وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا چترال کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کا اعلان، نوٹفیکیشن جلد بھیج دونگا۔..۔پرویز خٹک
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سائیکل لے کر سیاست میں آنے والے لینڈ کروزروں میں پھر رہے ہیں جوکہ اس ملک میں کرپٹ سیاسی نظام کا عکاس ہے جہاں چوروں اور لٹیروں کے ٹولے نے آزادی اور دیدہ دلیری سے ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور یہ عمران خان نے جس نے ان چوروں اور لیٹروں کو پہلی مرتبہ للکارا ہے اور آنے والے الیکشن میں پختونخوا کے عوام نے عمران خان کا بھرپور ساتھ دینا ہے کیونکہ اس صوبے کے عوام نے تبدیلی کو خود محسوس کررہے ہیں جوکہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے ۔ بدھ کے روز چترال پولوگراؤنڈ میں بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تالیوں کی گونج میں ضلع چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرکے اپر چترال کو الگ ضلع کا درجہ دینے اور بونی کو اس کا ہیڈ کوارٹرز بنانے کا اعلان کیا اور کہاکہ 70سالوں سے عوام کا یہ دیرینہ مطالبہ پی ٹی آئی حکومت نے پورا کردیا ۔ وزیر اعلی نے نے کہا ۔ کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائد عمران خان کی قیادت میں چترال کے مسائل پر بھر پور توجہ دی ہے ۔ چائنا میں سی پیک کا منصوبہ منظور ہو چکا ہے ۔ چترال میں 1400میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے جاری ہیں جو ایف ڈبلیو او اور چائنیز انجینئرز کے ذریعے مکمل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ، کہ ہم نے ریسکیو 1122کی منظوری دی ، جوڈیشل کمپلیکس تعمیر کرایا ۔ یونیورسٹی کی منظوری دی اور چترال کی تزئن و آرائش کیلئے 55کروڑ روپے دیے ۔ زلزلے اور سیلاب میں بھاری فنڈ متاثرین میں تقسیم کئے ۔ اور نوجوانوں کیلئے دروش چترال میں پلے گراؤنڈ تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ وزیر اعلی نے چترال میں ایک اور پلے گراؤنڈ اور پارک کی تعمیر کا اعلان کیا ۔ وزیر اعلی نے تحریک انصاف کے صدر عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ملک اور چترال کے نوجوانوں کی آپ کے ساتھ جذباتی محبت چوروں اور ڈاکووں کے خلاف آپ کے جہاد کا نتیجہ ہے ۔ اللہ پاک نے آپ کو ہمت دی ہے ۔ آج ملک کو لوٹنے والے یہ سوال کر رہے ہیں ۔ کہ مجھے کیوں نکالا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کرپٹ لوگوں حکمرانوں نے تعلیم صحت ، پولیس اور تمام اداروں کو تباہ کیا ۔ وزیر اعلی نے کہا ۔ کہ اس ملک میں غریب عوام کے ساتھ جو ظلم اور جبر ہو چکا ہے ۔ وہ نقابل بیان ہے ۔ سکولوں ہسپتالوں میں عوام کو ئی سہولتیں دستیاب نہیں تھی ۔ ہم نے نہ صرف سہولتیں دیں ، اساتذہ کی ،عمارتوں کی کمی پوری کی ۔ بلکہ نصاب میں قرآن کو شامل کرکے بچوں کیلئے دین و قرآن سیکھنے کا راستہ ہموار کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ غریبوں کے بچے جب تعلیم میں امیروں کے بچوں کو پیچھے چھوڑ جائیں گے ۔ تو انقلاب آئے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ ہم نے غریبوں کے علاج کیلئے 14لاکھ صحت کارڈ تقسیم کئے ہیں جبکہ مزید 10لاکھ کارڈ تقسیم کریں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس کو ہم نے سیاست سے آزاد کر دیا ہے اب یہ لوگ آپ کی خدمت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ ماحول کو درست کرنے کی طرف اہم قدم ہے ۔ اس پہلے ظالموں نے جنگلات بیچ کر کھایا ۔ جس کی وجہ سے گلیشئر اب تباہی کے دھانے پر ہیں ۔ ہم نے دوبارہ جنگلات سے صوبے کو آباد کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اور ہمیں کامیابی ملی ہے ۔ پرویز خٹک نے کہا ۔ کہ دُنیا میں جتنی بھی تبدیلی آئی ۔ وہ نظام کی تبدیلی سے آئی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک کے حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ بہت ظلم کیا ۔ جو سائیکل لے کر آئے وہ لینڈ کروزر لے کر چلے گئے ۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ اس ملک میں چور اور ڈاکو حکومت کریں گے ۔ تو آپ کھبی خوشحال نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہا ۔ کہ آیندہ الیکشن میں ڈاکو اور لٹیرے دوبارہ نجومی بن کر ووٹ کیلئے آپ کے پا س آئیں گے ۔ اس لئے آن کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے مقامی قائدیں ایم پی اے بی بی فوزیہ ، رحمت غازی اور عبداللطیف نے خطاب کرتے ہوئے پارٹی قائد کو یقین دلایا کہ اگلے سال منعقد ہونے والے الیکشن میں چترال کے عوام ان کے بھر پور ساتھ دیں گے اور انہوں نے موجودہ حکومت کی خدمات پر روشنی ڈالی۔












قائد پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ 8نومبر کو چترال پولوگراونڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرینگے۔ رہنما پی ٹی آئی
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ایم پی اے چترال اور پالیمانی سیکرٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ اور پارٹی رہنما عبداللطیف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ قائد تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی پرویز خٹک کی طرف سے متوقع اپر چترال ضلع کا اعلان چترال کے لوگوں کیلئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے ۔ اور اس سے چترال کے کئی مسائل حل ہوں گے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت نے چترال کا پچاس سالہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے ۔ جس کا لوگ شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ قائد پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلی 8نومبرکو چترال کا دورہ کریں گے ۔ جبکہ اس سے قبل 7نومبر کا اعلان کیا گیا تھا ۔ عبد اللطیف نے کہا ۔ کہ چترال کے سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ چترال کی روایات کے مطابق آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا ہے ۔ اور اب بھی یہ اُمید ہے ۔ کہ تمام پارٹیوں کے قائدین اور کارکناں پارٹیوں سے بالاتر ہو کر اپنے مہمانوں کا فقیدالمثال استقبال کریں گے ۔ انہوں نے متوقع ضلع کے بارے میں خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہمیں توہمات کا شکار ہونے کی بجائے اُس کے بہتر مستقبل کی امید رکھنی چاہیے ۔ اس سلسلے میں کام ہو چکاہے ۔ اور باقیماندہ کام ضلع کے اعلان کے بعد کیا جائے گا ۔ انہوں کہا ۔ کہ ضلع کے اعلان کے بعد پی سی ون تیار کیا جائے گا ۔ اور اُسکے مطابق اقدامات کئے جائیں گے ۔ بی بی فوزیہ نے کہا ۔ کہ کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔آنے والی حکومت بھی تحریک انصاف کی ہوگی ۔ اور ضلع کے ترقیاتی کام تحریک انصاف ہی انجام دے گی ۔ دونوں رہنماؤں نے ضلع کیلئے کوشش کرنے پر قائد تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اور کہا ۔ کہ خان صاحب کی کوششوں سے ہی ضلع کا قیام ممکن ہونے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ضلع کا نام اپر چترال ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اس کے بغیر چترال والوں کی شناخت میں مسائل پیدا ہوں گے ۔ کیونکہ چترال کے تمام لوگ منفرد تہذیب و ثقافت کے حامل ہیں ۔ اس لئے چترال کے لفظ کی بجائے کوئی اور نام نہ صرف اس کے شناخت ختم کرنے کے مترادف ہو گا ۔ بلکہ اس کے کلچر کو بھی مٹانے کوشش قرار دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ اپر چترال کو قدرت نے پانی کے ذخائر سے مالا مال کیا ہے ۔ اور حکومت 300میگاواٹ ہائیڈل پاور سٹیشن صرف دو سائٹس میں تعمیر کر رہا ہے ۔ مستقبل میں اس ضلع کیلئے اس کی رائیلٹی ہی کافی ہوگی ۔ اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں ۔


