یومِ استاد: اندھی تقلید سے تنقیدی شعور تک – تحریر: عبدالکریم کریمی آف غذر
.
تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کبھی جامد جھیل کی مانند ساکت نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسے رواں دواں دریا کی طرح ہے جو نئے راستے بناتا ہوا سمندر کی جانب بڑھتا ہے۔ اس دریا کی روانی کا سب سے خوبصورت راز ان فکری اختلافات اور سوالات میں پنہاں ہے جو استاد اور شاگرد کے درمیان جنم لیتے رہے۔ اگر یونانِ قدیم کے تین عظیم فلسفیوں سقراط، افلاطون اور ارسطو کو دیکھا جائے تو ان کی فکر کا تسلسل اندھی عقیدت کے بجائے علمی تنقید، اعتراض اور اصلاح کی ایک تابناک مثال ہے۔ یہی وہ علمی میراث ہے جو تاریخ کے ہر دور میں انسان کو نئے افق بخشتی آئی ہے۔
سقراط نے فلسفے کا آغاز کسی بلند و بالا نظریے سے نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کو جنجھوڑنے اور سوال اٹھانے کے فن سے کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ ’’فضیلت ہی عین علم ہے‘‘ (Virtue is Knowledge) سقراط کا بنیادی مقصد انسان کے اخلاق، عمل اور اس کے اندرونی و خارجی رویوں کی اصلاح تھا۔ لیکن اس کے ذہین شاگرد افلاطون نے اس بات کو یوں محسوس کیا کہ محض عمل اور اخلاق پر بات کرنا کافی نہیں۔ اگر سچائی، عدل اور خوبصورتی کو سمجھنا ہے، تو اس مادی اور فانی دنیا سے اوپر اٹھ کر دیکھنا ہوگا۔ چنانچہ افلاطون نے اپنا مشہور ’’نظریہ عالمِ مثال‘‘ (Theory of Forms)یش کیا۔ سقراط کا زمینی اور عملی انداز افلاطون کے اس مجرد اور ماورائے طبیعیات نظریے سے میل نہیں کھاتا تھا، کیونکہ سقراط کے لیے حقیقت انسانی عمل میں پوشیدہ تھی، کسی پراسرار عالمِ مثال میں نہیں۔
پھر افلاطون کی اکیڈمی سے ارسطو جیسا عبقری ذہن ابھرا۔ بیس برس تک اپنے استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کے بعد، جب ارسطو نے اپنا فکری سفر شروع کیا تو اس نے افلاطون کے عالمِ مثال پر شاندار علمی محاکمہ کیا۔ ارسطو نے استاد کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی علم کا منشور ہے: ’’افلاطون مجھے عزیز ہے، لیکن سچائی مجھے افلاطون سے بھی زیادہ عزیز ہے۔‘‘ ارسطو نے سچائی کی تلاش کے لیے نگاہیں آسمان سے ہٹا کر زمین پر جمائیں، اور مشاہدے، منطق اور سائنس کی بنیاد رکھی۔ یہ استاد اور شاگرد کا اختلاف کوئی شخصی انا کا معرکہ نہیں تھا، بلکہ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے عقلِ انسانی کے بند دریچے کھلے۔
عالمی یومِ استاد کے اس پرمسرت پر جب ہم اپنے معاشرے اور تعلیمی نظام کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ فکری تسلسل ہمیں ایک نئے اور گہرے تناظر میں دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی سماج میں استاد کا رتبہ ہمیشہ سے انتہائی بلند، قابلِ احترام اور روحانی باپ والا رہا ہے۔ ہمارے یہاں استاد کو محض ایک تدریسی شخصیت نہیں بلکہ اخلاق و تربیت کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس احترام کو اکثر اوقات ’’اندھی تقلید‘‘ اور ’’فکری جمود‘‘ میں بدل دیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں بالعموم اور کلاس رومز میں بالخصوص استاد کو ایک ایسے منبع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کی کہی ہوئی ہر بات حرفِ آخر ہوتی ہے، اور شاگرد کو ایک ایسے خاموش متبع کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا کام صرف سنی ہوئی باتوں کو رٹ کر امتحانات میں دہرانا ہے۔
اس فکری جمود اور عملی بے حسی کا تلخ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے علم و حکمت کا گہوارہ بننے کے بجائے محض سندیں اور ڈگریاں تقسیم کرنے والے کارخانے بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ حقیقت میرے بارہا ذاتی مشاہدے اور تجربے میں آئی ہے کہ ملک کے انتہائی نامور اور معتبر اداروں سے سندِ فراغت حاصل کرنے والے ممتاز طلبہ سے جب بھی ادب، فلسفے، تاریخ یا جدید دور کے پیچیدہ معاشی و فکری مسائل پر ذرا گہرا تلازمِ خیال قائم کرنے کی کوشش کی جائے، تو ان کی جانب سے فکر انگیز مکالمے کے بجائے اک ناخوشگوار خاموشی اور عدمِ معلوما ت کی معذرت ہی سامنے آتی ہے۔
حد تو یہ ہے۔۔۔ اور اسے تعلیمی المیے سے تعبیر نہ کیا جائے تو اور کیا کہیں۔۔۔ کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی جیسی اعلیٰ ترین علمی سندیں رکھنے والے صاحبِ علم افراد بھی ایسے ملتے ہیں جنہیں اگر کسی بظاہر سادہ مگر فکری موضوع پر محض دو سطریں بذاتِ خود تحریر کرنے کی زحمت دی جائے، تو وہ اظہارِ عجز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی روشن دلیل ہے کہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم فکرِ تنقیدی(Critical Thinking)، استدلال اور تخلیقی تحریر کے جوہر کو پروان چڑھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے؛ یہاں کاغذ کی ڈگری تو باآسانی حاصل ہو جاتی ہے، مگر بصیرت، آراستگیِ فکر اور دانشِ باطنی سے کشکولِ ذہن یکسر خالی رہتا ہے۔
آج کے پاکستانی سماج کو ایک ایسے تعلیمی انقلاب کی شدید ضرورت ہے جو استاد اور شاگرد کے اس فرسودہ تعلق کو بدلے۔ دورِ حاضر کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا، مصنوعی ذہانت(AI)، کوانٹم فزکس اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں روایتی رٹہ بازی اور نمبروں کی دوڑ اب دم توڑ رہی ہے۔ جب تک ہمارے تعلیمی ادارے شاگردوں کو سوال اٹھانے، اختلاف کرنے اور تنقیدی زاویے سے سوچنے کی آزادی نہیں دیں گے، ہم فکری طور پر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ نیوٹن کے نظریات پر آئن اسٹائن کا سوال اٹھانا اور افلاطون کے فلسفے پر ارسطو کی جرح اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ترقی کا پہیہ صرف اس وقت گھومتا ہے جب نئی نسل اپنے اسلاف کی بنیادوں پر شائستہ تنقید اور تحقیق کی عمارت تعمیر کرتی ہے۔
پاکستانی اساتذہ کو اب اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا اصل کمال شاگرد کو نمبروں کا انبار لگا کر دینے والا روبوٹ بنانا نہیں ہے، بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ جب تک ہم بچوں کو اس ڈر میں رکھیں گے کہ ’’سوال پوچھنا گستاخی ہے‘‘ یا ’’کتابی عبارت سے ہٹ کر سوچنا جرم ہے‘‘، تب تک ہمارے ہاں رٹی رٹائی ڈگریاں تو پیدا ہوتی رہیں گی لیکن کوئی نیا ارسطو، کوئی نیا ابنِ خلدون یا کوئی نیا سائنس دان جنم نہیں لے گا۔ ایک حقیقی اور مخلص استاد وہی ہے جو اپنے شاگرد کو اپنی بات اندھا دھند تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے اسے یہ سکھائے کہ وہ خود حقائق کی تہہ تک کیسے پہنچے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ علم کی عمارت کبھی بھی جمود، اندھی تقلید یا شخصیت پرستی کی بنیادوں پر استوار نہیں ہو سکتی۔ عالمی یومِ استاد کے اس موقع پر ہمارا سب سے بڑا عزم یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے تدریسی نظام کو نمبروں کی اندھی دوڑ اور سرٹیفکیٹس کے حصار سے آزاد کریں۔ استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے شاگردوں کو نمبروں کے چکر سے نکال کر ان کے ذہن کے بند دریچے وا کرنے پر پوری توجہ دے، تاکہ ہمارے نوجوان اس فکری سائے سے باہر نکل کر سچائی اور تخلیق کی نئی جہتوں کو تلاش کر سکیں۔۔۔ کیونکہ یہی وہ شائستہ اختلاف اور سوال اٹھانے کی جسارت ہے جو پاکستانی معاشرے کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر آگاہی اور ارتقاء کی لازوال روشنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔