Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرپختونخوا ہیلتھ سروے 2017 کا اجراء

Posted on
شیئر کریں:

موجودہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کا بجٹ 18 ارب سے بڑھا کر 67 ارب کر دیا ہے۔ وزیر صحت
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ہیلتھ سروے رپورٹ 2017 کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے جسے محکمہ صحت نے دیگر شرکت داروں بشمول محکمہ ترقی و منصوبہ بندی، بیورو آف سٹیٹسیٹکس اور حکومت برطانیہ کے ادارے ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ اس سروے کے انعقاد کا مقصد صحت کے شعبے اور خصوصاً بنیادی صحت کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لئے موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتائج کے بارے میں حقائق پر مبنی معلومات اور اعداد و شمار اکٹھا کرنا تھا۔یاد رہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے سال2013میں حکومت برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی Department for International Devolpment(DFID) کے تعاون سے پراونشل ہیلتھ اینڈنیوٹریشن پروگرام متعارف کروایا تھا اس پروگرام کے ذریعے صوبے میں لوگوں خاص طور پر غریب طبقے میں حمل کے کئی مراحل کے دوران اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کے حوالے سے بروقت معلومات اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا تاکہ زچہ و بچہ کی بہترین نشوو نما اور صحت کو یقینی بنایا جاسکے۔حالیہ سروے کا مقصد اس پروگرام کے اجراء سے حاصل شدہ نتائج اور کامیاب پیش رفت کا جائزہ لینا اورضلعی و صوبائی سطح پر صحت کی بنیادی سہولیات کے بارے میں درست اعداد و شمار حاصل کرکے صوبے میں صحت کی سہولیات میں مزید بہتری لانے کے لئے مناسب اقدامات اٹھانا تھا۔ سروے میں حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی،بنیادی صحت سہولیات کی دستیابی،کسی ماہر ڈاکٹر کے ذریعے بچے کی پیدائش اور بچے کو ماں کے دودھ کی فراہمی جیسے توجہ طلب اور صحت کے بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔سروے میں 15167ماؤں اور نوزائیدہ بچوں سے لیکر 2سال تک کے15487بچوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے75فیصد کا تعلق دیہی اور25فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے تھا۔اس سروے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سروے میں شامل12سے23ماہ کے75فیصد بچوں کو بی سی جی کے ٹیکے جبکہ65فیصد کو مینرلز۔1کے ٹیکے لگائے جا چکے تھے۔55.5فیصد بچوں کو ہر حفاظتی ٹیکہ جبکہ17.3فیصد بچوں کو کوئی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگوایا گیا۔ سروے میںیہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 2012-13کے48.3فیصد کے مقابلے میں اب72فیصد بچوں کی پیدائش کسی ماہر ڈاکٹر؍نرس؍دائی کی موجودگی میں ہوئی ہے جس میں54فیصد پیدائش ماہر ڈاکٹر،9فیصد لیڈی ہیلتھ وزیٹرز،7فیصد کی نرس یا دائی اور20فیصد کی محلے کی خواتین کی مدد کے ذریعے عمل میں آئی۔سروے میں صحت کے مراکزمیں زچگی کے حوالے سے یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ اب پہلے سے زیادہ خواتین صحت کے مراکز میں زچگی کے عمل سے گزری ہیں۔سروے سے ثابت ہوا کہ67.5فیصد زچگیاں صحت کے مراکزمیں ہوئیں جبک کہ36.8فیصد زچگیاں پرائیویٹ کلینکس یا اسپتالوں،30.6فیصد سرکاری اسپتالوں میں جبکہ32.4فیصد خواتین اپنے گھر میں ہی اس عمل سے گزریں۔ سروے میں دکھایا گیا ہے کہ 58.3فیصد بچوں کو ماں کا دودھ میسر ہے جس میں خاص طور پر دیہی اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل ہیں۔ہیلتھ سروے2017کے اجراء کے سلسلے میں ایک تقریب جمعہ کے روز ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی ۔تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر صحت شہرام تراکئی نے اس سروے کو صحت کے شعبے میں خصوصاً دور دراز علاقوں کے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ایک سنگ میل اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سروے صوبائی حکومت کے لئے صحت کے شعبے کو مستحکم بنانے اور بہتر فیصلہ سازی کے لئے ٹھوس بنیادیں فراہم کرے گا۔گزشتہ چا ر سالوں کے دوران صوبے میں صحت کے شعبے میں ہونے والی واضح بہتری کو پورے محکمے کی انتھک کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک بہتر اور مربوط ٹیم ورک کے نتیجے میں مکمل ہوا ہے جس کا کریڈٹ سیکرٹری ہیلتھ،ڈی جی ہیلتھ اور ڈی ایچ اوز کے ساتھ تمام ٹیم ممبران کو جاتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کا بحٹ18ارب سے بڑھاکر67ارب کر دیاہے جو صحت کے شعبے کے بارے میں صوبائی حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے طبی عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں طبی آلات کی دستیابی کو یقینی بنادیا ہے تاکہ لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہو سکیں۔انہوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ اب طبی مراکزمیں عملے کی ہمہ وقت موجودگی یقینی بنانے کے لئے اینڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو مزید موثر اور فعال بنایا جائے۔سروے کے انعقاد میں تعاون کرنے پر صوبائی وزیر نے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی،ڈی ایف آئی ڈی اور بیورو آف سٹیٹیسٹکس کاشکریہ ادا کیا۔تقریب سے سیکرٹری ہیلتھ محمد عابد مجید کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے اس سروے کے مقاصد،افادیت،اہمیت اور دیگر پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔


شیئر کریں: