Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دنیا پسندی؟…………ڈاکٹر اسماعیل ولی

    November 4, 2017 at 7:09 pm

     

    سیکولرزم کا سادہ ترجمعہ دنیا  پسندی ہے- دنیا  پسندی  کا مطلب یہ ہے- کہ دنیا کو ترجیح دی جاے- دنیا کو ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے- کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے  محنت کی جاے- اور اس محنت کی کیی صورتیں ہیں- ایک صورت یہ ہے- کہ علم و ہنر حاصل کرکے ان کو اپنے معاشی حاجات کو پورا کرنے کے لیے  استعمال کیا جاے- اور ہم نے علم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے- دینی اور دنیاوی تعلیم

     

    دنیی تعلیم کا جو حال ہے وہ سب پر عیاں ہے- اور دنیاوی تعلیم گذارہ حال اسلیے ہے- کہ اس کے پس منظر میں کسی کی محنت کار فرما ہے- اگرچہ یہ محنت  سلطنت برطانیہ کو مضبوط  کرنے کے لیے تھی-  قران کا بغور مطالعہ کیا جاے- تو کہیں دینی یا دنیوی تعلیم کی تقسیم نظر نہیں اتی- اور دعا ہمیں یہ سکھایی جاتی ہے- کہ دنیا و ااخرت  دونوں بہتر ہوں-   اور دنیاوی سہولیات کے لیے “انعام” کی اصطلاح استعمال ہوا ہے- یہ ایک الگ بحث ہے- پھر  کبھی سہی-

     

    سولھویں صدی یورورپ،  علوم پر نظرثانی کا اغاز ہوا- اور   اس نظر ثانی میں انسان  پرستی   کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی گیی- اٹھارویں صدی تک پہنچتے پہنچتے “عقل” اور “عقل پرستی”  غالب اگیی- جسکو  “روشن خیالی” کا دور بھی کہا جاتا ہے- جب “روش خیالی اور عقل پرستی” میں انتہا پسندی اگیی- تو جرمن سے رومانویت کا اغاز ہوا- جسکی کی بنیادی  دلچسپی  ازادی، وجدان، فطرت،    اور موضوعی  حقایق میں تھی- پھر جدت پسندی اور   اب بعد  از جدت پسندی   کی تحریک کا غلبہ ہے- پہلے ہر چیز کا مرکز تھا اب کسی چیز کا مرکز نہیں ہے- یا یہ مرکز زمان و مکان کے مطابق بدلتا رہتا ہے- اس تحریک کا تعلق ادب اور معاشرت سے زیادہ ہے-

     

    سیکولرزم  کا تعلق سیاست اور حکومت سے ہے- جو رسمی مذہب  کو سیاست سے دور رکھنے کی تحریک ہے- اور اس کی بنیاد بھی انسان پرستی  کے تصور پر ہے- انسان پرستی کا مطلب یہ ہے- کہ انسان ہی انسان کا مطلوب ہے- اگر کویی انسان خدا پرست بننا چاہے- تو یہ اس کا ذاتی  فیصلہ ہے- بالفاظ دیگر  مذہب ذاتی پسند و نا پسند کا معاملہ ہے- ریاست کو یہ اختیار حاصل نہیں– کہ وہ کسی انسان کے ذاتی پسند و نا پسند میں دخل  اندازی کرے- اور عصر حاظر میں  یہی غالب تصور ہے- اصل میں  مغرب کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے- کہ شروع ہی سے ریاست اور مذہب    الگ رہے ہیں- مذہب کی سرپرستی پوپ کرتا رہا ہے- اور ریاست کی سربراہی بادشاہ- اور دونوں میں کیی مرتبہ جنگیں بھی ہویی ہیں- اب پوپ اپنی جگہ موجود ہے- اور انکی اپنی چھوٹی سے ریاست بھی موجود ہے- اور مغرب کے بڑے ملکوں میں    بادشاہت یا ” ملکہ یت” بھی  بغرض تجارت موجود ہے-  یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان میں ایک طرح کا این ار او عمل میں ایا- اگرچہ نظریاتی  میدانوں میں بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں- اور بعض سخت گیر عیسایی تنظیمیں  بھی مصروف عمل ہیں- تا ہم  ابھی تک  کویی بڑا تصادم نہیں ہو ا ہے-

     

    سیکو لر کہتے ہیں-  خدا کو ماننا یا نہ ماننا کسی انسان کا ذاتی فیصلہ ہے- ریاست کا کام برابری کی بنیاد پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے- – اگر کویی خدا کو ماننے والا  یا نہ ماننے والا قانون کو توڑتا ہے-    تو قانوں حرکت میں اے گا- یہاں تک بات سو فیصد درست ہے- دوسرا اہم نکتہ “نتیجہ پرستی” کا ہے-  اگر کسی کام کو کرنے میں “مادی” فایدہ ہے- تو  اس کو کرنے میں کیا حرج ہے- اس کی مثال یہ ہے- کہ ایک انسان حضرت عیسی علیہ السلام کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو- اگر کرسمس   کے واقعے کو تجارت کے لیے استعمال کرے  – تو اس میں فایدہ ہے- کیونکہ اس کا نتیجہ اچھا ہے- یہاں ایک پیچیدہ مسلہ شروع ہوجاتا ہے- کیا ا ایمانداری بطور اصول اپنایا جایا- یا پالیسی– اس کا مطلب یہ ہے- کہ ایمانداری اس حد تک اپنایا جاے- جہاں تک یہ فایدہ مند ہو- لیکن  نقصان سے بچنے کے لیے  بے ایمانی ہی “بہترین  پالیسی” ہے-  اگر ہم غور سے ان کے کاموں کا مطا لعہ کریں-  تو انکی تجارت، سیاست اور معاشرت میں یہی ” اصول” کار فرما اور کار افرین  نظر ایے گا- کہ اصولوں کی پیروی کو بطور پالیسی اپناو- جہاں نقصان کا امکان ہو- بے اصولی ہی کامیابی کی کنجی ہے- یہاں چند موٹی مثالوں پر اکتفا کرنگا –

     

    ریاست اور مذہب کو  الگ رکھو- یہ ان کی پالیسی ہے- لیکن جہاں نقصان کا اندیشہ ہو- فورا پالیسی بدل دو- اور بالفور معاہدہ کرکے مذہب کے نام پر ایک ریاست بناکر اس کو اتنا مضبوط کرو- کہ قریبی ریاستیں مذہب کے  نام پر سر نہ اٹھا سکیں-  اور اسراییل کی صورت میں سب کے سامنے موجود ہے-

     

    دوسری  مثال افغان جنگ کی ہے- ایک زمانہ تھا- کہ افغان بہادر تھے- جنگجو تھے- نڈر تھے- اسلام کے

    سپاہی تھے- مجاہدین تھے- اور انکو اتنے کلاشنکوف دیے گیے- کہ چترال جیسا  پر امن علاقہ   ان سے بھر گیا تھا- اور افغان مجاہدین نے روسیوں  کا ڈٹ کر مقابلہ  کیا- اخر میں روس کو شکست ہویی- بلکہ گور با چوف کے ہاتھوں تہس نہس ہوا- اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قایم ہویی- پھر امریکہ اور ان کے حواریوں کے پیٹ میں مروڑ  پیدا ہوا- اور انہی لوگوں کو  “دشمن” ثابت کرنے کے لیے عجب و غریب ڈرامے کراے- جن لوگوں کے ذریعے سی ای اے نے روس کو شکست دی تھی- اور سابق  افغان صدر  نے یہ بات کھل کر کہی ہے- کہ “خلافت” کو ہتھیار امریکہ بہادر   فراہم کر رہا ہے-

     

    اب پالیسی یہ ہے- کہ  لفظ “خلافت” کو اتنا  گھناونا  اور خوفناک  اور دہشتناک بنایا جاے- کہ غیر مسلم کیا ، مسلمان بھی   ایسی خلاف کا نام لینے سے گریز کریں – کیونکہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو معلوم ہے- کہ روس  کی شکست کے بعد    اگر کویی طاقت ان کا مقابلہ کر سکتی ہے- وہ مسلمانوں کا  یکجا ہونا ہے-  اصول کی بات یہ ہے- کہ اگر یوروپ “یورو” کے نام پر متحد ہو سکتا ہے- تو مسلما نوں  کو بھی یہ حق پہنچتا ہے- کہ وہ چین  کی سربراہی میں ایک سکہ بناکر  ڈالر کا مقابلہ کریں-

     

    اوپر کی مثالیں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں- کہ مغربی  سیکولرزم کا مطلب کیا ہے- اور اس کے ڈاینامکس کیا ہیں- اب اس سوال پر بحث کرنے کی کوشش کرتے ہیں- کیا انسان کی ذات قابل تقسیم ہے-  اس کا سادہ اور قابل فہم جواب یہ ہے کہ نہیں  ہےکیونکہ انسان جسم و جان یا ذہن و بدن کے ایک انتہایی  پیچیدہ “اکایی”     کا نام ہے-  اس اکایی کو ہم ذہنی یا بدنی فعل میں تقسیم نہیں کر سکتے-  انسان کی کویی حرکت ایسی نہیں جو ذہن سے الگ ہو- یا کویی خارجی فعل ایسا نہیں- جسکا ذہن کو ادراک نہ ہو

     

    دین و دنیا کی تقسیم  ایک پیچیدہ سیاست کا نام ہے- اگر بہ نظر غایر دیکھا جاے-  دین والے کو بھی جسم کی ضرورت ہوتی ہے- اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے   غذا، لباس، اور مکان  بنیادی اسباب ہیں- غذا پیدا کرنے کے لیے  کھیت، پانی،  سرمایے  اور محنت کی ضرورت ہوتی  ہے – اسی طرح مکان اور لباس بھی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتے- اور کویی دین والا ایسا نہیں- جو ان کے بغیر زندہ رہ سکے-  اسی طرح  کویی دنیا والا ایسا نہیں- جس کا   کویی مذہب  نہ ہو- مذہب کا مطلب  زندگی گزارنے کے لیے کسی حکمت عملی کا نام ہے-  یہ اگر کسی رسمی صورت میں نہ ہو- تو اخلاقی صورت میں ضرور ہوگا-

     

    ہمیں تو یہ بتایا جاتا ہے- کہ  یورورپ اور امریکہ میں “خدا” کو سیاست سے الگ کیا گیا ہے- لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے- جرمن ایین کا پہلا جملہ اس سلسلے میں انتہایی سادہ مگر پر اثر ہے- اور خدا  پہلے اور لوگ بعد میں ہیں- یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے- کہ جرمن ایین “سیکولر”   نہیں ہے-  کیونکہ خدا   سے انکار اس ایین کا حصہ  نہیں ہے-   اور نہ دوسر ے ممالک کے ایینی دستاویزات میں “خدا بیزاری” کا کویی شق موجود ہے- بے شک مذہبی ازادی  کا شق ضرور ہے-  اور وہ ہونا بھی چاہیے- کیونکہ خدا کو  کسی دباو کے تحت ماننا فایدے   کے بجاے نقصان کا موجب ہوگا-

     

    بہت سی باتیں ایسی ہیں- جن میں وہ ہم سے درجہ ہا بہتر ہیں- مثال کے طور پر  ہم رسمی طور پر خدا کو مانتے ہیں اور  ان  کو  غلیظ سے غلیظ  گالی   دینا اپنی عباد ت کا حصہ سمجھتے ہیں- لیکن ملاوٹ  کی جو منڈی اس پاک ملک میں جس فعال اور منظم طریقے سے  “نا پاکیاں” پھیلا رہی ہے- وہ میرے   خیال میں کسی سیکو لر ترین ملک میں بھی نہیں ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خدا کو حاظر ناظر نہیں مانتے ہیں- پھر،  جس گندے طریقے سے ہم مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں-  اس سے اچھا یہ ہے- کہ “سیکو لر” سیاست ہی کریں-

     

  • error: Content is protected !!