مکتوبِ چترال
بشیر حسین آزاد
ٹاون میں بجلی کی آنکھ مچولی
چترال ٹاون میں سب سے بڑی مصیبت بجلی کی آنکھ مچولی اور کم وولٹیج کامسئلہ ہے ٹاون کے تین حصے ہیں اور سب سے زیادہ متاثر ٹاون ٹو یعنی بازار،آس پاس کے علاقے، دفترات اور ہسپتال وغیرہ کا علاقہ ہے،ٹاون کو بجلی دینے کے چار ذرائع ہیں،نیشنل گرِڈ سے2میگاواٹ بجلی آتی ہے۔گانکورینی سے600کلواٹ بجلی لائی گئی ے۔گولین میں ایس آر ایس پی کے مائیکروہائیڈل سکیم سے 2میگاواٹ بجلی دی جارہی ہے۔اچھی حکومتوں میں اچھے نمائندؤں کی آواز پر ڈیزل جنریٹر سے2میگاواٹ بجلی دی جاتی تھی۔موجودہ حالات میں چترال ٹاون یتیم ہے۔اس کا والی وارث کوئی نہیں اس لئے ہم اپنی آواز حکومت کے ایوانوں تک کبھی نہیں پہنچاسکینگے۔گولین سے ایس آر ایس پی کی بجلی آنے سے پہلے ٹاون ٹو میں18گھنٹے روازنہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ایس آر ایس پی کی 2میگاواٹ بجلی آنے کے بعد اصولی طورپر لوڈ شیڈنگ ختم ہونی چاہیئے تھی۔ٹاون کے عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔مگر ایس آر ایس پی کی بجلی کو قواعد وضوابط کے مطابق تقسیم نہیں کیا گیاطاقت ور کو بجلی دی گئی ،کمزور کو محروم کیا گیا۔واپڈا کو سب سے زیادہ آمدنی ٹاون ٹو سے حاصل ہوتی ہے۔یہاں بازار اور کاروباری مراکز واقع ہیں۔ہوٹل اور ریسٹورنٹ واقع ہیں۔دفاتر اور ہسپتال واقع ہیں۔انتظامیہ نے ناموس رسالت کے لئے احتجاج کرنے والے بے گناہ نوجوانوں کو جیل میں ڈال کر یہ فرض کرلیا ہے کہ اب ٹاون کے عوام قیدیوں کی رہائی تک اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نہیں آسکینگے مگر رمضان المبارک میں روز ہ داروں کو بے جا تنگ کیا گیا تو عوام نہ صرف سڑکوں پر آئینگے بلکہ احتجاج بھی کرینگے،توڑ پھوڑ بھی کرینگے۔ہم چاہتے ہیں کہ واپڈا والے اس کی نوبت آنے نہ دیں۔عوام کو درگئی اور ملاکنڈ کی طرح قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ کریں۔موجودہ حالات میں رمضان المبارک نصف ہونے کے قریب ہے۔ٹاون میں دن کے وقت 2گھنٹے اور رات کے وقت 3گھنٹے بجلی آتی ہے وہ بھی مسلسل نہیں آتی۔آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے۔اس وجہ سے مشینری کے جلنے کا خطرہ رہتا ہے۔شارٹ سرکٹ کا خطرہ بھی رہتا ہے۔واپڈا پر عوام کا اعتمادپہلے ہی اُٹھ چکاتھا۔اب ایس آر ایس پی پر بھی عوام کا اعتماد نہیں رہا،مقامی انتظامیہ پر بھی عوام کا اعتماد نہیں رہا،ضلعی حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوگیا ۔ٹاون ٹو اس لحاظ سے بھی بدقسمت ہے کہ ضلع ناظم کا تعلق ٹاون ٹو سے نہیں اس وجہ سے طاقتور لوگ کئی گھنٹے بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔دیگر علاقوں کو بجلی دیدیتے ہیں ٹاون ٹو کو لاوارث قرار دیا گیا ہے۔ڈھائی سالوں سے ایس آر ایس پی کے دومیگاواٹ بجلی کا انتظار کرنے والے صارفین کے اُمیدوں پر پانی پھیر دیا گیاہے۔ اوپر سے بار بار حکومتی اعلانات کہ’’ رمضان المبارک کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کردیا گیا‘‘کے باوجود ضلع چترال میں بد ترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے عوامی نمائندے جھوٹے وعدے کرکے نہیں تھکتے،کم ولٹیج کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک ہفتے کاوقت دیتے ہیں اور وہ ایک ہفتہ مہینے اور سال گذرنے کے باجود نہیں آتا۔ایک طرف ملک میں بجلی کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے تو دوسری طرف چترال ٹاون کے لئے میسر دومیگاواٹ بجلی کو واپڈا والے صارفین کے لئے شیڈول بناکے تقسیم کرنے سے اب تک قاصر ہے۔واپڈا والوں پر کسی کا زور نہیں چلتا۔اب صارفین بجلی ٹاون صوبائی حکومت کے وزیر محمود خان سے سوال کرتے ہیں کہ ایک مہینے پہلے گولین کے مقام پر چترال ٹاون کے لئے دومیگاواٹ بجلی گھر جو افتتاح آپ نے کیا تھا وہ بجلی کہاں گئی ،اس کے بارے میں کسی سے کیوں نہیں پوچھا جارہا۔واپڈا والوں کا موقف ہے کہ ایس آر ایس پی کی بجلی گھر کی پیداور1200سے1300کلوواٹ ہے جبکہ ایس آر ایس پی کے زمہ داران کہتے ہیں کہ بجلی گھر کی پیداوار دومیگاواٹ سے زیادہ ہے ۔اب صارفین حیران وپریشان ہے کہ کس کی بات پر یقین کی جائے۔دو ہفتے پہلے کئی بار شیڈول بنایا گیا مگر کسی ایک پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔شیڈول کے مطابق ٹاون کے علاقوں کو دو حصوں میں تقسیم کرکے 24گھنٹے بجلی صارفین کو دی جائے گی مگراب کسی بھی علاقے کو 24گھنٹے بجلی نہیں ملی اگر ملی بھی ہے تو 3دنوں میں 10گھنٹے سے زیادہ کسی بھی علاقے کو نہیں ملی صارفین بار بار انتظامیہ کے پاس جاتے ہیں لیکن وہاں سے جھوٹی تسلیوں کے سوا اُنہیں کچھ نہیں ملتا اور نا اُمید لوٹ جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں روز ہ داروں کو بے جا تنگ کیاجارہا ہے عوام سڑکوں پر آنے کا پروگرام بنارہے ہیں،ضلعی انتظامیہ،ضلعی حکومت ،ایم این اے ،ایم پی ایز اورواپڈا والوں کواس مسئلے کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے اور آپس میں مل بیٹھ کر اس مسلئے کا حل نکالنا چاہیئے تا کہ ضلع چترال کا امن برقرار رہ سکے اور عوام کو اس رمضان المبارک میں سہولیات میسر ہو۔
ایس آر ایس پی کے دو میگاواٹ بجلی گھر سے چترال ٹاون کوبلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لئے پاور کمیٹی کا تین دن کا ڈیڈ لائن
چترال( بشیر حسین آزاد) چترال شہر میں بجلی کیلئے سرگرم تنظیم پاور کمیٹی نے انتظامیہ کو تین دنوں کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آر ایس پیکے دو میگاواٹ بجلی گھر سے چترال شہر کوبلا تعطل بجلی فراہم کیا جائے بصورت دیگر شدید
احتجاج کا راستہ اپنا یا جائیگا ۔جمعہ کے دن چترال پریس کلب میں پاور کمیٹی کے صدر خان حیات اللہ خان ،نائب صدر محمدکوثرایڈوکیٹ ،چئیرمین ناصر احمد،سین احمد و ممبران کے علاوہ نوید احمد بیگ،حبیب حسین مغل ، محمد سید خان لال،, محی الدین ، اور وی سی ناظمین نے درجنوں شہریوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور کمیٹی کی انتھک کوششوں سے سرحد رورل سپورٹ پروگرامایس آر ایس پینے گولین بیر موغ کے مقام پر 35کروڑ روپے کی لاگت سے دو میگاواٹ بجلی گھر تعمیر کیا جس کیلئے ہم چیف ایگزیکٹیو آفیسر شہزادہ مسعود الملک کے شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مذکورہ بجلی گھر کا افتتاح چند دن پہلے ایس آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو افیسر نے ایک صوبائی وزیر سے کرایا۔ انتظامیہ اور واپڈا نے پاور کمیٹی کے ساتھ مل کر شہر کو بجلی کی تقسیم کا تین مرتبہ شیڈول ترتیب دیا۔ مگر ہر بار واپڈ کے اہلکار مکر جاتے ہیں۔ اورچترال شہر بجلی کی نعمت سے محروم رہا۔ جبکہ دوسری طرف اسی بجلی گھر سے چترال شہر سے باہر کئی دیہات کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے ۔محکمہ واپڈا کی من مانیوں سے رمضان کے مبارک آیام میں چترال شہر کے بجلی صارفین بجلی کی نعمت سے محروم ہیں ،اُنہوں نے کہا کہ ہم نےآس پاس کے علاقوں کو بجلی نہ دینے بات کبھی بھی نہیں کی مذکروہ بجلی گھرصرف صرف ٹاون ایرہا کے لئے بنائی گئی ہے پہلے ٹاون ایریا کو بجلی کی فراہمی پوری کی جائے بعد میں دوسرے علاقوں کو بجلی دی جائے۔اُنہوں نے کہا کہ پائور کمیٹی نے کئی بار بجلی کی فراہمی کے لئے ہر ادارے کا دروازہ کھٹکٹایا مگر کوئی بھی ہماری فریاد سننے کے لئے تیار نہیں۔ انھوں نے انتظامیہ اور واپڈا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ واپڈا ریاست کے اندر ریاست بن چکا ہے ۔ یاریاستی ادارے بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ اُنہوں نےعوام کا مسلہ حل کرنے کے بجائے سیاست چمکانے کے کوششوں پر ممبر قومی اسمبلی ،ممبران صوبائی اسمبلی اور ضلعی ناظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اخر کارمجبور ہوکر ہم نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔اور ہمارا احتجاج و یلج سطح پر شروع ہونگے اور ہمارا دھرنا اُس وقت تک جاری رہیگا جب تک چترال ٹاون کو شیڈول کے مطابق بجلی نہیں دی جائے گی۔اُنہو ں نے وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلٰی کے پی کے اورآرمی چیف سے اس سلسلے میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایس آر ایس پی کے بجلی گھر میں کوئی خرابی ہے یا بجلی گھر بنانے میں ادارے سے کوئی غفلت ہوئی ہے تو اُن کا احتساب کیا جائے اور اگر واپڈا کے اہلکار صارفین کودو میگاواٹ بجلی دینے میں غفلت برت رہے تو ان اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔اس موقع پر تجار یونین کے صدر حبیب حسین مغل نے کہا کہ کہ تجار برادری بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیجسے انتہائی تنگ آچکے ہیں اگر اس مسئلے کا حل نہ نکلا گیا تو تجار برادری انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور ہونگے۔
لواری ٹنل اپروچ روڈ کے متاثریں کو اُن کے زمینوں کا معاوضہ جلد دئیے جائیں۔حاجی روئیدار
چترال (نمائندہ چترالایکسپریس) عشریت چترال کے عمائیدین ممبر تحصیل کونسل و نائب امیر جماعت اسلامی حاجی روئیدار احمد ساجد ،محمد عالم اور احمد خان نے چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویزخٹک، این ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ کے اعلٰی حکام سے اپیل کی ہے کہ لواری ٹنل اپروچ روڈ کے متاثریں کو اُن کے زمینوں کا معاوضہ جلد دئیے جائیں۔اُنہوں نے کہا کہ روڈ کے دونوں جانب کے زمینات یہاں کے لوگوں کی ملکیت ہیں جنہیں ایک سازش کے تحت سرکاری اراضی قرار دے کر مالکان کومعاوضے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لواری سب ٹنل تا پٹرول پمپ عشریت سڑک کے دونوں جانب مختلف لوگوں کے زمینات واقع ہیں۔ جنہیں اب تک معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔جبکہ ابتدائی سروے کے مطابق متاثرین کومعاوضہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔لہذا تعمیراتی کام سے پہلے متاثرین کو معاوضہ دلوایاجائے
چترال بازاروں میں بے لگام گراں فروشی عروج پر
چترال ( محکم الدین ) گرانفروشوں نے حسب عادت و روایت ماہ رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی روزہ داروں کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ جن کو کنٹرول کرنے میں ضلعی انتظامیہ بے بس ہو چکی ہے ۔ خصوصا سبزی اور پھل فروشوں نے ناجائز منافع خوری کی انتہا کردی ہے ۔ تربوز 50روپے ، خٹاکئے 60 روپے ، آم260روپے کلو اور کیلا 250 روپے درجن فروخت کیا جارہا ہے ۔ جو کہ معیار میں بھی ناقص ہیں ۔ اسی طرح باسی سبزیات دوگنی قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں ۔ چھوٹا اور بڑا گوشت نایاب ہو چکا ہے ۔ اور جہاں ملے منہ مانگی قیمت وصول کی جارہی ہے ۔ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مرغی فروش ڈیڑھ پاؤ کے وزن والے چوزے 270سے 300روپے پر فروخت کرتے ہیں ۔ جبکہ بازاروں میں ناقص اور دو نمبر مشروبات کی بھر مار ہے ۔ روزہ دار یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آخر ان کو لوٹنے والوں سے حساب کون لے گا ۔ بازار میں افطاری کیلئے جو اشیاء فروخت کی جارہی ہیں ۔ اُن کی صفائی اور معیار کا لحاظ بھی نہیں رکھا جاتا ۔ اور زیادہ تر جگہوں میں گزرے دن کی باسی اشیاء فروخت ہو رہی ہیں ۔ جن سے کئی روزہ دار پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں ۔ محکمہ فوڈ جو ان چیزوں پر نگاہ رکھنے کی ذمہ دار ہے ۔ صرف بازار میں اشیاء فروشوں کو مرضی کے ریٹ دینے کے سوا کوئی کام نہیں کرتی ۔ جس سے عوام روز بروز لُٹے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ چترال شہر کے اندر قائم سبزی منڈی جو چھوٹے سبزی فروشوں کے منافع غصب کرنے کی ذمہ دار ہے ۔ اُس کے ریٹس کنٹرول کئے جائیں ۔ تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔
نوید ضمیر یاسر ملٹی نیشنل کمپنی اپیکس فنڈ سروس دوبئی لمیٹڈ کے سی ای او تعینات۔
چترال(بشیر حسین آزاد) نوید ضمیر یاسر ملٹی نیشنل کمپنی اپیکس فنڈ سروس دوبئی لمیٹڈ کے سی ای او تعینات۔نوید ضمیر یاسیر کرنل ریٹائرڈ لال ضمیر مرحوم کے بیٹے ،قاضی احمد سعید کے داماد اور لفٹننٹ کرنل خالد کے چھوٹے بھائی ہے۔نوید ضمیر اس سے پہلے اسی کمپنی سے مختلف ممالک میں اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔نوید ضمیر نے ایف ایس سی نوشہرہ سے کی اور سی اے ائرلینڈ سے کی ہے۔نوید ضمیر یاسر کو بہترین کارکردگی کی بنیاد پر مذکورہ کمپنی میں سی ای او تعینات کیا گیا ہے
شہزادہ خوش احمد الملک کوایون میں سپرد خاک کردیا گیا
چترال (بشیر حسین آزاد) سابق ریاست چترال کے حکمران ہزہائی نس سر شجاع الملک کا بیٹا شہزادہ خوش احمد الملک گزشتہ رات ایون میں واقع اپنے محل میں مختصر علالت کے بعد وفات پاگئے جنہیں ہفتے کے روز ایون میں سپرد خاک کردیا گیا۔ وہ 1896سے 1936ء تک ریاست چترال کے حکمران کے پندرہ بیٹوں میں سے آخری شہزادہ تھا جوکہ 1920ء میں پیدا ہوا تھا ۔ انڈیا کے ریاست ڈیراڈون میں ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے برٹش آرمی میں کمیشن حاصل کیا جبکہ 1960ء کے عشرے میں پاک آرمی سے میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے ۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھر پور زندگی گزاری اور 1970ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا مگر کامیاب نہ ہوسکے ۔ وہ افغان مہاجرین کا ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریٹر بھی رہے اور افغانستان کا کئی مرتبہ سفر کیا۔ شہزادہ خوش احمد الملک شاعر بھی تھے جس نے معاشرتی اور ماحولیاتی موضوعات پر طبع ازمائی کی اور گلائیوجواب گلائی کے نام سے مجموعہ اشعار بھی شائع کئے۔ وہ سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو افیسر شہزادہ مسعود الملک اور شہزادہ مقصود الملک کے والد، سابق رکن قومی اسمبلی شہزادہ محی الدین کے چچا، معروف پولو کھلاڑی شہزادہ سکندر الملک کے بھی چچا تھے ۔ ان کے نماز جنازے میں ضلع بھر سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گران فروشوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔اے سی چترال عبدالاکرم
چترال (بشیر حسین آزاد) اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم نے تاجر برادری کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں گران فروشوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا اور کسی بھی روزہ داروں کے جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہفتے کے روز چترال بازار کے اچانک معائنے کے دوران انہوں نے کڑوپ رشت بازار میں سبزی فروشوں، مرغی فروشوں، بیکری اور کرانے کے دکانوں کا معائنہ کیا اور صفائی کی فقدان ، گران فروشی ، نرخ نامہ اویزان نہ کرنے اور کم وزن پر متعدد دکانداروں کا چالان کیاجن میں سے ایک آٹھ دکانداروں کے خلاف ایف آئی آ ر درج کرنے کا حکم دیا جبکہ بعض کا موقع مجموعی طور پر 27ہزار روپے نقد جرمانہ کیا۔ انہوں نے غیر معیاری مشروبات کی ایجنسی کو سیل کردیا جوکہ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے Stingکی جگہ Strong نام سے مشروب دکانداروں کو فروخت کررہے تھے۔ چترال کے عوامی حلقوں نے اے۔ سی چترال کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
آل پاکستان مسلم لیگ ضلع چترال یوتھ ونگ کے جنرل سکرٹر ی انعام اللہ دوسرے عہدہ داروں سمیت پارٹی سے ا حتجاجاً مستعفی ۔
بونی (جمشید آحمد)آل پاکستان مسلم لیگ ضلع چترال یوتھ ونگ کے جنرل سکرٹری انعام اللہ نے اپنے ایک اخباری بیاں میں کہا ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی اور مر کزی قیادت پارٹی امور میں بے جا مداخلت اور کارکنوں کو نظر انداز کر کے اپنے مارضی سے پارٹی میں ردوبدل کر رہے ہیں جسکی تمام یوتھ ونگ ضلع چترال شدید مذمت کر تے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مر کزی اور صوبائی قیادت صرف ضلع چترال کے نام کو لیکر پارٹی میں اپنا سیاست چمکارہے ہیں حالانکہ ان کے اپنے حلقوں میں موجودہ وقت میں ایک کونسلر بھی موجودنہیں ہے اور پارٹی کو چترال میں کمزور کر نے کی ناکام کوشیش میں مصروف ہیں ۔ حالیہ اقدام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے لہذا ان کی اس فیصلے اور کارکناں کو ہمیشہ نظر انداز کر نے کی باعث ضلعی یوتھ قیادت تمام ضلعی یوتھ عہدہداروں کے ہمراہ احتجاجاً مستعفی ہونے کا اعلان کر تا ہے اور ایندہ کا لائحہ عمل پارٹی کے سینئروں سے مشاورت کے بعد عید کے فورا بعدکیا جائے گا
مکتوب چترال
بشیر حسین آزاد
بجلی بلوں کی 100فیصد ادائیگی
’’پانی نہ بجلی‘‘ کے وزیر مملکت عابد شیر علی اور وفاقی وزیر خواجہ آصف اپنی ہر تقریر میں خوشخبری دیتے ہیں کہ جن اضلاع میں بجلی بلوں کی 100فیصد ریکوری ہوگی ان اضلاع میں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائیگی۔مگر یہ خوشخبری جھوٹی ہے اورافطاری ،تراوے اور سحری میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے حکومتی دعوے بھی جھوٹے نکلے ۔اگر ملک کے دیگر حصوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی خوشخبری درست ہے تو پھرعوام پر واضح کیا جائے کہ کیا ضلع چترال پاکستان کا حصہ ہے کہ نہیں؟چترال ٹاون میں بجلی بلوں کی ادائیگی اور ریکوری 100فیصد ہے۔اس کے باوجود چترال ٹاون میں روزانہ18گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔یہاں کے لوگ درگئی اور دیگر علاقوں کے صارفین کی طرح واپڈا کے دفتروں کو آگ نہیں لگاتے ٹرانسفارمروں کو نہیں جلاتے ،روزانہ 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب برداشت کرلیتے ہیں۔اسلام آباد ،پشاور اور لاہور میں بھی بجلی کا بحران ہے۔وہاں لوڈشیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول دیا گیا ہے۔رات دس بجے ایک گھنٹہ یا صبح چھ بجے ایک گھنٹہ باقی 23گھنٹے بجلی بلاتعطل فراہم کی جاتی ہے۔روزانہ ایک گھنٹے یا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے اوقات لوگوں کو معلوم ہیں۔وہ اپنی معمولات اس حساب سے پوری کرلیتے ہیں۔وہاں بجلی بلوں کی ادائیگی یا ریکوری 30فیصد سے بھی کم ہے۔چترال ٹاون میں بجلی کا مسئلہ گذشتہ چار سالوں سے بہت خراب ہے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے سے پہلے عوامی مطالبے پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول دیا جاتا تھا۔مقامی بجلی گھر سے دن کے وقت بازار،دفاتر اور ہسپتال کو بجلی دی جاتی تھی۔مسلم لیگ(ن) کی حکومت اور مقامی قیادت سے مایوس ہوکر چترال ٹاون کے عوام کی پاؤر کمیٹی نے سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹیو شہزادہ مسعود الملک سے رجوع کیا۔ایس آر ایس پی نے گولین میں دو میگاواٹ کا بجلی گھر ٹاون کے صارفین کے لئے تعمیر کیا۔یورپی یونین نے 33کروڑ روپے دیے اب بجلی گھر تیار ہے۔دومیگاواٹ بجلی موجود ہے۔مگر واپڈا بجلی گھر کو ہاتھ میں لینے سے انکاری ہے۔سارا بوجھ ایس آر ایس پی کے اوپر ڈالا جارہا ہے ،پیڈو کے حکام اپنی ٹرانسمیشن لائن دینے کے بعد وعدے سے مکر گئے ہیں۔اور ٹاون کو بجلی کی فراہمی میں قسم قسم کے بہانوں سے کام لیا جارہا ہے۔ضلع ناظم مغفرت شاہ نے ہائیڈرو پاؤر کے ایکسپرٹ انجینئر بشیر احمد،پاؤر کمیٹی کے اراکین،وی سی ناظمین،واپڈا حکام اور صحافیوں کو لیکرگولین میں دومیگاواٹ بجلی گھرکا دورہ کیا ۔توچار افسوسناک انکشافات ہوئے۔پہلا انکشاف یہ تھا کہ بجلی گھر کی مشینری میں خرابی ہے اس خرابی کو دور کرنے کے لئے چین سے انجینئر بلانے کی ضرورت ہے مشینری میں پتھر اور لوہے کے ٹکڑے آنے کے انکشافات ہوئے ہیں۔دوسرا بڑا انکشاف یہ تھا کہ ایس آر ایس پی نے گذشتہ دوسالوں میں پیڈو اور واپڈا کے ساتھ بجلی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں کیا۔تیسرا بڑا انکشاف یہ تھا کہ بجلی گھر کو چلانے کے لئے ٹیکنیکل اسٹاف دستیاب نہیں ہے اور چوتھا حیرت انگیز انکشاف یہ تھا کہ پاؤر کمیٹی کا بجلی گھر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔اب تک یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ بجلی گھر پاؤر کمیٹی بنارہی ہے۔ان انکشافات کے بعد ضلع ناظم نے حکم دیا کہ دو دن بعد چترال ٹاون کو بجلی دیدی جائے۔دودن گذرگئے تیسرا دن بھی آیا۔بجلی نہیں آئی۔اب چترال ٹاون کے عوام،وکلاء اور کاروباری مراکز بازار ،ہسپتال اور دفاتر کے60ہزار صارفین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ واپڈا کے ذریعے ٹاون کے صارفین کو بجلی فراہم کی جائے اگر لوڈ شیڈنگ کرناہے تو روزانہ ایک گھنٹے یا دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا باقاعدہ شیڈول دیدیا جائے۔ہرجگہ ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک بناہوا ہے، شیڈول پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا،انتظامیہ کی رٹ کو چلینج کیا جارہا ہے۔انتظامیہ بے بس ہوچکی ہے چترال کے منتخب نمائندے اور سیاسی نمائندے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھنچنے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر ایس آر ایس پی دومیگاواٹ بجلی گھر کو سیاست سے پاک کرکے عوام کو سہولیات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور نیشنل گرڈ سے چترال کو ملنے والی بجلی کی کم وولٹیج اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے بھی اپنا بھرپورکردار ادا کرے۔اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ،ضلعی حکومت،ایم این اے ،ایم پی ایز، واپڈا،ایس آر ایس پی اور پیڈو حکام چترال میں بھی درگئی جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انتقال پُرملال ۔۔ سنیئر صحافی محمد رحیم بیگ لال کے والد مخترم انتقال کرگئے
چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)سنگور سنگلاندہ کے شیر قلی بیگ لال انتقال کرگئے۔مرحوم محمد انور بیگ لال،سینئرصحافی محمد رحیم بیگ لال،محمد ظہیربیگ لال اورمحمد شہباز بیگ لال کے والد تھے۔اُن کی نماز جنازہ یکم جون کو سنگلاندہ سنگور میں 10بجے ادا کی جائیگی۔
