانہ کچہریوں کے چکر اور کئی عشروں تک فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ اپنی شکایات لے کر عدالت جانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ دیوانی مقدمات کے فیصلوں کے لئے دو تین نسلوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے طرز تخاطب اور لہجے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ عدلیہ کے تقدس کی بحالی کے لئے پر عزم ہیں۔ آئین کی بالادستی ، قانون کی عمل داری اور ریاستی رٹ کے نفاذ کے لئے انہیں فوری طور پر ہنگامی نوعیت کے چند اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ سیاست دانوں ، سرکاری ملازمین، ججوں اور جرنیلوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات کے لئے الگ عدالتیں قائم کرنے ہوں گے۔ تاکہ عدالتوں میں زیر التواء لاکھوں مقدمات کی سماعت اور عام لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا عمل بھی جاری رہے۔ پولیس تفتیش کا نظام بھی شفاف بنانے کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کوئی عادی مجرم قانونی سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون کی گرفت سے آزاد نہ ہوسکیں۔ اور انہیں قرار واقعی سزا ملے۔نظام میں بگاڑ پیدا کرنے والے چند بڑے مگرمچھوں کو اگر عبرت ناک سزائیں دی جائیں تو عدلیہ کا احترام بھی بڑھے گا۔ قانون کی دھاگ بھی قائم ہوگی اور عوام کو انصاف بھی ملے گا۔


شیئر کریں: