Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کُنجِ قفس………… جنسی زبردستیاں اور آگاہیاں……… الطاف اعجازاؔ گرم چشمہ

Posted on
شیئر کریں:

جب جنسی تشددکی بات ہویا ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو ساتھ ساتھ بچوں میں آگاہی جگانے کی باتیں ہوتی رہتی ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ اس معاملے میں آگاہی سے اصل مراد کیاہے۔ خوف کو اگر بدبوکہا جائے توہم ایک ایسے ماحول سے گزررہے جہاں ہر طرف تعفن زدہ اور سوہانِ روح حالات چل رہے ہیں۔سلام دعا خوفزدہ۔۔۔لیں دیں خوفزدہ۔۔۔۔علیک سلیک خوفزدہ ۔ ۔ تعلقات خوفزدہ ۔ ۔ ۔ معاملات خوفزدہ۔۔۔یہاں تک کہ اب کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے بھی خوفزدہ رہتے ہیں کہ کہیں تپاک سے گلے مل کر جناب خودکشی نہ کر بیٹھے ۔ اس خلجاں میں پیچ وتاپ کھاتے ہو ئے ہم سب اس حالت کو پہنچے ہیں کہ آئینہ خود ٹوٹنے کو آیا ہے مگر سمجھ میں آ نہیں رہا کہ عکس ہما را ہے کہ نہیں۔ بحرحال ان ہی میں سے ایک خوف جنسی تشدد کا ہے۔ آئے دن سننے رہتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ جنسی زبردستی ہو رہے ہیں، اور زیادہ تر معصوم بچیاں اس نشانے پر نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیاجو یقیناًدل دہلادینے والا تھا ۔ایک حساس انسان کبھی بھی زینب ( ساتھ سال کی ایک بچی جو جنسی تشدد کے بعد ایک گندہ نالی میں مردہ پایا گیا )کے چہرے پر نظر نہیں کرتا اگر اسے یہ بتایا جاتا کہ اس بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ بتائیں یہ قیامت صغری نہیں تو اور کیا ہے۔ ۔ زینب ہی کیا اب تو ہر بچہ غیر محفوظ ہے۔ ۔۔ ہاں جناب والا ! یہی تو وہ غلطی ہے جو ہم بار بارکرر ہے ہیں۔۔ یہ قال کہ ہر بچہ اب غیر محفوظ ہے۔ ڈاکٹر سے لیکر نل ساز تک جس طبقے سے بھی تعلق رکھتے ہوں آپ سوچتے کیوں نہیں کہ یہ ’’ہر بچہ‘‘ جو ہے اس میں آپ کا معصوم بچہ بھی شامل ہے او ر دوسری جا نب ہوس کی جنوں میں مضطرب یہ درندہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔۔۔کوئی بھی۔ ۔۔۔ جودنداناتے ہوئے شکار کی تلاش میں کسی روز تمھارے گھر کے سامنے سے بھی گرز سکتا ہے اور اگر جدید دور کی بات کرتے جائیں تو جناب یہ وہ دور ہے کہ ماوراء لنہر سے کوئی آکر زخموں پر مرہم رکھے اور آستین میں سے سانپ نکل آئے ۔ اب ذرا سننے کہ آگاہی سے مراد بلخصوجنسی تشدد کے بارے میں آگاہی سے مرا دکیا ہونا چاہئے۔ کیا آگاہی سے مرادیہ ہے کہ ہم اپنے بچے کو سامنے بیٹھا کر اس کے لئے نصیحتوں کے پل باندھنا شروع کریں؟۔ یہ کہنا شروع کردیں کہ بیٹھاتم بیٹی ہوتمھارے ساتھ معاشرے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔باہر ہوس کے درندے پھرتے ہیں ان سے بچو ، باہر مت جاؤ، یا ایسا ہی ایک واقعہ دیکھ کر الٹا اپنی مردانگی دیکھانا شروع کردیں کہ اگر تمھارے بارے میں کچھ غلط باتیں سننے کو ملی تو تیری شامت آئی، یا پھر بحیثت پاپ اپنی شخصیت کو اولاد کی نظر میں ایسا بنائیں کہ وہ سب سے زیادہ اگر ڈرے توجناب والد محترم صاحب سے ہی ڈرے۔ یا پھر ایسا کریں کہ اولادکے سامنے زیادہ تر خاموش رہیں تاکہ اس کی ہیبت برابر چھائی رہے یا پھر یوں کریں کہ اولادپر اپنے احسانات عادتاً ہر روز گنتے رہیں وغیرہ وغیرہ تاکہ کسی جاہل سے لیکر گلے میں لٹکائی ہوئی نصیحت کے مطابق اولاد باشعور ، اچھا اور نیک خصلت والا ہو،اور باہر کی دنیا سے بھی باخبر رہے۔اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو بھی آگاہی سے مراد لیتے ہیں یا ابھی تک لئے ہیں توبیٹھے رہیں اس کنویں میں پانی کسی صورت اوپر نہیں آنے والااور اگر آیا بھی تو تمھیں رسوائیوں ، اور شرمندگیوں میں ڈبو لے جائیگی،کیونکہ تمھیں ہوش آتے آتے دیر ہو چکی ہوگی۔یہ سب آگاہی نہیں بلکہ ان میں سے بعض آگاہی کے بر عکس ایک بچے کی شخصیت کی تباہی کے لئے تخریبی قوت کی حیثیت رکھتی ہیں۔مثلاّ اگر ایک بچی جس کی ناپختہ ذہن ہر بات اور واقعہ کو قبولنے کے انتہائی تیز شعور ی دور سے گزر رہاہو کے سامنے یہ کہی جائے کہ باہر مت جاؤ تمھارے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے تو انداذہ لگائیں کہ ہم اس کے سامنے اس کی اپنی ذاتی زندگی کو ایک ایسی پتنگ کی طرح پیش کرتے ہیں جس کی ڈور کسی خارجی خوف کے ہاتھ میں ہو۔ اس کی زندگی کے ارتقائی راستے کتنے بڑے پیمانے پر مسدود ہو سکتے ہیں وہ کس طرح کی نظر سے دنیا کو دیکھنے لگتی ہے، اس کی معاشرتی زندگی، کھیل کھود ، سکول ، گلی کوچے ، دوستوں میں غرض کہ ہر وقت وہ خوف کے سائے میں وقت گزارے گی، ایک انجانی خوف جس کا وجود نہ ہوکر بھی ہر وقت ہونے کا احساس شعور کو دیتا رہتا ہے ۔ ۔ قصہ مختصر کہ زندگی اجیرن۔اب اگر آپ اس کا تھوڑا الٹا سوچیں تومعاملہ مثبت ہو سکتا ہے۔ اپنے بچے سے یوں کہیں کہ باہر جائیں مگر ذرا سی بھی غیر معمولی واقعہ تمھارے ساتھ اگر پیش آئے تو آکر بتائیں۔مگرستم یہ کہ اولاد ایک بیٹی ہو تو بتائے کیسے !یہی تو وہ ناسور ہے کہ گھر آکر بتائے کیسے ،کس حوصلے کو لے کر، کس پاب کے سامنے کیونکہ اولاد بلخصوص بیٹی کی ذات کو ہم نے تو اپنے خوف سے بھر دیے ہیں، اب تو وہ ہر بتانے والی واقعے کو انجام کے حوالے سے سوچ کر چُپ رہنا ہی عافیت سمجھتی ہے چاہے آبرو ہی کیوں نہ تار تار ہو قبول ہے مگرکسی کے سامنے اس کاذکر گویا اس کے لئے آفتوں پر آفت ہو۔ اب سنو ! سب سے زیادہ اہم بات جو آگاہی سے مراد ہے یہ کہ اپنے اولا دکو اپنی اعتماد میں لو، یہ سب سے زیاد اہم ہے۔ اس کی ذات کو اعتماد سے بھر دو، خوف سے نہیں۔اعتماد سے مراد محبت سے کام لو۔ اولاد کو خاص کر بیٹی کو اتنی محبت دو کہ وہ آکر آپنے ساتھ ہونے والی واقعات اور حالات آپ کو بلا جھجک بتائے ، سنائے،شےئیر کرے۔ڈرائیے مت، دھمکائیے مت، اولاد پر الزامات کی بوچھار مت کریں ،نابیہیل (بددعا) کرنے کی دھمکیاں بار بارنہ دیں۔ جس کا انجام یا شخصیت کی کسمپرسی پر یا باغیانہ شخصیت پر منتج ہوگی۔۔۔اور نہ ہی نصیحتیں کریں۔۔محبت کریں، محبت ۔یاد ر کھیں محبت نصیحت سے زیادہ طاقتور ہو تی ہے اور اعتماد کے لئے محبت کا جادو کام کر جاتی ہے۔ محبت کا کرشمہ اُجالنا ہے اور نصیحت کا کام پالنا ۔ نصیحتیں دل ودماغ کو پالتی ہیں اورمحبت اجالتی ہے۔ اس لئے اولاد کے دل میں محبت کا جوت جگاؤجوکہ اعتماد، احترام ،شعورکا منبع ہے اور اسی کا نام آگاہی ہے جو آپ کو دینا ہے ۔ آگاہی جو بچوں میں جگانے کے بارے ہے یہی کہ اگر ایک بچہ اپنے گھر کے کسی فرد کو خاص کر اپنے والدیں کو وہ مشکلات بتانے کے قابل ہو جو معاشرے میں اسے سامناہے اور یہ مسائل وہ پر اعتماد اور بے باک طریقے سے بتائے جو کہ اس کے ساتھ محبت اور اعتماد والا برتاؤ رکھنے کا پھل ہوتا ہے تو سمجھ لینا کہ اس بچے میں زبردست قسم کی قابل رشک آگاہی ہے اور وہ محفوظ بھی ہے، کیونکہ اسے اپنے خاندان پر اعتماد ہے، والدیں پر اعتماد ہے، اپنوں پر اعتماد ہے اور سب سے بڑی بات کہ اسے خود پر اعتماد ہے۔ ۔ اور اگر معاملہ اس کے بر عکس ہے تو یقین جانو کہ وہ کبھی بھی کہیں بھی کسی درندے کے ہا تھوں اپنی آبرو کھو کر کالک بن سکتی ہے۔
اب اپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ آپ اپنے اولاد کے ساتھ خاص کر بیٹی کے ساتھ برتاؤ کے معاملے کو لیکر کس مرحلے پر ہیں۔شکریہ۔


شیئر کریں: