افغانستان سے بازیاب کالاش ویلی کے تین باشندے چترال پہنچ گئے، سینیٹر طلحہ محمود کا پرتباک استقبال
افغانستان سے بازیاب کالاش ویلی کے تین باشندے چترال پہنچ گئے، سینیٹر طلحہ محمود کا پرتباک استقبال
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) سینیٹر محمد طلحہ محمود گزشتہ سات ماہ سے افغانستان میں مغوی کالاش شیخاندہ کے تین باشندوں کو بازیاب کرا کے چترال پہنچ گئے۔ لواری ٹنل پہنچنے پر مغویوں کے اہلِ خانہ اور مقامی عمائدین کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر رشتہ داروں اور علاقے کے عوام نے سینیٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
یادرہے کہ تقریبا سات مہینے پہلے کالاش ویلی کے شیخاندہ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوان غلطی سے بونڈری پار کرکے افغانستان کے حدود میں داخل ہونے پر انھیں وہاں پر یرغمال بناکر قید میں رکھا گیا تھاا، جن کی رہائی کیلئے سینٹر محمد طلحہ محمود نے کوشش کی اور انھیں رہائی دلواکر چترال پہنچا دیا ۔
لواری ٹنل سے چترال شہر تک مختلف مقامات پر سینیٹر طلحہ محمود کے اعزاز میں استقبالیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ عشریت، میرکھنی، دروش اور دیگر مقامات پر انہوں نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے چترال کی ترقی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایوانِ بالا میں چترال کے مسائل بھرپور انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں، تاہم بعض عناصر ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ایک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جب انہوں نے چترال کے مسائل پر بات کرنا چاہی تو سینیٹر فلک ناز نے انہیں بار بار روکنے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے بحث سے گریز کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بطور پاکستانی شہری انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کے کسی بھی حصے سے الیکشن میں حصہ لیں۔ “اگر کوئی ووٹ نہ دینا چاہے تو یہ اس کی مرضی ہے، مگر میرے خلاف منفی بیانیہ بنا کر عوام کو گمراہ کرنا افسوسناک ہے، انہوں نے مخالفین سے اپیل کی کہ چترال کی ترقی اور پسماندگی کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ کالاش ویلی کے تینوں مغویوں کی رہائی کے لیے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی اور انہیں موت کے منہ سے نکال کر ان کے پیاروں تک واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں،
دروش میں جلسے کے دوران پی ٹی آئی کے بعد سیاسی کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی اور مداخلت کی کوشش کی گئی اور پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے ہوائی فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی گئی۔ تاہم حالات کشیدہ ہونے سے پہلے سینیٹر طلحہ محمود اپنی تقریر مکمل کرکے وہاں سے روانہ ہوگئے۔
دریں اثنا امیر جماعت اسلامی لوئیر چترال وجیہ الدین نے کہ اہے کہ سینیٹر طلحہ محمود اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے مابین پیش آنے والا واقعہ نہایت ہی افسوسناک ہے۔
ایک پر امن علاقے میں سیاسی ورکروں کا آپس میں تصادم اور فائرنگ کی نوبت تک بات پہنچنا ہر گز نظر انداز کرنے والا واقعہ نہیں ہے۔
ایک سیاسی جلوس پر دوسری سیاسی جماعت کے کارکنان کی طرف سے غیر شائستہ نعرے بازی کے ساتھ تصادم کی نیت سے آگے بڑھنا یقینا قابل مذمت ہے۔ اس طرح کے نفرت انگیز واقعات ہمارے علاقے کے مجموعی مزاج سے مناسبت نہیں رکھتے.





