Chitral Times

Nov 18, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • زمین کی خوشبو والی اذانیں اور ایک صاف ستھری بقرعید….تحریر: فرنود عالم

    August 26, 2019 at 7:51 pm

    اقبال بھائی نے دھڑ دھڑ دروازہ بجایا۔ آنکھ کھلی تو آواز آئی، اٹھو! ٹائم بہت کم رہ گیا ہے۔ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ میں ہوں کہاں اور کس چیز میں ٹائم کم رہ گیا ہے۔ منہ اندھیرے پاؤں خواب گاہ سے نیچے اتارے تو احساس ہوا کہ میں ہنزہ بالا میں پسو نامی ایک بستی میں ہوں۔ کھڑکی کھولی تو مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھا، جس کے پہلو میں ایستادہ پسو کونز گوجال کے پانیوں میں اپنے پاوں دھورہے تھے۔ سامنے سڑک پر شمالیوں کو اجلے پہناووں میں ملبوس دیکھ کر سمجھ آیا کہ دراصل عید کی نماز میں ٹائم کم رہ گیا ہے۔

    عید گاہ کا روایتی ڈریس کوڈ شلوار قمیص ہے ۔استری تو میسر تھی مگر بجلی ندارد۔ تو کیا مجھے کل والے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں جانا ہوگا؟ عید گاہ میں عجیب ہی طرح کا ایک نمونہ نہیں لگوں گا؟ اچانک خیال آیا، میں تو اسماعیلیوں کی عیدگاہ میں جارہا ہوں ۔ یہ لوگ تو اپنے خدا کے ساتھ یوں بھی بے تکلف ہیں۔

    احتیاطا میں نے وقار ملک سے پوچھا، ٹراؤزر ٹی شرٹ میں آجاؤں؟ ترنت بولے، چڈی بنیان میں بھی آجاؤ تو چلے گا۔ ہم خراماں خراماں عید گاہ کی طرف چل دیے۔ آج تمام جماعت خانے بند تھے اوراطراف واکناف کے مکینوں کو نمازِ عید کے لیے عطا آباد جھیل کے کنارے گلمِت کے ایک میدان میں پہنچنا تھا۔ ہم میدان میں پہنچے توعزیز میاں قوال کی قوالی “وہ نغمہِ قلندری، لگا کے نعرہِ حیدری” مناسب درجے کی آواز میں گونج رہی تھی۔ جوتوں سے لے کر منبرتک کی دیکھ بھال کے لیے نوجوان رضاکار اجلی وردیوں میں موجود تھے۔ قطار اندر قطار موجود جوتیوں میں سے کوئی ایک جوتا بھی دوسرے جوتے کے کندھے پر سوار نہیں ہوسکا۔ کسی نمازی کی دُم پر کسی دوسرے نمازی کا پاوں نہیں آیا۔ کسی بزرگ کے کندھے کو کسی جوان نے پھلانگنے کی کوشش نہیں کی۔

    ہنزہ کی اِس نمائندہ عید گاہ میں خطبے کے لیے واعظ الکریمی نامی ایک امام کو غذر سے بھیجا گیا تھا۔ ہنزہ اور غذر میں ماسکو اور نیویارک جیسا امتزاج ہے۔ ہنزہ کے پہاڑوں میں سے ہنر اگتا ہے اور غذر کے کھیتوں میں انقلاب لہلہاتا ہے۔ ہنزہ کی وادیوں میں بہنے والی لہریں بے فکری سے ایک دوسرے کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتی ہوئی جاتی ہیں۔ غذر کے پانیوں میں ایک طرح کا ٹھہراو ہے جو دن میں فکر مند نظرآتا ہے اور شام کو چاند کے روبرٹھہر ٹھہر کر جانے کیا کچھ سوچتا رہتا ہے۔

    ہنزہ کو لگتا ہے غذر بے راہ رو ہے اور ناخواندہ ہے۔ غذر کا احساس یہ ہے کہ بھرا پیٹ تو ظاہر ہےفارسی ہی بولتا ہے۔ غذر ناخواندہ ہوسکتا ہے مگر غذر بے پرواہ نہیں ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ غذر میں چودہ اگست کو بھی کالعدم تنظیموں کے جھنڈے سبز ہلالی پرچم سے آگے چل رہے ہوتے ہیں، مگر اس خطے کے پختہ سماجی شعور میں اتنی گنجائش ضرور موجودہے کہ دو مختلف نظریات ایک ہی چشمے سے ہنستے کھیلتے پانی بھرلیتے ہیں۔اسی علاقے کے سنی نوجوان تھے جو ہیز ہائنس پرنس کریم آغاخان کی آمد پر دیدار گاہیں سجانے میں جت گئے تھے۔اسماعیلی دیدار کو گئے تو پیچھے انہوں نے رات بھرگھروں کی رکھوالی کی۔ خود اسماعیلی جوانوں کا سیاسی شعوریہاں اس قدر زندہ ہے کہ ان کے امامِ زمانہ کے کسی فرمان میں بھی استحصال کا شائبہ نکل آئے تواسے بھی تنقید کے بھاڑ میں جھونک دیتے ہیں۔ میرے اس کالم کو بھی یہ ایک بار شک کی نگاہ سے ضرور دیکھیں گے کہ سیاسی کارکن اپنی طبع میں حساس ہوتا ہے۔ سوزِ جگر اوربے باکی ہی توغذرکا حسن ہے۔ اقبال نے کہا تھا

    دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
    پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے

    واعظ الکریمی خوش گفتار تو تھے ہی، خوش گوار حیرت ہوئی کہ خوش آواز بھی خوب تھے۔ ایک طرف طاعت و زہد کی طرف طبعیت نہ جاتی ہو اوپر سے امام بھی خوش گلو نہ ہو تو اپنے ہاتھ کی لکیروں پر سے اعتبار ہی اٹھ جاتا ہے۔ ہم ایسے سادہ طبع لوگ گالیاں بھی بخوشی سن لیتے ہیں اگر ادائیگی اور روانی کے ساتھ ساتھ نفاست کا بھی کچھ پاس لحاظ رکھا گیا ہو۔ لفظ اگر پراگندہ ہوں تو بخدا اپنی تعریف بھی ہمیں گوارا نہیں ہے۔ بات چل پڑی ہے تو ایک بات آپ سے برسبیلِ تذکرہ شئیرکرتا جاوں۔ اذان مجھے صرف اور صرف بزرگ لہجوں میں پسند ہے۔ سُریلی اذانیں سن کر طبعیت کچھ سہم سی جاتی ہے۔

    گاہکوچ میں دریائے غذر کے کنارے ہم پنیال کے انگور کی بلائیں لے رہے تھے۔ برادرِ عزیز نے کوہاٹ کی جڑی بوٹیوں کو ہتھیلی پر مسلا اور شمع جلا کر میرے سامنے رکھ دی۔ پے درپے جلتی شمع کو تازہ کیا تو چودہ طبق روشن ہوگئے اور بات لاہوت ولامکان سے آگے کسی وصل کدے میں جا پہنچی۔ شام گہری ہوچکی تھی، موسم اداس تھا، دریا کی آواز کا سحر بڑھتا رہا تھا اور پرندے اپنے آشیانوں میں واپس اتررہے تھے۔ دور سے بزرگ لہجے میں اللہ اکبر کی صدا آئی اور یہاں علی احمد جان کو کوئی بات آ گئی۔ میں نے علی احمد جان کا ہاتھ پکڑلیا، وہ خاموش ہوئے اور میں نے پراسرار فضاوں میں اٹھتی بیٹھتی اس عمر رسیدہ آواز میں خود کو اڑنے دیا۔

    سحر طاری تھا کہ گاہکوچ کی ایک اور سمت سے سریلے حجازی لہجے میں اذان کی آواز آئی اور بھک سے سارا سرور کافور ہوگیا۔ سُریلے حجازی لہجوں والی اذانوں سے اس لیے بھی خوف آتا ہے کہ اس میں نفرت اور تفرقے کے ہزار پہلو پنہاں ہوتے ہیں۔ جن علاقوں میں آپ کو ٹھیک تلفظ اور ادائیگی والی سریلی اذان سنائی دے تو پھونک کر قدم رکھیے کہ یہاں فرقہ واریت کا نصاب پہنچ چکا ہے۔ جن علاقوں کی میں اذانوں میں زمین کی بُو رچی ہوئی ہو تو اطمینان رکھیے کہ اس علاقے میں نفرت کا بیانیہ ابھی نہیں پہنچا۔ آپ میری اس بات کو مسترد کر سکتے ہیں کیونکہ بھائی کی بات پتھر پہ لکیر نہیں ہے۔ مگر میری بات کا آپ تجربہ ضرور کرئیے گا، کیونکہ بھائی لکیر کا فقیر بھی تو نہیں ہے!

    واعظ الکریمی نے خطبے کے دوران کف اڑائے اور نہ حلق کی گراریاں توڑیں۔ صحت اور سائنس سے لے کر تعلیم تک کون سا موضوع تھا جس کا انہوں نے احاطہ نہیں کیا۔ موقعے کی مناسبت سے گندگی اور بسیار خوری کی طنز و مزاح کے اسلوب میں مذمت کی۔ ان کے خطبے میں قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامہ اور ممتاز مفتی کے علی پور کا ایلی کا ذکر بھی ملا۔ اپنی گفتگو کے لیے انہوں نے تین مذہبی حوالوں کو بنیاد بنایا۔ ان حوالہ جات میں صرف ایک حوالہ اُن کے اپنے مسلک کے امام کا تھا۔ باقی دو حوالے امام غزالی اور مولانا رحمت سبحانی کے تھے جو سنی علما ہیں۔ نوجوانوں کو انہوں نے تاکید کی کہ وہ مولانا رحمت سبحانی کی کتاب “مخزن الاخلاق” پڑھیں۔ خدا ایسے لٹریچر سے تمام مسلمانوں کو بچائے، مگر دوسرے مسلک کے عالم کی کتاب کا حوالہ دینا اور پھر مطالعے کے لیے اسے تجویز کرنا ظرف کی بات ہے۔

    خطبہ ابھی جاری تھا کہ اطراف کے گھروں کے دروازے کھلے اور خواتین نے پتیلے پلیٹیں اور چینک پیالے جوانوں کے حوالے کرنا شروع کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے خطیب کے عقب میں میدان کی سیڑھیوں پر دسترخوان کا ڈھیر لگ گیا۔ خطبہ جونہی ختم ہوا ایک طرف شرکا ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے دوسری طرف جوانوں نے پلک جھپکتے میں پورے میدان میں دسترخوان سجادیے۔ پس منظر میں ایک عربی نغمہ چلا دیا گیا تھا جس نے خوش گواری کے کچھ اور رنگ ماحول میں بکھیردئیے۔ لوگ معانقے کر رہے تھے، حال احوال کررہے تھے، ہنس رہے تھے اور خوش گپیاں کررہے تھے۔ جوان دسترخوانوں پر روایتی پکوانوں کے ڈھیر لگارہے تھے، بزرگ ناشتے کے لیے سب کو بلاوے دے رہے تھے۔ شیرینیاں بٹ رہی تھیں اور دودھ روٹی کا تبرک سب کو مل رہا تھا۔ ہنزہ والوں کے لیے یہ معمول کا قصہ ہے مگر مجھ ایسے ندیدوں کے لیے عید کو ثقافتی رنگوں میں اس قدر رنگا ہوا دیکھنا پہلا خوش گوار تجربہ تھا۔

    نماز عید سے قبل کچھ لوگ قربانی کے جانور ہنکا کر عید گاہ کی عقب میں کہیں لے جارہے تھے۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ لوگ یہاں اپنے جانور کمیونٹی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ کون سا جانور کس کا ہے اور کس کا جانور بڑا یا چھوٹا ہے اور کس کا جانور سرے سے ہے ہی نہیں، اس سوال کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ایک میدان میں قربانی ہوتی ہے اور گوشت کی ایک ایک بوٹی سب میں بانٹ دی جاتی ہے۔ گوشت کے لیے غربت کو کوالیفیکیشن نہیں بنایا جاتا۔ امیر ہوں یا غریب، قربانی میں حصہ لیا یا نہیں لیا گوشت ہر ایک کے گھر پہنچے گا۔

    نماز عید کے بعد ڈاکٹر ارشد عزیز نے مجھے ایک نظر قربان گاہ دیکھنے کا موقع دیا۔ جتنی دیر ہم ناشتہ کر رہے تھے اتنی دیر میں آدھے سے زیادہ جانور قربان کیے جا چکے تھے۔ گوشت کے حصے ایک قطار میں ترتیب سے رکھے جا رہے تھے۔ نوجوانوں کا ایک اور تازہ دم لشکر گوشت کے ان حصوں کو بانٹنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ منتظم نے بتایا، آپ دو گھنٹے بعد دوبارہ یہاں آئیں گے توآلائشوں اور خون کا نام ونشان اس طرح مٹا ہوا اپائیں گے کہ یقین کرنا مشکل ہوجائے گا کہ یہاں قربانی بھی ہوئی ہے۔ میں اس مقام پر دوبارہ نہیں آسکا مگر گلمت کے اطراف میں یہ دیکھ کر حیرت زدہ تھا کہ ایک ایک گھر گھر میں گوشت پہنچ چکا ہے اور فضا میں جلے ہوئے خون اورادھڑی ہوئی آلائشوں کی بو تک نہیں ہے؟

    یہ سب دیکھ کر مجھے سمجھ آنے لگا کہ یہاں کے لوگوں سے متعلق کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ قربانی نہیں کرتے۔ ظاہر ہے جب قدم قدم پر گھاس پھونس اور چارہ و گوبر نہیں ملے گا، جگہ جگہ آلائشیں نہیں پڑی ہوں گی، سر عام چھریاں نہیں لہرائی جائیں گی، گلی گلی خون نہیں تیرے گی، ماحول میں وحشت نہیں ہو گی، رہنے والوں کو اذیت نہیں ہو گی اور بیماریاں پیدا نہیں ہوں گیں تو کیسے پتہ چلے گا کہ کسی نے کوئی مقدس فریضہ بھی ادا کیا ہے!

    عید گزرے جب زمانے ہوگئے تو میں دور کہیں ملکی سرحد پر کھڑا تھا۔ اس ویرانے میں بھی ٹی وی کی آواز جانے کہاں سے آ گئی۔ خاتون خبر دے رہی تھیں، پانچ دن گزرجانے کے باوجود کراچی میں جانوروں کی آلائشیں ٹھکانے نہیں لگائی جا سکیں۔ اس بات کا آسان سا تجزیہ تو یہ ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی۔ حالانکہ اس سے کہیں زیادہ آسان یہ سوال ہے کہ کیا گلی گلی خون بہانا ہماری کوئی بہت بنیادی ذمہ داری ہے؟ المیہ یہ نہیں ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہی۔ المیہ تو یہ ہے کہ ماحولیاتی بے راہ روی کو ہم کسی مقدس روایت کے طور پر قبول کرچکے ہیں۔

    بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو

  • error: Content is protected !!