Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام تحصیل مستوج کے ہیڈ کواٹر بونی میں دو مقامات پر کھلی کچہری کا انعقاد

    November 4, 2017 at 8:21 pm

    چترال( نمائند ہ چترال ٹائمز) ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سودھر نے سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹرز بونی کے مقام پر جامع مسجد اورسنٹرل جماعت خانہ میں الگ الگ نشست منعقد کرکے سینکڑوں افراد سے ان کے اجتماعی مسائل اور شکایات سن لی جن میں بعض کے حل کے لئے موقع پر موجود متعلقہ افسران کو احکاما ت جاری کردئیے اور کئی ایک کو حل کرنے کے لئے رپورٹ طلب کرلی۔ ان مقامات پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترال رقبے کے لحاظ سے وسیع تریں ضلع ہے جس کے طول وعرض سے عوام کو اپنے مسائل اور شکایات لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز جاکر افسران سے ملنا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم نے فیصلہ یہ کیا کہ ہر جمعہ کے دن ضلع کے کسی نہ کسی عبادت خانہ میں جاکر لوگوں سے مل کر ان کے مسائل سن لی جائیں ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران دراصل عوام پبلک سرونٹ ہونے کے ناطے عوام کے خادم ہوتے ہیں اور ان پر یہ فرض عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام پر حکمرانی نہیں بلکہ ان کی خدمت کو اپنا شعار بنالیں جبکہ انہوں نے سرکاری افسران پر زور دیتے ہوئے کہاکہ کھلی کچہریوں زبانی جمع خرچ نہیں ہوں گے بلکہ انہیں بامغنی اور نتیجہ خیز بنائے جائیں اور عوام کے مسائل کو ان کے گھروں کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے عملی قدم اٹھائے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ کسی سرکاری محکمے کے افسرکو یہ اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی کہ وہ عوامی مسائل کے حل یا شکایات دور کرنے میں کسی قسم کی لیت ولعل سے کام لے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سید علی اکبرشاہ اور مختلف محکمہ جات کے ضلعی سربراہان بھی موجود تھے جن میں ڈسٹرکٹ افیسر فنانس حیات شاہ اور دوسرے شامل تھے۔ اس موقع مختلف محکمہ جات کی خراب کارکردگی اور ترقیاتی کاموں میں سست روی پر شکایات سامنے آئے جن میں محکمہ خوراک، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ، ایریگیشن، سی اینڈ ڈبلیو،زراعت اور غیر سرکاری ادارے شامل تھے ۔ اس موقع پر تورکھو روڈ پر سست روی سے کام کی شکایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس روڈ پرگزشتہ ڈیڑھ سالوں سے کوئی خاطر خواہ پراگریس نہیں ہوئی جس کی وجہ سے تورکھو کے عوام سخت مشکل میں مبتلاہیں۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئر نگ کے خلاف شکایت ہوئی کہ رائین ، پرواک ،مستوج اور دیگر دیہات میں ناقص پائپ لگایا گیا ہے جس میں پانی نہیں آتا اور جگہ جگہ پائپ بھی وقت سے پہلے ٹوٹ چکے ہیں اور کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود ان دیہات میں لوگ صاف پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ایک جنرل کونسلر نے تجاوزات کے خلاف مہم کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ ایک یوتھ کونسلر نے شکایت کی کہ چترال کے ہر گاؤں میں منشیات کھلے عام دستیاب ہے اور نوجوان نسل نشے کے لعنت میں دھنس چکا ہے یہ منشیات کہاں سے اور کیسے پہنچتا ہے جبکہ جگہہ جگہہ پولیس کے ناکے لگے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر علی اکبر نے یقین دہائی کرائی کہ منشیات فروشوں کے حلاف سختی سے کاروائی کی جائے گی۔بعد میں ڈپٹی کمشنر نے سنٹرل جماعت خانہ میں بھی کھلی کچہری لگائی جہاں اسماعیلی کمیونٹی کے لوگوں نے ان کے سامنے اپنے شکایات اور تجاویز پیش کئے۔ محکمہ خوراک کے حلاف شکایت آئی کو عوام کو ناقص اور پرانا گندم فراہم کرتا ہے جس کی بار بار شکایت کی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ آبپاشی کی کوئی نہر ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی کرڑوں روپے غبن ہوگئے مگر لوگ پینے اور زراعت کے پانی سے محروم ہیں۔ تحصیل میونسپل کے بارے میں شکایت کی گئی کہ ان کا عملہ تنخواہیں تو لیتے ہیں مگر صفائی نہیں کرتی۔ لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ غیر سرکاری اداروں کی جانب سے جتنے بھی بجلی گھر تعمیر کئے جاتے ہیں وہ ناقص ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان میں زیادہ تر بجلی گھر ناکارہ ہوچکے ہیں اور یہ علاقے پہلے کی طرح تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

  • error: Content is protected !!