Chitral Times

Apr 23, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دشتِ تنہائی اور میر سُبحان الدین مرحوم………..میرسیما آمان

    January 10, 2019 at 10:15 pm

    میر سُبحان الدین جو کہ 1937کو چترال کے علاقے گولدور میں پیدا ہوئے۔ہائی سٹیٹ سکول چترال سے 1952 میں میٹرک کے پہلے بیج میں ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ تعلیمی راہ میں کامیابی کا یہ پہلا قدم انکی مسلسل کا میابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

    1957کو اسلامیہ کالج پشاور سے گریجوشن کی ڈگری لی۔1960کو لاء کالج پشاور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد لٹکوہ میں تحصیلدار مُقرر ہوئے۔1964کو سیکرٹری جوڈیشل کونسل چترال کے ساتھ ایڈیشنل چارج پر چیف سیکرٹری مُقرر ہوئے۔1965سے لیکر 1970تک سٹیٹ کے ڈپٹی کمشنر کی حثیت سے کام کرتے رہے۔1970 کو سیکرٹری آف پلاننگ اینڈ ڈیو یلپمنٹ کی حیثیت کا عہدہ سنبھالا۔

    1973 کو مجسٹریٹ فرسٹ کلاس پشاور مُقرر ہوئے۔1974 کو اسسٹنٹ کمشنر چترال تعینات ہوئے۔وہ AC پشاور اور AC گلگت بھی رہے۔1980کو اپنی سیماب طبیت کے بدولت مُلازمت سے ریزائن دے کر و کالت شروع کی۔سننے میں آتا ہے کہ وکالت شروع کرنے کے پہلے ہی ماہ اُنکے پاس کیسزز کی بھرمار ہوگئی۔لوگ انکی قابلیت اور اعلیٰ صلاحیتوں کے قائل ہوگئے۔اگر وہ مستقل مزاجی سے اس پیشے سے منسلک رہتے تو یقیناًاسوقت وہ نہ صرف چترال کے صف اول کے قانون دان ہوتے بلکہ چترالی عوام بالخصوص وکلاء کے لئے ایک رول ماڈل ہوتے۔بحرحال ۱۹۸۵ تک وہ بحثیت وکیل خدمات انجام دیتے رہے۔1985 کو وہ افغان ریفیوجز کے کمشنر مُقرر ہوئے۔1989 سے 1993تک UNHCRکے ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ لیگل ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔وہ اپنے وقت کے بہترین پولو پلیئر بھی تھے۔
    1993کے بعد انھوں نے مُلازمت چھوڑ کر خانہ نشینی کی ذندگی اپنائی۔کتب بینی سے جنون کی حد تک دلچسپی کے باعث خود بھی ایک کتاب تحریر کی ۔جسکا نام ’’دریافت ‘‘‘ تجویز کیا۔اس کتاب میں نظم غزلیں اور رُباعایات کے علاوہ عمر خیام کے چند مشہور رُباعیات کا اذاد ترجمہ بھی شامل ہیں۔کتب بینی سے اُنکے عشق کا اند اذہ اس بات سے بھی لگاسکتے ہیں کہ ان آخری دنوں میں بھی اُنکا ’’مُوبائل بیگ ‘‘ کتابوں سے خالی نہ تھا، چونکہ کتب بینی کا مرض مجھے بھی لاحق ہے تو وہ جو بھی کتاب پڑھتے مُطالعے کے لئے مجھے بھی دیا کرتے۔ابھی ایک دو ماہ پہلے حامد میر کی کتاب تیر کمان اور گفتنی و بہ گفتنی اُنکے زیر ِ مُطالعے تھی،۔

    اُنکے وفات کے چند دن بعد جب انکے کمرے کا جائزہ لیا تو اُنکے سر ہانے تلے رکھی ہوئی چند اسلامی کتابیں جن میں ’’ آئینہ اور قبر کی زندگی ‘‘‘ جیسی کتابیں دیکھ کر میرے لئے اپنے آنسو روکنا مُحال ہو گیا ،یعنی آخری دنوں میں یہی کتابیں انکے زیر مُطالعہ رہی ہیں۔۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔مگر ذاتی طور پر میرے لئے اُنکی ذات میں انسپائریشن کی جو وجوہات تھیں۔میں یہاں اُنکا تذکرہ ضرور چاہتی ہوں۔

    پہلی بات جو اُن کی شخصیت کا سب سے اہم حصہ تھی وہ یہ کہ انتہائی صاف گو شخصیت کے مالک تھے۔جو بھی بات ہوتی جس سے بھی ہوتی وہ دو ٹوک کہہ دیتے۔ذرا بھی لگی لپٹی ان میں نہیں تھی۔منافقت جیسی بیماری سے پاک تھے،،

    دوسری بات انتہائی قوتِ برداشت کے مالک تھے جس سے ہم آج کی نسل کوسوں دور ہیں۔تیسری بات جو بہت اہم خوبی ہے اور بہت ہی کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔لوگ اُن کے بارے میں کیابات کرتے ہیں یا اُن کے کس قدم سے کیا رائے قائم ہو سکتی ہے وہ اِس ’’فِکر ‘‘ سے مکمل آزاد تھے۔۔میرے لئے یہ اُنکی بہت بڑی خوبی تھی ۔میں جب کبھی اِنکو دیکھتی مجھے ممتاذ مفتی کی کہی ہوئی یہ بات یادآتی کہ ’’ اپنے اُوپر ایک خدا مسلط کر لو باقی سب اَسان ہو جائیگا ‘‘‘ یوں لگتا تھا جیسے اُنھوں نے بھی خود پر ’’ایک خُدا ‘‘ کو مُسلط کرکے باقی خُداوں سے خود کو اَزاد کرکے ذندگی گُزار رہے تھے۔۔یہ میرے لئے اُن کی ذات کی سب سے اہم خوبی ہے کیونکہ میں نے اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کا ہجوم دیکھا ہے جو ’’ ایک خُدا ‘ ‘ کو بھول کر باقی کے خداوں کے اگے شرمندہ رہتے ہیں۔۔

    اسکے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحب حثیت ہونے کے باوجود اُنھوں نے Low Profile میں رہنے کو ترجیح دی حالا نکہ اگر وہ چاہتے تو اپنے نام اور حثیت کو استعمال میں لاتے ہوئے ایک بالکل الگ طرز کی ذندگی گُزارسکتے تھے مگر ملنگ فطرت کے انسان تھے سو نمود نمائش اور ستائشی زندگی سے دُور ہی رہے۔ ۔لیکن بحثیت ایک بیٹی میں یہ سمجھتی ہوں کہ اگر وہ اعلی تعلیم یافتہ یا اپنے وقت کے بہترین آفیسر وکیل یا پولو پلیئر نہ بھی ہوتے تو بھی وہ ہمارے لئے نہایت اہم تھے۔میرے والد اور انکی عمروں میں مُحض ڈیرھ دو سال کا فرق تھا،آپس میں سینکڑوں نظریاتی اختلافات ہونے کے باوجود دونوں آپس میں بھائی کم اور دوست ذیادہ تھے۔

    گزشتہ ۸سالوں سے وہ مستقل چترال میں سکونت پذیر تھے۔ہر صبح اور عصر کے اوقات دونوں بھایؤں کے ’’گپ شپ ‘‘ کا ٹائم ہوتا۔سیاست سے لیکر گھر یلوں مسائل تک ہر ’’دُکھ‘‘ آپس میں بانٹتے۔یہ منظر اتنا دلفریب ہوتا کہ بسا اوقات انکی گفتگو سن کر آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ ایک دن بھی اُنکے آنے میں تاخیر ہوتی یا ناغہ ہوتا تو والد سمیت ہم سب بے چین ہوجاتے۔گزشتہ ۸ سالوں سے ہمیں اس ’’نشست ‘‘ کی اِس قدر عادت پڑ گئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔۱۸ دسمبر کو ہمیشہ کی طرح ہم سے ملنے آئے۔

    اپنے پروگرام کے متعلق بتایا،۲۵ کو واپس آنے کا وعدہ کیا۔چونکہ جنوری کے مہینے میں عُمرے پہ جانے کا پکا ارادہ کرچکے تھے اور اس سفر کے لئے بہت پُرجوش تھے ۔سو پاسپورٹ آفس گئے کاغذات جمع کرکے پاسپورٹ کا ٹوکن حاصل کیا سب سے ملے اور پشاور روانہ ہوگئے۔ ابھی ایک ہی ہفتہ گُزرا تھا وہ نہ آئے موت کی خبر آگئی اُنکی آخری مُلاقات الوداعی مُلاقات بن گئی۔ عزیز الرحمٰن بیغیش نے کیا خوب فر مایا ہے

    کہ ’’ زند گیو مُقا بلہ ای مہ بِرک ،مہ حقو بو اَسانی اَروُ۔۔

    ایک بات جو آجکل مجھے شدت سے یادآرہی ہے،۲سال پہلے اُنھوں نے مجھے ’’دشت تنہائی ‘‘ کے عنوان پر لکھنے کو کہاتھا تو مجھے یہ سوچ کر لکھنے میں ہچکچاہٹ ہوئی کہ وہ خود جس لیول کے ’’تنہائی ‘‘ کا شکار تھے۔میری اس عنوان پر لکھائی اُس لیول سے بہت نیچے ہوتا،لہذا چند دن بعد میں نے نہ لکھنے کی یہی اصل وجہہ اُنھیں بتائی تو وہ کافی دیر تک مُسکراتے رہے پھر گویا ہوئے کہ ’’ٹھیک ہے فلحال مت لکھو لیکن اَئندہ وقتوں میں کبھی نہ کبھی اِس عنوان پر ضرور لکھنا ‘‘

    تنہائی کے جس دشت کے وہ مُسافر تھے ۔اس سے باہر نکلنے کے لئے وہ کبھی سکول کھولنے کا پروگرام بناتے کبھی سوشل گروپ تشکیل دینے پر غور کرتے تو کبھی علمی میگزین کی اشاعت کے منصوبے بناتے یہاں تک کہ میگزین کا نام یعنی ’’ما ہنامہ عُقاب یا شاہین ‘‘ کے نام تک تجویز بھی کر چکے تھے۔لیکن بدقسمتی سے جیسا کہ ہمارے مُعاشرے کو عادت سی پڑ گئی ہے بوڑھوں کی باتوں کو اِنکے خواہشات کو دیوانے کا خواب سمجھنے کی تو ہمارے پیارے باباجی بھی اپنی معصوم خواہشات دل میں لئے اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے۔

    ایک اور بڑی بات جو اُن میں موجود تھی وہ یہ کہ وہ موجودہ دور کے حضرات میں سے نہ تھے۔زندگی میں کسی بھی شخصیت کسی بھی ذات کی غلامی نہیں کی ہمیشہ ہر فیصلہ اپنی ذہانت اور شعور کے بل بوتے پر کیا۔بالخصوص اولاد کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں دوسروں کے مشوروں پر چلنے کے بجائے ہر فیصلہ اپنی ذہانت سے کیا۔آج اُنکی تمام اولاد مُلکی و غیر ملکی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر صرف اُنھی کی شفقت و تربیت کے بدولت فائز ہیں۔اُنکا اپنا یہ شعر اُنکی ساری شفقت کو بیان کرتا ہے۔
    ’’اور میری کوئی تمنا بس یہ معصوم سی خواہش تھی۔خوشحال رہو تم سب یہ مظلوم کی خواہش تھی۔۔ ‘‘

    اﷲتعالیٰ سے دُعا ہے کہ اُنھیں جنت الفردوس میں بہت اعلیٰ مُقام عطافرمائیں۔اور ہم تمام پسماندگان کو صبر ِ جمیل عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اُنکی طرح ’’ زمینی خُداوں ‘‘ کی فکر سے اَ ذاد کرکے ’’ایک خُدا ‘‘ کے اَگے جو اب دہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔۔!!

  • error: Content is protected !!