Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سرُود……….. ڈپٹی کمشنر کی توجہ کے لۓ …….. شہزادی کوثر

شیئر کریں:

صبح گھر سے نکلتے وقت کوئی خوبصورت منظر یا قابلِ دید نظارہ دیکھنے کو ملے توطبیعت بشاش اور تروتازہ رہتی ہے۔ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح کام میں جت کر بھی ناگواری کا احساس نہیں ہوتا ، ذہن اچھے خیالات کا تانا بانا بُنتا رہتا ہے اور چہرے پر خوشگوار تاثرات کی پُھوار اڑتی محسوس ہوتی ہے۔انسان کی جبلت کا تقاضا اور اسکی فطرت کی طلب یہی ہوتی ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بہترین ماحول میں اچھے تعلقات قائم کرے کہ ذہنی وجسمانی آسودگی کی سب سے بڑی وجہ یہی ناتا اور روابط ہوتے ہیں جو زندگی کی گاڑی کو صحیح پٹڑی پہ ڈال دیتے ہیں۔ پہلے ہماری صبحیں شفاف اور شامیں نکھری ہوا کرتی تھیں ،آج معاملہ اس کے برعکس ہے۔گھر سے باہر قدم رکھتے ہی جو چیز ہمارا استقبال کرتی ہے وہ ہے گندگی، کچرا اور ادھر اُدھر اڑنے والے گھٹیا چپس اور دو نمبر آئس کریم کے ریپرز، جس کی وجہ سے نالیاں بند ہو کر پانی تعفن ذدہ کائی میں بدل جاتا ہے۔ مارچ کے مہینے سے ہی گل بہار،نو بہار،سم سم اور طرح طرح کے ناموں سے بکنے والا زہرمعصوم بچوں کے معدوں کو کھانے کی اشتہا سے بیگانا کر رہا ہے۔ عید کے دن بھی بچوں کو ملنے والی عیدی کے لالچ میں بہت سے مادہ پرست دکان دار دنیا داری نبھانے کا پروگرام ملتوی کر کے کاروبار چمکانے میں لگ گئے۔کیونکہ یہ اپنی گھٹیا آئسکریم بیچنے کا سنہری موقع تھا۔ ہر بچے کی جیب میں موجود کرارے نوٹ دیکھ کر ان کی رال ٹپکنے لگی۔گلی گلی پھیرے لیتے آئسکریم فروش بھی سرگرم ہو گئے اور اپنی منحوس موسیقی لگا کر ہر طرف سے برآمد ہونے لگے۔ دیر اور تمرگرہ کی گندی گلیوں میں بننے والے اس من وسلوا نے نہ صرف بچوں بلکہ ہمارے ماحول کا بھی بیڑہ غرق کیا ہوا ہے۔ ہر طرف بکھرے ہوئے پلاسٹک اور کاغذی کپ ہماری جہالت اور بےضمیری کا تماشا دکھا رہے ہیں۔ کوئی پرسانِ حال نہیں کہ کیا اور کیوں ہو رہا ہے۔ ہر کوئی غیر معیاری اشیائے خورد ونوش کا رونا روتا ہے ،جب کچھ کرنے کی باری آئے تو پیچھے رہ کر صرف باتیں کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان کے پاس این او سی نام کی کوئی شے ہے بھی کہ نہیں؟ کوئی تو ہوگا جس نے ایسی غیر معیاری اشیا کھلے عام فروخت کرنے کا اجازت نامہ انہیں تھمایا ہو گا۔ لگتا ہے کہ ہماری فوڈ اتھارٹی ان سے بے خبر ہے یا انہیں سانپ سونگھ گیا ہے۔ کبھی کھبار انتظامی مشینری سوشل میڈیا میں پوسٹ کرنے کے لیےعلامتی چھاپا مار کر مختلف زاویوں سے تصویریں اتروا کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔نہ کوئی دکان سیل ہوتی ہے نہ کسی کو جرمانہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ کاروبار اسی طرح آگے بڑھتا ہے۔اس طرح فرض سے سبکدوش ہونا کہاں کا انصاف ہے؟ ہماری قوتِ مزاحمت جواب دے گئی ہے یا انسانیت کا نصاب اتنا گر چکا ہے کہ غلط بات کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ ہم میں نہیں۔ جو خراب ہے اسے خراب مانیں۔۔اس کے خلاف آواز اٹھائیں عملی اقدام کریں تب بات بنے گی۔ غیر صحت بخش اشیا کے فروخت پر کیا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ ۔۔اگر ہوتا ہے تو عمل درآمد کرنے میں تاخیر کیوں؟۔۔ مستقبل کے معمار بیمار بنتے جا رہے ہیں،ہسپتالوں میں بچوں کا وارڈ بھرا رہتا ہے پیٹ درد اور معدے کی خرابی عام شکایت ہے۔ بچوں کے گالوں کو گلاب اور پھولوں سے تشبیہ دی جاتی تھی اب ان کے چہرے ہلدی ذدہ یا خاک سے اٹے ہوئے بے رونق اور پھیکے ہو گئے ہیں ۔باریک گردن ،پتلی پتلی ٹانگیں اور بھدا پیٹ، اکیسویں صدی کے بچوں کا خاکہ کسی کارٹون کرکٹر کی طرح نظر آنے لگا ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ۔۔۔۔۔ انتظامیہ کو حرکت میں آکرایسے لوگوں کے خلاف عملی قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جوہمارے مستقبل کو بیماریوں کی دلدل میں گرانے لگے ہیں۔اقتدار کی کرسی صرف مراعات لوٹنے اور زندگی سے لطف اندوزہونے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک بڑا امتحان اور کڑی آزمائش ہے جس میں سرخرو وہی ہو سکتا ہے جواپنے فرض سے غافل نہ ہو۔۔اگر ڈپٹی کمشنر صاحب کی نظرِالتفات اس مسلئے پربھی پڑ جائے تو یہ گھمبیر صورت اختیار کرنے سے پہلے حل ہوجائے گا۔
ice cream factory sealed in Chitral23


شیئر کریں: