پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان، پاکستانی موبائل فون سم بلاک نہیں کی جائے گی
پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان، پاکستانی موبائل فون سم بلاک نہیں کی جائے گی
اسلام آباد( نمائندہ چترال ٹائمز) پی ٹی اے نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب تارکین وطن اپنی موبائل فون سروس میں تسلسل برقرار رکھ سکیں گے اور بیرون ملک قیام کے دوران ان کی پاکستانی موبائل فون سم بلاک نہیں کی جائے گی۔پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی موبائل سم کی ملکیت برقرار رکھ سکیں۔
پی ٹی اے کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعلقہ موبائل کمپنی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو ضروری مواصلاتی سہولیات تک مسلسل رسائی حاصل رہے گی، جس سے ان کے لیے پاکستان سے رابطہ برقرار رکھنا آسان ہو جائے گا۔اتھارٹی کے مطابق پی ٹی اے بیرون ملک پاکستانیوں کو بااختیار بنانے کے لیے پْرعزم ہے اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل رابطوں کی توسیع کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔
۔
؛
۔
ٹیکس اور سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں، نیپرا
اسلام آباد(سی ایم لنکس)نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسز، ڈیوٹیز اور سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 24-2023 میں بجلی کمپنیوں کے نقصانات 18.31 فیصد رہے، نیپرا نے ڈسکوز کیلیے نقصانات کی حد 11.77 فیصد مقرر کر رکھی ہے، ڈسکوز نقصانات کے باعث ایک سال میں گردشی قرض 276 ارب روپے مزید بڑھا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 24-2023 میں ریکوری کی شرح 92.44 فیصد تک رہی، وصولیاں کم رہنے سے ایک سال میں سرکلر ڈیٹ 314 ارب 51 کروڑ روپے بڑھا، کے الیکٹرک سمیت ڈسکوز کے واجبات 2 ہزار 320 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔
نیپرا کے مطابق ملک میں بجلی کی کل صلاحیت 45 ہزار 888 میگاواٹ ہے، ایک سال میں دستیاب بجلی کے استعمال کی شرح 33.88 فیصد رہی، صارفین نے استعمال نہ ہونے والی 6.12 فیصد توانائی کی قیمت بھی ادا کی، مالی سال 24-2023 میں اس کی فروخت میں نمایاں کمی ہوئی۔
