سنیٹر محمد طلحہ محمود کا چوتھی بار سنیٹر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ چترال آنے پر لواری ٹنل سے لے کر چترال ٹاؤن تک عوام نے درجنوں مقامات پرانکا پرتپاک استقبال کیا
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) محمدطلحہ محمود فاونڈیشن کے چیرمین سنیٹر محمد طلحہ محمود کا چوتھی بار سنیٹر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے بیٹے محمد شمروز خان طلحہ محمود کی معیت میں چترال آنے پر لواری ٹنل سے لے کر چترال ٹاؤن تک عوام نے درجنوں مقامات پر پرتپاک استقبال کیا جن میں عشریت، میرکھنی، نغر، کالی کٹک، دروش، کیسو، گہریت، ایون، بروز، چمورکھون اور ژوغور شامل ہیں۔ لواری ٹنل سے شروع سنیٹر طلحہ محمود کا قافلہ چترال شہر میں اتالیق پل پر پہنچ کر احتتام پذیر ہوئی جہاں بڑی تعداد میں عوام ان کے منتظر تھے جنہوں نے انہیں چترالی ٹوپی اور پھولوں کا ہار پہنایاجس کے بعد انہوں نے مختصر خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اب سینیٹ کے اندر چترال کے مسائل بھرپور اور مضبوط انداز میں پیش کئے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چترال سے غربت اور پسماندگی کا خاتمہ کیا جائے گا اور چترال کی تعمیر نو کے لئے تمام وسائل اور توانائی استعمال کیا جائے گا۔ سنیٹر طلحہ محمود نے گزشتہ 77سالوں کے دوران چترال کی نمائندگی کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ جواقتدار سے پہلے سائیکل میں گھومتے تھے وہ بڑی بڑی گاڑیوں کے مالک بن گئے اور جو پہلے کرائے کے گھر میں رہتے تھے، ان کے عالیشان گھر تعمیر ہونے لگے لیکن اب یہاں غریبوں کے گھر تعمیر ہوں گے۔
سنیٹر طلحہ محمود نے ملاکنڈ ڈویژن میں تاجروں پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ اس ظالمانہ فیصلے پر عملدرامد کے بارے میں سوچنا بھی گناہ ہے کیونکہ یہاں پر غربت اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات سے معیشت تباہ ہوکر رہ گئی ہے تو ان پر ٹیکس لگانا کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے کو اگر آگے بڑہانے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برامد ہوں گے۔
بعدازاں انہوں نے موٹرگاڑیوں کے قافلے میں چترال شہر کے مختلف بازاروں سے ہوکر دواشش ژوغور میں اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔سنیٹر طلحہ محمود لویر اور اپر چترال کے مختلف علاقوں اور وادیوں کا دورہ کریں اور فاونڈیشن کے زیر اہتمام مختلف منصوبہ جات کا دورہ کریں گے جن میں نوجوانوں کے لئے خود روزگار اسکیم بھی شامل ہیں۔




